بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا دینے کا فیصلہ

بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا دینے کا فیصلہ

اسلام آباد۔حکومت نے بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا دینے کا فیصلہ کر لیا، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 300ملین ڈالر قرض کے حصوں کے لئے بجلی صارفین پر گردش قرضوں میں کمی کے سرچارج سمیت دیگر سرچارج عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے 9مئی کو ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ٹیک بیکو نکاؤ کو لکھے گئے خط میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اگر حکومت پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کرنے میں ناکام ہوئی تو اس صورت میں بجلی پر سرچارج عائد کئے جائیں گے ۔

اور نئے ٹیرف میں تاخیر کے باعث ہونے والے نقصان کی تلافی بھی ایک دوسرے سرچارج کے ذریعے کی جائے گی، وفاقی وزیر نے اپنے خط میں یہ تمام وعدے 300ملین ڈالر قرض کے حصول کیلئے کئے تھے تاکہ ان کی مدد سے ادائیگیاں مکمل کی جا سکیں، سرچارج عائد کرنے کے حکومتی اختیار کو پہلے ہی عدالت میں چیلینج کر چکا ہے۔

جس میں یہ کہا گیا ہے کہ نیپرا ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کو مجوزہ سرچارج عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، اس سے قبل حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرض کے حصول کیلئے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے تجاویز پیش کی تھیں مگر لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ ہفتے رہنما تحریک انصاف جہانگیر ترین کی پٹیشن پرآرڈر پاس کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا، واضھ رہے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت پہلے ہیہ بجلی صارفین پہ ٹیرف ایکوئلائزیشن سرچارج اور نیلم جہلم سرچارج عائد کر چکی ہے، تاہم حکومت گردشی قرضوں میں کمی نہیں کر سکی جو کہ ایک مرتبہ پھر 400ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جوکہ حکومتی نااہلی اور ناکامیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