بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / قطر کے عرب ممالک کیساتھ تعلقات مزید کشیدہ

قطر کے عرب ممالک کیساتھ تعلقات مزید کشیدہ


ریاض۔قطر کا بائیکاٹ کرنے والی چار عرب ریاستوں نے دوحہ کی جانب سے اپنے مطالبات کے مسترد کیے جانے کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیدیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب، بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات نے نئے اقدامات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔گذشتہ ماہ دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات کے بعد چاروں ممالک کے قطر کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔قطرنے خود پر لگے الزامات کی تردید کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کو بھی مسترد کر دیا تھا۔چاروں ریاستوں نے قطر کے خلاف سیاسی اور اقتصادی اقدامات کی دھمکی بھی دی ہے تاہم اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن پیر کو کویت کا دورہ کریں گے جو خلیج کے اس بحران میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔سعودی عرب اور اس کے تین عرب اتحادی ممالک کی جانب سے قطر کو پیش کیے گئے مطالبات مسترد کیے جانے کے بعد قطر پر پابندیاں برقرار رکھنے کا کہا ہے۔

بدھ کو قاہرہ میں چار عرب ممالک کے وزرا خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کہا گیا ہے کہ انھیں مطالبات کی فہرست پر قطر کے منفی ردعمل پر افسوس ہوا ہے۔وزرا خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘قطر نے صورتحال کی سنجیدگی اور اہمیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ان کا مطالبات میں الجزیرہ چینل کی بندش، ایران سے تعلقات کا خاتمہ اور دہشت گردی میں ملوث افراد کی حوالگی شامل ہے۔قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے تعلقات کے منقطع کیے جانے کو محاصرے اور توہین کے مترداف قرار دیا ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے پابندی کا شکار اخوان المسلمون سے تمام تعلقات توڑ لے۔ چاروں ممالک کے شہریوں کو بیدخل کر دے تاکہ بقول ان ممالک کے قطر کو ان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی سے روکا جا سکے۔

چاروں ممالک کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تمام افراد کو ان ممالک کے حوالے کرے۔ ایسے شدت پسند گروہوں کی مالی امداد بند کرے جنھیں امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی ان حکومت مخالف شخصیات کی فہرست فراہم کرے جنھیں قطر نے مالی مدد فراہم کی ہے۔ سیاسی، اقتصادی اور دیگر معاملات میں خلیج تعاون کونسل کے موقف سے ہم آہنگی پیدا کرے۔ الجزیرہ کے علاوہ اعرابی21 اور مڈل ایسٹ آئی جیسے خبر رساں اداروں کی مالی مدد بند کرے۔ رواں ہفتے کے اوائل میں ان کا کہنا تھا ہمارے انکار کا جواب محاصرہ اور الٹیمیٹم نہیں ہیں بلکہ مذاکرات اور وجوہ بتانا ہے۔گیس اور تیل کی دولت سے مالا مال قطر کی ریاست اپنی 27 لاکھ کی آبادی کے لیے تمام بنیادی ضروریات برآمد کرتی ہے۔چونکہ ان اس کی واحد زمینی سرحد بند کر دی گئی اس لیے اب یہں ا اشیا یا تو ہوائی جہاز سے لائی جائیں گی یا پھر سمندری راستے سے ۔