بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی اوراقتصادی عدم استحکام کے اثرات!

سیاسی اوراقتصادی عدم استحکام کے اثرات!

وفاقی وزیرخزانہ پرعزم ہیں کہ پاکستانی روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ مصنوعی عمل ہے جبکہ مارکیٹ نے اپنی قدر کا تعین خود کرنا ہے۔ کیا ایسا ہی ہے کہ ڈالر کی قدرمیں اضافہ مصنوعی تھا اور پاکستانی روپیہ مستحکم ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔ نئے مالی سال کے پہلے کاروباری دن پاکستان کی حصص مارکیٹ کو ایک دن میں اٹھارہ سو سے زائد پوائنٹس کا خسارہ ہوا اور ابھی ملک اس خسارے ہی سے نہ سنبھلنے پایا تھا کہ انٹربینک مارکیٹ میں زلزلہ آگیا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر تین روپے دس پیسے قریب بیس فیصد کم ہوگئی ایک دن پہلے جو ڈالر ایک سو چار روپے نوے پیسے میں دستیاب تھا وہ ایک سو روپے کے عوض بھی نہیں مل رہا تھا درآمد کنندگان اس صورتحال سے سخت پریشان تھے اور دعاکر رہے تھے کہ سٹیٹ بینک انٹربینک مارکیٹ میں مداخلت کرے اور روپے کی قدر گرنے نہ دے تو دوسری طرف برآمد کنندگان خوش تھے اور دعا گو تھے کہ سٹیٹ بینک روپے کی قدر میں کمی ہونے دے ادھر اوپن مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی کا تبادلہ کرنیوالی ایکسچینج کمپنیز تذبذب کا شکار نظر آئیں اس تمام صورتحال میں کرنسی مارکیٹ کا ریگولیٹر سٹیٹ بینک مارکیٹ کے اختتام تک خاموش ہی رہا۔سٹیٹ بینک کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شرح مبادلہ میں یہ کمی بیرونی کھاتوں میں ابھرتے ہوئے عدم توازن کا تدارک اور ملک میں ترقی کے امکانات کو مستحکم کریگی بینک سمجھتا ہے کہ موجودہ شرح تبادلہ معاشی حقیقت سے بڑی حد تک ہم آہنگ ہے اور یہ کہ سٹیٹ بینک زرمبادلہ منڈیوں کے حالات کا بغور جائزہ لیتا رہے گا ۔

موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سال دوہزار تیرہ میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی اور ایک ڈالر ایک سو دس روپے کی سطح تک پہنچ گیا تھا کسی بھی ملک کی کرنسی کی قدر میں اگر استحکام ہوتا ہے یا اس کی قدر میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے‘ تو اس کے ملکی معیشت پر اثرات مختلف طریقے سے مرتب ہوتے ہیں اور اس بات کا فیصلہ ملک کے پالیسی سازوں کو کرنا ہوتا ہے کہ انہیں کرنسی کو مستحکم‘ مضبوط یا کمزور رکھنا ہے اور اس سے انہوں نے کون سے اہداف حاصل کرنے ہیں جب مصنوعات‘ خدمات اور سرمائے کی عالمی سرحدوں میں آزادانہ نقل و حرکت ہو تو متحرک اور لچکدار شرح مبادلہ کے ذریعے ہر ملک کی کرنسی کی طلب و رسد کو مارکیٹ میں رواں رکھا جاتا ہے مگر اس فلوٹنگ شرح تبادلہ یا متحرک شرح تبادلہ کے نظام میں کرنسی کی قدر میں اضافہ اور کمی ہوتی رہتی ہے۔کرنسی کے نرخ کو مستحکم رکھنے کیلئے افراط زر کو بھی کم ترین سطح پر مستحکم رکھنا ضروری ہوتا ہے‘ بصورت دیگر ملک میں موجود غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر پر منفی اثرات پڑتے ہیں اور ان میں کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں دیکھا جائے تو گزشتہ چند سال سے افراط زر کم ترین اور بنیادی شرح سود بھی کم ترین سطح پر ہے جس کی وجہ سے حکومت اس قابل ہوئی ہے کہ شرح مبادلہ کو ایک محدود دائرے میں متحرک اور مستحکم رکھ سکے اگر پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان نے پاک چین اقتصادی راہدری پر عملدرآمد شروع ہونے سے اب تک روپے کی قدر کو مستحکم رکھا ہوا ہے۔

جس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنیوالی چینی کمپنیوں کو فائدہ ہو رہا ہے اس کے علاوہ سی پیک کے منصوبوں کے لئے بڑے پیمانے پر مشینری کی درآمد بھی ہو رہی ہے اور مستحکم شرح مبادلہ سے درآمدات مہنگی نہیں ہوتیں۔ماہرین یہی خیال کررہے ہیں کہ حکومت نے شرح مبادلہ کو اسی لئے کئی سال تک مستحکم رکھا کیونکہ بڑے پیمانے پر مشینری کی درآمد کی جارہی تھی اور اب درآمد کا یہ عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور سی پیک کے بجلی کی فراہمی سے متعلق متعدد منصوبے ستمبر دوہزار سترہ تک مکمل ہو رہے ہیں۔ روپے کی قدر میں اضافے اور اس کو بلند ترین سطح پر مستحکم رکھنے سے پاکستان کی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور پاکستان کی برآمدات پچیس ارب ڈالر سے کم ہو کر اُنیس ارب ڈالر کی سطح پر آگئی ہیں ایک طرف برآمدات میں کمی ہورہی ہے تو دوسری طرف درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ سال دوہزار بارہ میں مجموعی درآمدات چالیس ارب ڈالر تھیں جو کہ اب پینتالیس ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ پاکستان کی برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف ترسیلات زر میں کمی ہورہی ہے جبکہ پاکستان کو تجارتی خسارے کو پر کرنے کے علاوہ عالمی سطح پر لئے گئے قرضوں کی بھی واپسی کرنی ہے اس تمام صورتحال میں رواں کھاتوں کے خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال دوہزار سولہ سترہ میں جنوری سے مئی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھ ارب گیارہ کروڑ ڈالر ہوگیا ہے جبکہ گذشتہ مالی سال میں یہ خسارہ دو ارب ڈالر تھا اگر تجارت اور دیگر بیرونی ادائیگیوں کا خسارہ بڑھے گا تو پاکستان کو اپنے زرمبادلہ ذخائر میں سے ادائیگی کرنی ہوگی جسکی وجہ سے زرمبادلہ ذخائر میں کمی ہوگی اور یہ کمی جس قدر تیزی سے ہوگی ملک کی عالمی تجارتی اور معاشی ساکھ اسی قدر متاثر ہوگی۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عرفان نذیر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)