بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / لاہور بغدادنہ تھا

لاہور بغدادنہ تھا


ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ’’دی کنٹریکٹر‘‘ میں ایک ایسا پاکستان نظر آتا ہے جو میں نے کبھی نہیں دیکھا’ جو آپ نے بھی شاید نہ دیکھا ہویہ وہ پاکستان ہے جو ایسے امریکنوں کو نظر آتا ہے جو یہاں چند دن یا چند مہینوں کیلئے آتے ہیں ریمنڈ ڈیوس نے ہمارے ملک میں اپنے جیسے لوگوں کے آنے جانے کو Revolving Door entry and exit کہا ہے یعنی گھومنے والے دروازے سے آنا جانا اس نے کتاب کے دوسرے صفحے پر لکھا ہے کہ وہ پاکستان دو سال میں نو مرتبہ آیا ان میں سے ایک سال اس نے پشاور اور ایک لاہور میں گذارا لاہور میں گذرے اس ایک سال کے ذکر کو چھوڑتے ہوئے اس نے کتاب کے شروع میں صرف اس ایک دن کی روئیداد لکھی ہے جس نے اسکی زندگی بدل دی میری دانست میں ستائیس جنوری2011 کے اس دن نے پاکستان کو بھی ہمیشہ کیلئے بدل دیاامریکی کنٹریکٹر نے اس دن اپنے دفتر سے نکلنے سے لیکر دو قتل کرنے تک کے روح فرسا سانحے کو اتنی مہارت ’ باریکی’ تفصیل’ وضاحت اور انشراح صدر کیساتھ بیان کیا ہے کہ اسے پڑھتے وقت ہالی ووڈ کی کسی فلم کو دیکھنے کا گمان ہوتا ہے ریمنڈ ڈیوس لکھاری نہیں اسی لئے اس نے یہ کتاب لکھنے کیلئے Storms Reback نامی چار کتابوں کے مصنف سے مدد لی ہے اس کتاب میں مزنگ چوک میں دن دیہاڑے چھ سال قبل ہونیوالے خون خرابے کا منظر اتنا خوفناک اور لرزہ خیز ہے کہ اسکی ہر سطر کو بار بار پڑھنا پڑتا ہے اسلئے نہیں کہ یہ سطور ناقابل فہم ہیں بلکہ اسلئے کہ ان میں ایک جہان معنی پوشیدہ ہے یہ وہ جہان ہے جس میں ہمیں پاکستان کے علاوہ امریکہ بھی نظر آتا ہے قتل کے اس منظر میں ہمیں ایک ایسی جنگ بھی نظر آتی ہے جو کل بھی ہمارے ملک میں جاری تھی اور آج بھی جاری ہے جو کل بھی ہمیں نظر نہ آرہی تھی اور آج بھی نظر نہیں آ رہی یہ میں نہیں بلکہ ریمنڈڈیوس کہہ رہا ہے میں اس حقیقت کو آگے چل کر اسکے لفظوں میں بیان کر وں گا۔

پہلے دو انسانوں کے سفاکانہ قتل کے اس منظر کو دیکھتے ہیں اسے دیکھنے سے پہلے ہمیں ریمنڈ ڈیوس کیساتھ سفید رنگ کی اس سیڈان کار میں بیٹھنا پڑیگا جسے چلاکر وہ مزنگ چوک تک پہنچا تھا ستائیس جنوری کے اس خون آلود دن کا ذکر کرتے ہوئے اس نے ایک فلسفہ دان کی طرح کتاب کی پہلی سطر میں لکھا ہے Funny, Isn’t it کیا یہ مذاق نہیں کہ بعض اوقات چند چھوٹے اور پیچیدہ فیصلے اکھٹے ہو کر ایک بڑی تباہی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ وہ اس دن اپنیArmored with steel گاڑی لیجا سکتا تھا جو اسے دی گئی تھی مگر ایک ساتھی کے کہنے پر اس نے وہ فولادی گاڑی اسے دیدی اور خود چھو ٹی سفید سیڈان میں نکل کھڑا ہوا اس گاڑی کیلئے اس نے Soft skinned rental car یعنی پتلی چمڑی والی کرائے کی گاڑی کے الفاظ استعمال کئے ہیں اس نے لکھا ہے کہ اس دن دیکھتے ہی دیکھتے یہ چھوٹا سا ایک غلط فیصلہ ایسے ہیبت ناک واقعے میں ڈھل گیا جسے ہمیشہ اسکے نام سے یاد رکھا جائیگا اور جس نے ایک ایسے سفارتی بحران کو جنم دیا جو دو ملکوں کے درمیان ایک بڑے تنازعے کا باعث بن گیا ‘اس دن اور اس منظر کو بیان کرنے سے پہلے ریمنڈ نے لکھا ہے کہ لاہور دس ملین لوگوں کا ایک بہت بڑا شہر ہے اس میں ان گنت یونیورسٹیاں‘مارکیٹیں‘ یادگار عمارتیں’ مسجدیں‘ ریسٹورنٹ اور سٹیڈیم واقع ہیں لاہور ایک شاندار ماضی اور کلچر رکھنے والا زندگی سے بھرپور تاریخی شہر ہے ریمنڈ نے لکھا ہے کہ اس شہر میں ایسی بے شمار دہشت گرد تنظیمیں بھی موجود ہیں جنہوں نے اسے جنگ دہشتگردی کی فرنٹ لائن میں لا کھڑا کیا ہے وہ رقمطراز ہے کہ اس شہر میں ایک سکیورٹی کنٹریکٹر کی حیثیت سے میری ذمہ داری یہاں کام کرنے والے امریکیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

