بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات؟

ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات؟

سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 178 ارب روپے سے زائد کے 17 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے آبی ذخائر کے شعبے میں 88.4ارب کا رائٹ بنک فال ڈرین میگا پراجیکٹ بھی شامل ہے حکومت کے منصوبہ ساز ادارے کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں 550ارب روپے کی بچت بھی کی گئی ہے پلاننگ کمیشن کا کہنا ہے کہ مئی2017ء تا مئی2018ء تک قومی گرڈ میں 10ہزار میگا واٹ بجلی مرحلہ وار شامل کردی جائے گی چین کی معاونت سے آئندہ 8سے 10سال میں 21ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی اسکے ساتھ 2025ء میں وطن عزیز کا بہترین معیشتوں میں شامل ہونے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے اراضی حاصل کرنے کی غرض سے 14ارب روپے کے فنڈز بھی جاری ہوچکے ہیں اسی طرح ریونیو ڈویژن کے منصوبوں کیلئے بھی 66کروڑ جاری ہوگئے ہیں ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے مزید6 ارب ڈالر قرضے کی منظوری بھی دیدی ہے جو انفراسٹرکچر منصوبوں پر خرچ ہوگی اقتصادی اعشاریوں اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور دستاویزی تیاری کے مقابلے میں برسرزمین تبدیلی کا جائزہ لیا جائے ۔

تو سرکاری پراجیکٹس عملی طور پر ثمر آور دکھائی نہیں دیتے اور لوگ سہولیات کی عدم فراہمی کا گلہ ہی کرتے ہیں رپورٹس کے مطابق ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے پاکستان کیلئے نیا قرضہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سے مشروط کیا ہے بینک کا کہنا ہے کہ پراجیکٹس سے متعلق بتانا ہوگا کہ کب اور کتنی لاگت میں مکمل ہوں گے آپریشنل ہونے کی تاریخیں بھی دینے کا انتظام کرناچاہئے منصوبے کے انتخاب سے عملی صورت اختیار کرنے تک کے مراحل کی نگرانی کا بندوبست کرناچاہئے بصورت دیگر کھربوں روپے کے قرضوں کا بوجھ برداشت کرنے والی معیشت مزید مقروض ہوتی جائیگی اور حکومتی اقدامات بھی کہیں ثمر آور دکھائی نہیں دیں گے اس سب کیلئے ضروری ہے کہ خود وزیراعظم مرکزی سطح پراور وزرائے اعلیٰ صوبوں میں ہر ماہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق بریفنگ لیں اور تاخیر کے مرتکب ذمہ داروں کیخلاف کاروائی کی جائے ۔

کالجوں میں داخلہ اوردستاویزات

میٹرک کے نتائج کا اعلان ہونے کیساتھ والدین کیلئے ایک مشکل مرحلہ بچوں کیلئے کالجوں میں داخلے کا ہے طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ایک جانب سرکاری کالجوں میں نشستیں ناکافی ہیں تو دوسری طرف داخلے کیلئے مطلوبہ دستاویزات کی تیاری ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے والدین کی مشکلات کا احساس اس بات کا متقاضی ہے کہ سٹوڈنٹس کیلئے ڈومیسائل کا حصول آسان تر بنایا جائے اور اس مقصد کیلئے ہر ڈسٹرکٹ میں خصوصی کاؤنٹر بنا دیئے جائیں تعلیمی بورڈز اور سکولوں کو بھی پابند بنایا جائے کہ وہ سرٹیفکیٹس اور ڈی ایم سی وغیرہ فوری طور پر جاری کریں کالجوں اور ہائی سکولز میں نشستیں بڑھائی جائیں نجی شعبے کے کالجوں کے معیار اورفیسوں کی کڑی نگرانی ناگزیر ہے اس مقصد کیلئے پرائیویٹ اداروں کے مالکان کیساتھ مل کر قاعدہ بنانا ہو گا جبکہ ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کردار ادا کرنا ہو گااس سب کیساتھ ضرورت میٹرک کے نتائج کی روشنی میں سرکاری اداروں کی کارکردگی جانچنے کی ہے ناقص کارکردگی کے حامل اداروں سے پوچھ گچھ ناگزیر ہے اس طرح کالجوں کو اگلے مرحلے میں معیار کا پابند بنانا بھی ضروری ہے ۔