بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ٹرمپ نے روس کو بدامنی پھیلانے والا ملک قرار دیدیا

ٹرمپ نے روس کو بدامنی پھیلانے والا ملک قرار دیدیا


وارسا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادی میر پوتین سے اپنی ملاقات سے چندے قبل مغرب کو ہدف بنانے والی جارحیت کی نئی شکلوں کے مقابلے کا عزم کیا ہے اور روس پر زوردیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں بد امنی پھیلانے کا سلسلہ بند کردے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وہ گزشتہ روز اپنے دوسرے غیرملکی دورے کے پہلے مرحلے میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہزاروں افراد کے اجتماع میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے اس تقریر میں گذشتہ سال امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کی مذمت کی ہے اور نہ اس کا کوئی حوالہ دیا ہے۔البتہ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ مغرب کے مفادات کا پروپیگنڈے ، مالیاتی جرائم اور سائبر سرد جنگ کے ذریعے امتحان لیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا: ہم روس پر زوردیتے ہیں کہ وہ یوکرین اور دنیا بھر میں عدم استحکام کی سرگرمیاں اور ایران اور شام میں حکومتوں کی حمایت بند کردے۔اس کے بجائے وہ مشترکہ دشمنوں کے خلاف جنگ اور تہذیب کے دفاع کے لیے ذمے دار اقوام میں شامل ہوجائے۔امریکی صدر نے اس تقریر سے قبل ایک نیوز کانفرنس میں امریکی انٹیلی جنس کی صدارتی انتخابات میں غیرملکی مداخلت کو روکنے کے حوالے سے ساکھ پر بھی سوال اٹھادیا ہے اور کہا ہے کہ روس شاید واحد ملک نہیں تھا جس نے ان انتخابات میں مداخلت کی تھی۔انھوں نے کہا: کوئی بھی یقین سے اس بارے میں نہیں جانتا ہے۔امریکی صدر نے شمالی کوریا کو بھی خبردار کیا ہے اور اس کے ایک غیرمعمولی بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل کے حالیہ تجربے کے ردعمل میں سخت کارروائی کی دھمکی ہے۔انھوں نے تمام اقوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بہت ہی برے کردار کے حامل شمالی کوریا سے نمٹنے کے لیے میدان میں آئیں۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ صدر پوتین سے ملاقات میں صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے موضوع پر بھی بات کریں گے تو انھوں نے اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔انھوں نے ماضی میں روس پر صدارتی انتخابات میں مداخلت کا دوٹوک انداز میں الزام عاید کرنے سے گریز کیا ہے اور آج بھی انھوں نے یہی مبہم انداز اختیار کیا اور کہا کہ یہ روس ہوسکتا ہے ۔غالبا روس ہی نے یہ کیا ہوگا لیکن یہ اور ممالک بھی ہوسکتے ہیں لیکن میں کسی خاص ملک کا نام نہیں لوں گا۔ڈونلڈ ٹرمپ پولینڈ سے جرمن شہر ہیمبرگ روانہ ہونے والے تھے ۔جہاں ان کی جرمن چانسلر انجیلا میرکل سے ملاقات طے ہے ۔ پھر وہ جاپان اور جنوبی کوریا کے لیڈر وں کے ساتھ عشائیے میں شریک ہوں گے۔ہیمبرگ ہی میں جمعہ کو دنیا کے بیس بڑے صنعتی ملکوں کے سربراہ اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ اور ولادی میر پوتین کیدرمیان پہلی ملاقات ہوگی۔