بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 4سالوں میں اچھی حکمرانی کی مثال قائم کردی ٗ پرویز خٹک

4سالوں میں اچھی حکمرانی کی مثال قائم کردی ٗ پرویز خٹک

پشاور۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کے فیصلے میں مجھے معلوم ہے کہ چور پکڑے جائیں گے کیونکہ اس ملک کی ترقی اور آگے بڑھنے کے لیے چوروں کی پکڑ ضروری ہے اگر اللہ تعالی نے ہماری مدد کی تو چوروں اور لٹیروں سے اس ملک کو چھٹکارا مل جائے گا ورنہ چوروں کوکھلی چھٹی مل جائے گی۔ ہمارے قائد عمران خان اور ہم تختیوں کی سیاست پریقین نہیں رکھتے ، ہم نے چار سالہ دور حکومت میں کام کیا ہے اور منصوبے پورے کئے ہیں اے این پی اور پی پی پی کے چوروں کا کردار سب پر واضح ہے ان کو پتہ ہی نہیں کے ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

امیر مقام اور اے این پی دونوں فارغ ہیں 2018 کے انتخابات کے لیے منصوبہ بندی کرلی ہے پی ٹی آئی دوبارہ برسر اقتدارآئے گی نہ صر ف خیبرپختونخوا بلکہ وفاق اور چاروں صوبوں میں حکومت بنائے گی اور عمران خان ہی وزیر اعظم ہوں گے۔ اے این پی نے پختون، پی پی پی نے روٹی کپڑامکان اور جے یو آئی نے اسلا م کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا ، ہم نے اپنی حکومت میں عمل سے ثابت کیا اور نظام کی تبدیلی کا وعدہ پورا کیا ۔ اُن کی حکومت نے صوبے میں ڈاکو راج ختم کرکے ایک شفاف نظام کی بنیاد رکھ دی ہے جسے قوانین کے ذریعے مضبوط اور ناقابل شکن بنا دیا ہے اب کسی کا باپ بھی اس نظام کو ذاتی مفاد کی خاطر خراب نہیں کرسکتا ۔ وہ آدم زئی اکوڑہ خٹک ضلع نوشہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔صوبائی وزیر برائے ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکاخیل ، ضلع ناظم نوشہرہ لیاقت خان خٹک ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک، سینیڑ نعمان وزیر خٹک ،ایم پی اے ادریس خٹک، فرید اللہ خٹک اور جعفر خٹک نے بھی جلسے سے خطاب کیاجبکہ اس موقع پر اسحاق خٹک تحصیل ناظم جہانگیرہ صادق خان خٹک ، ضلع کونسلر ذوالفقار خٹک اور دیگر مقامی نمائندے بھی موجود تھے ۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک ویژن تھا اور مخلصانہ قیادت تھی۔

جس کی وجہ سے صرف چار سالوں میں صوبے میں اچھی حکمرانی کی مثال قائم کردی ۔عوامی مسائل کے کل وقتی حل کیلئے اداروں کی مضبوطی اور ایماندار قیادت کی ضرورت ہوتی ہے ۔جن اقوام نے ترقی کی ہے وہ بھی ہماری جیسی عقل و شکل اور وسائل رکھتے ہیں مگر اُن کا نظام شفاف تھا ادارے مضبوط تھے اور قیادت میسر تھی ۔ پاکستان کا مستقبل بھی اداروں کی مضبوطی اور ایماندار قیادت سے مشروط ہے ۔اگر مرکزی سطح پر بھی یہ دوچیزیں میسر آجائیں تو پاکستان کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ۔اس کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنے وسائل کافی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ سیاست وقت پر فیصلہ اور خدمت کا جذبہ مانگتی ہے اگر نیت صاف ہو ، ارادے مضبوط ہوں، خدمت کا جذبہ ہو ، محنت کا حوصلہ ہو تو قدرت مدد کرتی ہے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے چار سال مسلسل جدوجہد کی اور شب و روز عوامی مسائل کے حل کیلئے تندوہی سے کام کیا۔ صوبے کے ماضی اور حال میں فرق دیکھا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں کمیشن ، اقرباء پروری اور ترقیاتی سکیموں میں دو نمبری عام تھی جبکہ اس وقت ہر کام معیار اورشفاف طریقے سے کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنی چار سالہ حکومت کے تناظر اور تبدیلی کے پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے عوام سے کہا کہ وہ تبدیلی کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھیں۔سب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ تبدیلی کیا ہے ۔صرف دو نمبر سٹرکیں بنانے کا نام تبدیلی نہیں بلکہ تبدیلی شفافیت کا نام ہے اداروں کی مضبو طی اور حقدار کو حق دینے کا نام تبدیلی ہے ۔ دُنیا نے اسلئے ترقی کی اُن کا نظام میرٹ پر ہے ادارے طاقتور ہیں جبکہ پاکستان کی تباہی کی وجہ یہی ہے کہ یہاں اداروں پر سیاست کی گئی ۔اداروں میں تقرریاں اپنی مرضی سے کرکے ملازمین کو ذاتی نوکر بنایا گیا۔وہ ادارے جن کو عوام کا خدمتگار ہونا چاہیئے وہ سیاست دانوں کی چاکر ی میں لگے رہے غریب کی کسی نے فکر نہیں کی ۔نہ سکولوں میں اُستادنہ ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور نہ ہی کوئی نتیجہ تھا ادارے صرف سرمایہ داروں کو سیلوٹ کر تے تھے ۔ صوبائی حکومت نے اس کرپٹ سسٹم کا خاتمہ کیا اداروں کو مضبوط کرکے ڈیلیوری کے قابل بنایا ۔اب روزانہ کی بنیاد پر باز پرس ہو تی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ سکولوں میں چھ کلاسوں کیلئے دو کمرے اور دو اُستا د تھے امیر اور غریب کیلئے الگ نظام تھا جو غریب کے ساتھ بڑا ظلم تھا ۔اُن کی حکومت نے آتے ہی سرکاری سکولوں کامعیار بلند کیا صوبے بھر میں اساتذہ پورے کئے سکولوں میں13 ہزار نئے کمرے بنائے۔

