بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / نفرت کی کاشت!

نفرت کی کاشت!


پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے لئے عرصۂ حیات تنگ کرنے کی ’غیراعلانیہ حکومتی پالیسی‘ اپنی جگہ لیکن سوشل میڈیا پر جس غیرمحتاط انداز میں افغان مہاجرین کے بارے میں اظہار خیال کیا جاتا ہے‘ اس سے میزبان پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر اُبھرنے والا تاثر کسی بھی صورت ایک مسلم ملک و معاشرے اور نہ ہی ہمارے کردار کے شایان شان ہے افغان مہاجرین کو وطن واپس جانا چاہئے لیکن اِس طرح نہیں کہ میزبانی کے چالیس برس پر پانی پھر جائے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو نفرتیں کاشت کرنے سے پہلے تاریخی حقائق کومدنظر رکھنا ہوگا کہ کس طرح پاکستان کے غلط فیصلوں کی قیمت آج ان نسلوں کو چکانا پڑ رہی ہے جو اپنے بچوں‘ اثاثوں اور مفادات کو بیرون ملک نہیں رکھے ہوئے! یوں تو امریکہ پاکستان کو ہر دور میں استعمال کرتا رہا لیکن روس کیخلاف پاکستان کی سلامتی داؤ پر لگانا ایک ضرب المثل جیسی حقیقت ہے۔ روس کو افغانستان سے انخلاء پر مجبور کرکے وہ خود قابض ہو گیا ہے اور اب پاکستان اور خطے کے امن کیلئے سب سے بڑا اور ایک مستقل خطرہ ہے! سوشل میڈیا پر آزادئ اظہار سے کام لینے والی نئی نسل کو سمجھنا ہوگا کہ افغان باشندے ویسے ہی منہ اٹھائے پاکستان نہیں آئے بلکہ ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ جس سے انہیں مہاجرت اختیار کرنا پڑی اور انہیں باقدہ مدعو کیا گیا۔ سہولیات دی گئیں۔ پاکستان کے دروازے کھولے گئے۔ امریکہ کے اشاروں پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کچھ اس طرح مرتب کی گئی کہ 1977ء میں مارشل لاء کے نفاذ اور 1988ء تک ملک کے چھٹے صدر رہنے والے آمر ضیاء الحق کے دور میں پاکستان افغان دلدل میں دھنستا چلا گیا اور اِس کے نتیجے میں 1970ء کے دوران بڑی تعداد میں افغان باشندوں نے پاکستان کا رُخ کیا ایران نے مہاجرین کو شروع دن سے کیمپوں تک محدود رکھا اور انہیں آزادانہ معاشرت کی اجازت نہیں دی لیکن پاکستان کے حکمرانوں میں اتنی بصیرت نہیں تھی کہ وہ مستقبل میں پیدا ہونیوالے بحرانوں کو دیکھ سکتے! مہاجرین کی آمد کیساتھ 300 کیمپ بنائے گئے جہاں تیس لاکھ سے زائد افراد کو رکھا گیا لیکن بڑی تعداد میں مہاجر پورے پاکستان میں پھیل گئے۔

دوسری طرف امریکہ نے روس کیساتھ اپنی سردجنگ میں پاکستان کو شامل کر لیا اسوقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے ایک وفد بھیجا جس سے مذاکرات کامیاب نہ ہونے کے بعد اکتوبر 1980ء میں جنرل ضیاء امریکہ گئے اگرچہ انکی سفر کا مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب تھا لیکن انہوں نے تین اکتوبر کو امریکی صدر جمی کارٹر سے ملاقات کی اور افغان بحران سے متاثرہ پاکستان کی صورتحال انکے سامنے رکھی! ظاہر ہے کہ امریکی صدر کو پاکستان کا نہیں اپنے ملک کا مفاد دیکھنا تھا اور یہی ہوا کہ جمی کارٹر کے بعد جنوری انیس سو اکیاسی میں امریکہ کے صدر بننے والے رونالڈ ریگن نے غیرمعمولی مالی امداد اور اسلحہ دیکر فوجی آمر کا منہ بند کردیا امریکہ کی ظاہری مالی امداد سے زیادہ بڑا حجم (دو ارب ڈالر) پوشیدہ امداد کا تھا‘ جو افغان جنگجوؤں کے لئے ارسال کی گئی تاکہ وہ روس کے خلاف مزاحمت کر سکیں دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے افغانوں کو اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت دی اور روسی افواج پر گوریلا حملوں سے تصادم شروع ہوا‘ جسے مزید پرکشش بنانے اور سادہ لوح افغانوں کو اس میں شریک کرنے کیلئے ’جہاد ‘ کہا گیا! یہ منظرنامہ بڑا بھیانک تھا اس دوران پاکستان کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے ضیاء الحق کی مرضی کے برخلاف ’جنیوا معاہدے‘ کے تحت قیام امن کا مطالبہ کیا روس کے سربراہ میخائل گورباچوف نے 1978ء میں امریکہ صدر ریگن کو مطلع کردیا تھا ۔

روس افغانستان سے اپنی افواج کا انخلاء کر رہا ہے۔ 14مارچ1988ء کے روز جنیوا معاہدے پر دستخط ہوئے‘ جس سے افغانستان میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی اس جنگ کے دور کا اختتام ہوا جس میں روس کے 8 ارب ڈالر اور 13 ہزار 300 فوجی مارے گئے! افغان حکومت کے 2لاکھ فوجی الگ سے قتل ہوتے ہیں۔ لاکھوں زخمی‘ لاکھوں بے گھر‘ لاکھوں مہاجر اور افغانستان کے مرکزی شہر بالخصوص دارالحکومت کابل ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے! اور پھر افغان خانہ جنگی شروع ہوتی ہے جس کا سلسلہ وقفوں وقفوں سے جاری رہتا ہے اور تاحال اَفغانستان میں ’امن‘ بحال نہیں ہوسکا۔ (متحدہ) روس تحلیل ہو گیا لیکن افغانستان سے جڑے امریکی مفادات ابھی ختم نہیں ہوئے اور نہ ہی پاکستان کے حکمرانوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ 1982ء سے 1987ء کے عرصے میں ملنے والی 3.2 ارب ڈالر کی امریکی امداد کا مصرف کیا رہا؟ افغان جہاد‘ خانہ جنگی اور افغان مہاجرین کے مصائب و مشکلات پاکستانی فیصلہ سازوں کیلئے خوش قسمتی ثابت ہوئے! ورنہ اس سے قبل عسکری اور سیاسی حکمران کبھی بھی اندرون و بیرون ملک اس قدر اثاثوں کے مالک نہیں تھے!