بریکنگ نیوز
Home / کالم / برہان وانی:بے مثالی شہادت

برہان وانی:بے مثالی شہادت

کشمیر میں انتفاضہ کا آغاز 1989ء میں ہوا مقبوضہ وادی میں اپنے الگ وطن کیلئے جاری تحریک فلسطینیوں سے متاثر ہو کر شروع کی گئی نہتے فلسطینی ظالم اور جابر جدید اسلحہ سے لیس اسرائیلی فوج کو سنگ باری اور غلیلوں کے ذریعے زچ کرکے رکھ دیتے تھے۔ یہی کچھ مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیری کرتے رہے اور اس انتفاضہ کو برہان مظفروانی کی شہادت نے نیا رخ دیا کہ بھارتی افواج کشمیری بچوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں۔ جہاں مظفر وانی کی شہادت سے تحریک آزادی کو نئی زندگی ملی‘ وہیں بھارتی بربریت اور سفاکیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مہلک اور ممنوعہ اسلحہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔اسرائیل سے پیلٹ گنیں درآمد کرکے سینکڑوں کشمیریوں کو شہید کیا برہان وانی شہیدکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتی فوجیوں کے مظالم کی داستانیں سن کر کم عمربرہان بے چین ہو جایا کرتاتھا۔وہ بھارتی فورسزکے مظالم کے کئی واقعات اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکا تھا لہٰذا درندہ صفت فوجیوں کے خلاف اسکے دل میں نفرت کالاواپک رہا تھا۔ بڑے بھائی خالد کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد وہ بہت بے چین رہنے لگا تھا پھر ایک دن موسم سرما کی صبح وہ اچانک گھر سے غائب ہو گیا یہ سولہ اکتوبر کا دن تھا اور صرف دس دن بعد اس کا دسویں کلاس کا سالانہ امتحان تھانویں جماعت میں اسنے پورے کشمیرمیں اوّل پوزیشن حاصل کی تھی وہ ایک خاموش طبع‘ حساس‘ دیندار اور ہونہار طالب علم اور ایک اچھا کرکٹر تھا۔کچھ عرصے بعد اس کے گھر والوں کواطلاع ملی کہ وہ حزب المجاہدین میں شامل ہو چکا ہے جلد حزب المجاہدین نے اس کی صلاحیتیں دیکھ کر باقاعدہ اپنا کمانڈر ڈکلیئر کر دیا اگلے پانچ برس تک برہان سکیورٹی فورسزکو تگنی کا ناچ نچاتا رہا۔اس دوران وہ مقبوضہ وادی کا سب سے مقبول جہادی کمانڈربن چکا تھا اسکی حیثیت ایک افسانوی کردار جیسی تھی۔ نوجوان کشمیری نسل نے اسے اپنا رول ماڈل قرار دیا اور پورے کشمیر میں بچے بچے کی زبان پراس کا نام تھا۔

نو عمر برہان بھارت کے حکمرانوں اور جرنیلوں کے لئے چیلنج بن چکا تھا اس کا ذکر نام نہاد کشمیر اسمبلی میں بھی ہوتا‘ بعض ارکان اسمبلی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ حکومت مظفروانی سے مذاکرات کرے۔ بھارتی حکومت نے برہان وانی شہید کے سرکی قیمت دس لاکھ مقرر کر دی۔ برہان نے اپنی قوم کے جوانوں میں جذبہ جہاد بیدار کرنے کے لئے بندوق کے ساتھ انٹرنیٹ اور فیس بک کا بھی خوب استعمال کیا وہ جہادی زندگی‘ بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم اور مجاہدین کی بھارتی فوج کے ساتھ معرکہ آرائیوں کی ویڈیو ’اَپ لوڈ‘ کرتا۔ بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے مطابق جس چیز نے برہان کو بھارتی حکومت کے لئے مطلوب ترین بنایا وہ اس کی کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت تھی‘ جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا تھا جبکہ بھارتی اِداروں کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری برہان کے ویڈیو پیغامات سے متاثر ہو کر ہر ماہ بیسیوں کشمیری نوجوان حریت پسندی کا راستہ اختیار کر رہے تھے آٹھ جولائی کو برہان وانی ککر ناگ میں اپنے دیگر دو جہادی ساتھیوں کے ہمراہ ایک مقامی دوست فاروق کے گھر میں موجود تھا کہ بھارتی افواج نے اُن کا محاصرہ کرلیا۔ برہان اور اس کے ساتھیوں نے بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر مقابلہ شروع کر دیا۔ سہ پہرساڑھے چار بجے شروع ہونیوالا مقابلہ پونے چھ بجے تک جاری رہا۔

اس مقابلہ میں برہان نے اپنے دو ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کیا اکیس سالہ برہان وانی کی شہادت پر بھارتی حکومت کو جس شدید ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی مثال مقبوضہ جموں کشمیر کی گزشتہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ وانی کی شہادت کے بعد احتجاجی مظاہرے بھارتی ریاست کی ہر میدان میں شکست کو ظاہر کر رہے تھے۔ انہوں نے حقیقت کو چھپانے کے لئے اسے شیعہ سنی‘ مسلم و غیر مسلم‘ کشمیری لداخی‘ تبلیغی سلفی اور اکثریت و اقلیت کی جو تقسیم پیدا کی ہوئی تھی وہ دھواں بن کر اڑ چکی تھی اور ہوا میں اب صرف آزادی کے نغموں کی گونج تھی مگر بھارت کے نیوز رومز میں اپنے پڑوسی ملک کو کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا تھا برسوں سے ان ’ماہرین کشمیر‘ نے ٹی وی اور اخبارات میں آنے والے بیانیے پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے اپنی تمام قوت اور وسائل وقف کر رکھے ہیں کشمیر کی سڑکوں پر روزانہ مرد‘ خواتین‘ نوجوان اور بوڑھے اس نعرے کے ساتھ نکلتے ہیں کہ ۔۔۔ ’’ہم کیا چاہتے؟ آزادی!‘‘ آزادی‘ حق خودارادیت اور پر امن زندگی گزارنا ان لوگوں کا پیدائشی حق ہے جسے ظلم اور طاقت کے استعمال سے روکا نہیں جاسکتا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: بشارت بٹ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)