بنیادی انگلش شروع کی تاکہ غریب کا بچہ بھی امیر کا مقابلہ کر سکے۔ شعبہ صحت میں حکومتی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہسپتالوں کو پورا ٹھیک کرنے کیلئے پورے پاکستان کا بجٹ درکار ہے کیونکہ ماضی میں شعبہ صحت کو بری طرح تباہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پورے صوبے میں ڈاکٹر پورے کئے ۔ نرسز ، ٹیکنیشنز اور پیرا میڈکس بھرتی کئے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب انہوں نے محکمہ صحت کا ریکار ڈ طلب کیا تو پتہ چلا کہ ہزار ڈاکٹر اپنی دُکانداری کی وجہ سے ترقی نہیں لے رہے تھے سینکڑوں ڈاکٹرڈبل نوکری کرتے تھے اور دوسری طرف ڈاکٹروں کی تنخواہیں تشویشناک حد تک کم تھیں ہم نے تمام خرافات کو دور کرکے صحت کا قبلہ درست کیا ۔ تنخواہوں میں ہوشر بااضافہ کیا جبکہ شعبے کی بہتری کا عمل اب بھی جاری ہے ۔پرویز خٹک نے ماضی میں نوشہرہ کو نظر انداز کئے جانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اے این پی کو توفیق نہ ہوئی کہ پانچ سال میں قاضی حسین احمد ہسپتال کو پورا کردیتے ۔ حیدر ہوتی اور امیر مقام نوشہرہ میں آکر اب سیاست بازی کرتے ہیں مگر جب وہ اقتدار میں تھے تو نوشہرہ کو مکمل نظر انداز کیا وہ بتائیں کہ انہوں نے نوشہرہ میں کیا کام کیا۔

صوبے کے ہر ضلع میں یونیورسٹی موجود تھی مگر نوشہرہ کے عوام کو اس سہولت سے کیوں محروم رکھا گیا صوبائی حکومت اب نوشہرہ میں ٹیکنکل یونیورسٹی بنا رہی ہے جو پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہو گی ۔ میڈیکل کالج سمیت متعدد کالجوں پر کام شروع ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوشہرہ کے عوام پر ہر وقت سیلاب کا خطرہ منڈلاتا رہا انہوں نے حیدر ہوتی اور زرداری سے دریائے کابل پر بند باندھنے کیلئے کہا مگر انہوں نے دھوکہ دیا ۔ قدرت نے موقع دیا تو اب 13 ارب روپے کی لاگت سے دریائے کابل کے دونوں کناروں پر حفاظتی بندوں کی تعمیر شروع ہے جس کی وجہ سے نوشہرہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ تمام کام اپنی جگہ مگر بنیادی ضرورت کرپشن کا خاتمہ کرکے شفاف نظام کا قیام تھا ۔صوبائی حکومت نے اس مقصد کیلئے ریکارڈ قانون سازی کی اس سلسلے میں ہمارا وسل بلوئر قانون بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ لائسنس ، انتقال ، ڈومیسائل جیسی خدمات کے حصول کیلئے خدمات تک رسائی کا قانون پاس کیا گیا ۔ 15 دن کے اندر خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے ۔تاخیر کی صورت میں ذمہ داران کو روزانہ کی بنیاد پر اپنی جیب سے جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے صوبے میں ای ٹینڈرنگ کا عمل متعارف کرایا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اب ماضی کا ڈاکو راج ختم کردیا گیا ہے ۔

ماضی میں اسلام ، پختونوں کے نام اور روٹی ،کپڑا ، مکان پر عوام کو دھوکہ دیا گیا ۔اسلام کے نام پر حکومت بنانے والوں نے اسلام کیلئے کچھ نہ کیا ۔ موجودہ صوبائی حکومت نے حقیقی معنوں میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی اقدار کے احیاء پر کام شروع کیا۔ سکولوں میں پانچویں کلاس تک ناظرہ قرآن اور چھٹی سے بارہوویں کلاس تک ترجمہ قرآن نصاب میں شامل کیا گیا ۔ جہیز اور سود کے خلاف قانون سازی کی گئی ۔ نصاب سے غیر اسلامی چیزوں کو نکال کر اسلامی اسباق متعارف کرائے گئے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ کارکردگی کی بنیادپر دوبارہ اقتدار میں آئیں گے اور جس قابل عمل نظام کی بنیاد رکھی ہے اس پر نئے پاکستان کی عمارت کھڑی کریں گے ۔قبل ازیں وزیراعلیٰ نوشہرہ کینٹ میں میاں فائق زادہ کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی کیلئے اُن کے گھر گئے اسی طرح وزیراعلیٰ چوکی درب میں گل ولی خان اور محمد علی کے انتقال جبکہ چوکی درب میں ہی رب نواز کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی کیلئے مرحومین کی رہائش گاہوں پر گئے ۔ وزیراعلیٰ نے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور دُعا کی کہ اﷲ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جواررحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کویہ ناقابل تلافی نقصان صبر و استقامت سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