بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / امید پر قائم دنیا!

امید پر قائم دنیا!

الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ پاناما پیپرز کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی دس جولائی کو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنیوالی ہے جس کے نتائج کے بارے میں ماہرین کی متضاد آراء سامنے آرہی ہیں رواں سال اپریل میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی تھی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بننے والے پانچ رکنی بنچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ ساٹھ روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔ پانامہ کیس سے متعلق ہر گھر‘ ہر دکان اور ہر محفل میں ایک عدالت لگی ہوئی ہے۔ قانونی ماہرین اپنی جگہ تقسیم نظر آتے ہیں جو سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے اور اس کے اثرات کو مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں درحقیقت جے آئی ٹی شواہد جمع کرنے کی کوشش ہے جو شواہد و حقائق جمع کرنے کے بعد اپنی رپورٹ خصوصی عدالت میں جمع کرائے گی اور اب تک سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی نے شواہد جمع کرنے کا کام جس ٹھنڈے مزاج اور بناء اشتعال میں آئے سرانجام دیا ہے وہ اپنی جگہ ایک اچھی مثال ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ دو روز بھی اِسی کمال ضبط کا مظاہرہ کیا جائے گا جے آئی ٹی کو اس پورے معاملے میں اپنی رائے نہیں دینی چاہئے کیونکہ یہ ایک تو ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اور دوسرا کیس میں شامل ملزموں پر اثر انداز ہو سکتی ہے چونکہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے دو جج صاحبان پہلے ہی وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے چکے ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ وہ مزید عدالتی کاروائی کا حصہ نہیں ہوں گے اور نتیجتاً باقی تین جج صاحبان جے آئی ٹی رپورٹ پر کسی فیصلے پر پہنچیں گے۔

فیصلہ تبدیل نہیں ہونا لیکن تین ججوں میں سے اگر ایک جج بھی پہلے دو ججوں سے اتفاق کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو نااہل قرار دے دیتا ہے تو یہ پاکستان کی سیاسی و آئینی تاریخ میں ایک ایسے باب کا اضافہ ہوگا‘ جس سے طرزحکمرانی کی اصلاح اور اداروں کی حاکمیت و برتری ثابت ہوگی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش ہونے (دس جولائی) کو بات ختم نہیں ہو رہی بلکہ عدالت کو کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لئے مزید دو سے تین مہینے درکار ہوں گے کیونکہ رپورٹ کی کاپیاں درخواست دہندگان اور جواب دہندہ گان کو پیش کرکے انہیں اپنے دلائل اور اعتراضات کے لئے مدعو کیا جائے گا۔ تین صورتیں ہی باقی بچی ہیں۔ 1: اس کیس میں شامل افراد کے دلائل سننے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں عدالت اس کیس کا حتمی فیصلہ دے سکتی ہے یا 2: پھر عدالت عظمیٰ وزیراعظم کو کیس سے الگ بھی کرسکتی ہے یا 3: عدالت اس کیس کے ریفرنس کو احتساب عدالت جیسے مناسب فورم پر بھی بھیج سکتی ہے۔ کیا نااہلی سے کم کسی فیصلے پر تحریک انصاف ملک گیر احتجاج کی راہ اختیار کریگی کیونکہ موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کے لئے ملک گیر سطح پر آئندہ عام انتخابات میں کامیابی ممکن نہیں۔

جے آئی ٹی کے شواہد کے مطابق اگر وزیراعظم نواز شریف ایماندار نہیں پائے گئے تو سپریم کورٹ انہیں نااہل قرار دے سکتی ہے یا پھر اس معاملے کو الیکشن کمیشن پاکستان کو بھیج سکتی ہے‘ ذہن نشین رہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی جعلی ڈگری رکھنے کے جرم میں کئی پارلیمنٹیرینز کو نااہل قرار دیکر گھر بھیج دیا تھا الیکشن کمیشن کے قواعد کہتے ہیں کہ جعلی ڈگری جمع کرانے کے جرم میں ریپریزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ کے تحت اس قانون ساز کیخلاف کاروائی کی جاتی ہے جس میں تین سال تک قید اور بھاری جرمانہ شامل ہے لیکن وزیراعظم نواز شریف کا معاملہ اس سے الگ ہے لہٰذا خصوصی عدالت اسے آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت دیکھے گی۔ دیکھنے کا یہ عمل ہر سطح پر جاری ہے۔ کسی ایک جماعت کی سیاسی و آئینی فتح اور شکست ہوتی ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی آتا ہے بس قوم کی نظریں جھکنی اور انصاف کے آخری مرکز سے وابستہ امیدوں کا خون نہیں ہوناچاہئے۔