بریکنگ نیوز
Home / کالم / پانامہ آخری مرحلے میں

پانامہ آخری مرحلے میں


بات تھی آف شور کمپنیوں کی جس میں بہت سے نام تھے۔ بہت سے امیروں وزیروں کے نام تھے بہت سے ملکوں میں جن جن لوگوں کے نام تھے ان کا حساب بھی ہوا اور آف شور کمپنیوں کے قیام اور وجوہات کا بھی بتایا گیا۔ ہمارے ہاں بھی کچھ لوگوں کے نام تھے جن مین خوش قسمتی یا بد قستی سے ایک نام موجودہ وزیر اعظم کے بچوں کا بھی تھا کہ جن کا کاروبار ایک عرصے سے بیرون ملک ہے۔ لوگوں نے اور خصوصاً حزب اختلاف کے لوگوں نے اس معالے کو اس طرح اچھالا کہ سارا ملبہ وزیر اعظم کے سر ڈال دیا کہ جن کا نام بھی اس پانامہ لیکس کی لسٹ میں نہیں تھا۔پہلے تو براہ راست وزیر اعظم کو چور کہا گیا اور پھر اس بیانیے میں تبدیلی اس طرح کی گئی کہ چونکہ وزیر اعظم کے بیٹوں کا نام پانامہ لیکس میں یوں ہے کہ انکی آف شور کمپنیاں ہیں اسلئے وزیر اعظم اس میں براہ راست ملوث ہیں اب بات ذرا ہضم ہونے والی تو نہیں تھی مگر سپریم کورٹ نے اس کی کھوج لگانے کی ٹھانی اس میں ایک چیف جسٹس نے تو یوں اپنی جان چھڑائی کہ اُن کی ریٹائرمنٹ قریب تھی اسلئے انہوں نے سارا مقدمہ آنیوالے چیف جسٹس کیلئے چھوڑ دیااب اسے بدقستی ہی کہیں گے کہ نئے چیف جسٹس کے چارج لینے سے قبل ہی ان کو متنازعہ بنا دیا گیا اور انہوں نے مقدمہ سننے سے ہی انکار کر دیا اور بات ایک پانچ رکنی بنچ کے حواکے کر دی نئے بنچ نے جو سماعت شر وع کی تواول دن سے ہی معلوم ہو گیا کہ بنچ کے اراکین کا کیا خیال ہے تاہم کیس چلا اور ججز نے جو پہلے دن ہی سے ذہن بنائے ہوئے تھے بغیر تحقیق کئے فیصلہ دے دیا اور باقی ججوں نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے ایک تحقیقی بنچ بنانے کی تجویز دی تا کہ معاملے کو صحیح طریقے سے تحقیق کر کے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کیا جائے۔ جن ججوں نے وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ دیاانہوں نے مقدمے کی نوعیت کو ہی نہیں سمجھا ۔ مقدمہ تو یہ تھا کہ جن لوگوں کا پانامہ لیکس میں نام ہے ان سے باز پرس کی جائے مگر فیصلے میں کہا گیا کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں ہے۔

خیر یہ کام تو ہمارا نہیں ججز قانون کو ہم سے بدرجہا بہتر جانتے ہیں ۔ اب جو تحقیق شروع ہوئی تو جے آئی ٹی نے ایک ایک بندے سے بار بار پوچھ گچھ کی خدا جانے کیا کیا پوچھ گچھ ہوتی رہی مگر باہر کے لوگوں نے کبھی اطمینان کا اظہار کیا تو کبھی شکوک و شبہات کا اظہار ہوا۔بات چلتی رہی اور جے آئی ٹی نے وزیر اعظم سے لیکر ان کے سارے بچوں بچیوں بھائیوں کزنز وغیرہ سب کے بیانات لئے اور ان مقدمات کی بھی پڑتال کی کہ جن میں عدالتوں نے شریف خاندان کو بری کیا ہوا تھا۔ بڑی باریک بینی سے سب کچھ ہوا ہاں ایک بات نہیں ہو سکی وہ منی ٹریل میں قطر کے شہزادے کا خط تھا جس کیلئے شہزادے نے بار دگر بھی تصدیق کی مگر بنچ کا اصرار تھا اور ہمارے بہت سے ناموربیرسٹروں کا بھی کہ شہزادے کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔اصل میں جو لوگ اس بات پر اصرار کر رہے ہیں ان کو شاید شاہی خاندانوں کا معلوم نہیں ہے یہ جمہوریت ہے کہ جس میں آپ اپنے وزیر اعظم کو بھی کہ جو بیس کروڑ کا نمائندہ ہوتا ہے عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں ۔

مگر بادشاہت میں ایسا نہیں ہوتااور یہ بھی کہ بادشاہت میں جو شاہی خاندان کا فرد بیان دیتا ہے وہ حتمی ہوا کرتا ہے اور یہ بھی کہ ہماری عدالتیں کسی بھی دوسرے ملک کے باشندے کو اپنے سامنے پیش ہونے پر مجبور نہیں کر سکتیں شہزادے نے کہا ہے کہ اس کے پاس آ کر اسکا بیان لے لیا جائے مگر ادھر انا وغیرہ کا معاملہ بھی ہے شاید۔جے آئی ٹی کے کچھ ممبردبئی گئے ہیں اور وہاں سے کیا لائے ہیں وہ وہی بہتر جانتے ہیں اور اگر دبئی گئے ہیں تو قطر بھی تو جا سکتے ہیں اور وہاں سے حقائق معلوم کر کے لا سکتے ہیں اس کیلئے سپریم کورٹ کا بھی حکم ہے کہ جے آئی ٹی کے اراکین جہاں چاہیں جا کر حقائق معلوم کر سکتے ہیںیعنی ان کو ملک سے باہر جا کر بھی حقائق معلوم کرنے کی آزدی ہے تو ان کو قطر بھی چلے جانا چاہئے یا قطر کے شہزادے کے خط کو ردی کی ٹوکری کا مال نہیں کہنا چاہئے اس لئے کہ یہ ایک معزز آدمی کا خط ہے۔کسی نورے گامے کا نہیں۔