واشنگٹن ڈی سی کی محفوظ سرکاری عمارتوں میں کام کرنے کے عادی ان لوگوں کو ایک ایسے ملک کی سڑکوں پر اکیلے جانے نہیں دیاسکتا جہاں امریکہ مخالف جذبات عروج پرہوں اور جہاں دہشت گرد تنظیمیں دندناتی ہوں اسکی صفحہ پانچ پر لکھی ہوئی سطور کے مطابق اس دن اسکے لاہور کی سڑکوں پر نکلنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ ان راستوں کو اچھی طرح سے دیکھ لے جن پر تین دن بعد اس نے چند سینئر افسروں کو لیکر جانا تھا اسکے چکر لگانے کا اصل مقصد کیا تھا میں یہاں اس تصویر کا دوسرا رخ بیان نہیں کرنا چاہتا میرا مقصد ایک دلخراش واقعے کو ایک بے رحم اور سفاک قاتل کے لفظوں میں بیان کرنا ہے اسی صفحے پر ریمنڈ پاکستان کے بارے میں کہتا ہے کہ اس طرح کے ملک میں آپکو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے چند روز پہلے امریکی بک سٹالوں پر آنیوالی اس کتاب میں لکھا ہےPakistan remains one of the world’s most fertile terrorist breeeding ground یعنی پاکستان دنیا بھر میں دہشت گرد پیدا کرنے کی زرخیز نرسری ہے ہمارا ریمنڈ کی اس بات سے اتفاق نہ کرنا ایک قابل فہم اور قدرتی امر ہے مگر اس نے بطور ثبوت یہ لکھا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کی سفارتی عمارتوں پر درجن سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں اور 2010 میں پاکستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مرنے والے شہریوں کی تعداد افغانستان میں مرنے والوں سے کم نہ تھی ہم یہاں اس بحث میں بھی نہیں پڑتے کہ پاکستان میں اس پراکسی جنگ کا سپانسر کون تھاہم مصنف کی ان سطور کو پڑھتے ہیں جن میں اس نے اس روز اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لاہور کے مال روڈ کے دونوں طرف ایسی خوبصورت عمارتیں ہیں جو ان دنوں بنی تھیں جب لاہور انڈیا کا حصہ تھا اور انڈیا برطانوی سلطنت کا حصہ تھا میں ڈرائیو کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا میری ٹریننگ نے مجھے سکھایا تھا کہ یہاں کسی نوجوان کے بدن پر ابھرے ہوئے کپڑے کا مطلب بندوق ہوتا ہے ’ کوئی گاڑی اگر پیچھے کی طرف جھکی ہوئی ہو تو اسکا مطلب اسکا بارودی مواد سے بھرا ہونا ہوتا ہے ’ کسی عورت نے ایک گرم دن اگر بھاری بھرکم لباس پہنا ہو تو اسکا مطلب خود کش جیکٹ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا ریمنڈ نے لکھا ہے کہ اس نے پچھلے پانچ دن لاہور کی سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہوئے گزارے تھے یہ دیکھنے کیلئے کہ ان دنوں سڑکوں پر کیا ہو رہا تھا درجہ حرارت کیا تھاسڑکوں پر نئی رکاوٹیں اور نئی چیک پوسٹیں تو نہیں بنائی گئی تھیں I was just getting a feel of what was going on.