بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / روپے کی قدر میں کمی، بوجھ کس پر؟

روپے کی قدر میں کمی، بوجھ کس پر؟


وطن عزیز کی کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی معیشت میں گزشتہ روز ایک جانب سٹاک مارکیٹ کی خبریں سامنے آئیں تو دوسری طرف ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نوٹ ہوئی۔ بدھ کو صرف ایک دن میں روپے کی قیمت 4 روپے20 پیسے کم ہوئی جبکہ یورو کی قدر میں3روپے 60 پیسے اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ بینک دولت پاکستان نے ابتدائی طورپر اس صورتحال کو بیرونی کھاتوں میں خسارے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خصوصی اجلاس طلب کیا۔ وزیر خزانہ نے اجلاس کے بعد بات چیت میں ڈالر کی قدر بڑھنے کو سرپرائزنگ اور مصنوعی قرار دیا۔ دریں اثناء بینک دولت پاکستان اور ادارہ شماریات کے اعدادوشمار میں فرق کے حوالے سے خبررساں ایجنسی کا کہناہے کہ جاری کھاتوں کا خسارہ 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے حکومت نے اس خسارے کا ہدف8 ارب40 کروڑ ڈالر رکھا تھا۔ وطن عزیز کی معیشت ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی پر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے باعث مشکلات کا سامنا کرسکتی ہے۔ دریں اثنا حکومت نے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لئے نومبر کے آخر تک آئی ایم ایف سے دوبارہ رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی جاری کھاتوں کا خسارہ روکنے کیلئے حکام سے تجاویز طلب کرلی گئی ہیں۔پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں ایک ایسے مرحلے پر کریش ہوا ہے جب چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت بھاری سرمایہ کاری ہو رہی ہے پاکستان‘ افغانستان‘ تاجکستان اور کرغزستان 1.2 ارب ڈالر کے کاسا بجلی منصوبے کی فوری تکمیل پر اتفاق کر رہے ہیں۔ اس اہم مرحلے پر ضرورت ایک طرف روپیہ کی قدر مستحکم کرنے کی ہے تو دوسری طرف اس صورتحال کے اثرات سے عام شہری کو محفوظ رکھنے کی ہے۔ اس شہری پر پہلے ہی عالمی اداروں کی ڈیمانڈ کے مطابق یوٹیلٹی بلوں کا بڑا بوجھ ہے توانائی بحران سے پریشان اس شہری کو مہنگائی نے سخت مشکلات سے دوچارکر رکھا ہے اس پر نئے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کا بوجھ بھی لادا جا رہا ہے ایسے میں عدم استحکام سیاسی ہو یا پھر اقتصادی ضرورت اس عام شہری کی ریلیف یقینی بنانے کی ہے ناکہ اس پر کوئی نیا بوجھ نہ ڈالاجائے۔

ٹریفک کا متبادل انتظام

ٹریفک پولیس نے ریپڈبس منصوبے کیلئے تعمیرات کی صورت میں شہریوں کو مشکلات سے بچانے کیلئے متبادل روٹس کی تجویز دی ہے۔ ایس ایس پی ٹریفک تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بی آر ٹی کی تکمیل پر پشاور میں ٹریفک کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ ایسا کس تکنیکی بنیاد پر کہا جا رہا ہے اس میں پڑے بغیر پراجیکٹ پر کام کے دوران ٹریفک کے متبادل نظام کو اطمینان بخش قرار دیا جا سکتا ہے۔ ٹریفک منیجرز کو اس طرح کا انتظام شہر کے مجموعی ٹریفک پلان کیلئے ہر وقت رکھنا چاہیے۔ اسی پلان کی عدم موجودگی کے باعث جی ٹی روڈ پر کسی بھی احتجاج کی صورت میں پورے شہر کی ٹریفک بلاک ہوجاتی ہے اور کاروبار حیات بری طرح متاثر ہوکر رہ جاتا ہے شہر کی مرکزی شارع جام ہونے پر ٹریفک کا بہاؤ دوسری رابطہ سڑکوں پر ہوتا ہے جہاں صورتحال کے کنٹرول کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔ اصلاح احوال کا تقاضا ہے کہ شہر کے ٹریفک پلان کو فول پروف بنایاجائے اور کسی ہنگامی صورتحال میں متبادل راستے رکھے جائیں۔