بریکنگ نیوز
Home / کالم / بیانات کا تضاد

بیانات کا تضاد


 

ہمارا خیال ہے کہ شاید اردو کی جائے پیدائش میں لوگ کاشتکار نہیں تھے اسی لئے ہمیں اپنیزبان کے ایک روزمرے میں استعمال ہونے والے لفظ ’’ترنگڑی ‘‘کا متبادل نہیں ملا۔ ترنگڑی وہ جالا ہوتا ہے کہ جس میں کاشتکار گندم کی گہوائی کے بعد بھوسا ڈال کر گھروں کو لے کر جاتے ہیں ۔ یہ ایک جالا نما چیز ہوتی ہے کہ جس میں اور کوئی چیز ڈال کر نہیں لے جائی جا سکتی۔ ہمارے ہاں ایک روزمرہ ہے کہ جو کام ان ہونا ہو یعنی جو کام ممکن نہ ہو توکہتے ہیں کہ یہ کام مینڈکوں کو ’’ ترنگڑی‘‘ میں ڈال کر لے جانے کے مترادف ہے۔ہمیں لگتاہے کہ ہماری جے آئی ٹی بھی مینڈکوں کو ترنگڑی میں ڈال کر لے جا رہی ہے۔ اس لئے کہ کبھی ایک مینڈک پھدک جاتا ہے اور کبھی دوسرا مینڈک پھدک کر ترنگڑی سے باہر نکل جاتا ہے۔ادھر حال یہ ہے کہ کسی کا کاروبار سعودی عرب میں ہے تو کسی کابرطانیہ میں۔ کسی نے قطر میں دکان کھول رکھی ہے تو کوئی دبئی کو اپنا مرکز بنا کر کاروبار میں لگا ہوا ہے۔ کوئی پیپر ملز کا مالک ہے تو کوئی شوگر مل سے کمارہا ہے۔ اب جے آئی ٹی کے ممبران ہیں کہ وہ کوئی سرا تلاش رہے ہیں کہ جس کو پکڑیں تو ساری مینڈکیں ترنگڑی میں آجائیں ابھی تک شریف فیملی کے تقریباً سارے ہی افراد جے آئی ٹی کے ممبران کے ہاں پیشی بھگت چکے ہیں مگر ممبران ابھی تک تسلی کی منزل سے بہت دوری پر نظر آتے ہیں۔اب خدا جانے جب یہ بیانات ہو جائیں تو اس کے بعد اپنی تسلی کیلئے جے آئی ٹی کو اور کس کس کو بلانا پڑے کہ ان سارے بیانات کو ایک لڑی میں پرویا جا سکے۔ مگر لگتا ہے کہ ترنگڑی میں ابھی اتنے سوراخ ہیں کہ کچھ اور مینڈک باہر نکل بھاگیں۔مسئلہ اتنا آسان نہیں کہ سپریم کورٹ کسی حتمی نتیجے تک پہنچ پائے۔

بات خدا جانے کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں پر ختم ہو۔ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جے آئی ٹی نے سامنے ایک ٹارگٹ سیٹ کر لیا ہو اوراس تک پہنچنے کے لئے بار بار بیانات لے رہی ہو اور اس ٹارگٹ تک پہنچ نہ پا رہی ہو۔ورنہ تو سیدھی سی بات ہے کہ جو بھی لوگ مطلوب ہیں ان کے بیانات لئے جائیں اور سارا مواد سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے رکھ دیا جائے کہ وہ جس طرح چاہیں اس پر فیصلہ دے دیں اسلئے کہ جے آئی ٹی تو صرف تحقیقی ادارہ ہے جس کا کام حقائق لیکر سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے رکھنا ہے۔اس لئے کہ لگتا یوں ہے کہ جے آئی ٹی کوئی حتمی فیصلہ کر کے بنچ کے سامنے رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے اسی لئے تو بار بار لوگوں کو بلا کر وضاحتیں طلب کر رہی ہے اور لوگوں کے بیانات میں تضاد یا موافقت ڈھونڈ رہی ہے ورنہ اگر انکی جورسڈکشن کو دیکھا جائے تو یہ صرف لوگوں کے بیانات کی روشنی میں ایک رپورٹ سپریم کورٹ کے سامنے رکھنے تک کی پابند ہے اس میں کیا تضاد ہے یا کیا موافقت ہے یہ تو سپریم کورٹ کا کام ہے سپریم کورٹ کا بنچ ان حقائق کا جائزہ لیکر اور اگر مناسب سمجھے تو متعلقہ لوگوں سے وضاحت طلب کر کے فیصلہ کر سکتی ہے جے آئی ٹی کو ئی فیصلہ کرنے والی ایجنسی نہیں ہے یہ صرف فیکٹ فائنڈنگ مشن ہے جس نے یہ دیکھنا ہے کہ مسئلے میں شامل فریق اپنی کیا وضاحتیں دیتے ہیں اور اور ان وضاحتوں پر سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرتی ہے جہاں تک سپریم کورٹ کے دو محترم ججوں کے فیصلے کا تعلق ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ جن بیانات کو سامنے رکھ کر انہوں نے وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا ہے اگر دیکھا جائے تو ہمارا کوئی بھی سیاست دان اس سطح پر صادق اور امین نہیں ہے۔ہمار اکون سا سیاستدان ہے کہ جو جھوٹ نہیں بولتا۔ ہمارے سب سے (بزعم خود ) سچے لیڈر عمران خان ہیں کیا عمران خان نے ہر جلسے اور کنٹینر پر چڑھ کر سب دنیا کے سامنے نہیں کہا تھاکہ نجم سیٹھی نے پینتیس پنکچرلگائے ہیں۔

یعنی پینتیس سیٹوں پر دھاندلی کر کے نواز لیگ کو جتوایا ہے اور پھر اسی بیان سے پھر نہیں گئے تھے اور یہ نہیں کہا تھا کہ یہ سیاسی بیان تھا۔ اسی طرح کسی بھی سیاستدان کو لے لیں ہر ایک کے بیانات میں اسی طرح تضاد ہے جس طرح وزیر اعظم کے ان بیا نات میں تضاد ہے جسکو سامنے رکھ کر ہمارے معزز دو ججوں نے وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا ہے اور جو سیاستدان ان بیانات پر اچھل کود کر رہے ہیں ان کے سینکڑوں بیانات ایسے ہیں کہ جن سے انکا جھوٹ سامنے کھل کر آتا ہے اور نواز شریف کے فارمولے کے تحت وہ بھی نا اہل ہیں۔