بریکنگ نیوز
Home / کالم / تعصب کی عینک

تعصب کی عینک


بہت سی اچھی باتیں ہم اس لئے فراموش کر دیتے ہیں کہ ہم نے ایک مخصوص عینک پہن رکھی ہوتی ہے اس عینک سے ہم وہی کچھ دیکھتے ہیں جو ہمارا من چاہتا ہے اس میں عموماً سو فی صد نہ بھی ہو تو ننانوے فی صد ضرور جھوٹ ہوتا ہے اس کی مثال آپ کو کسی بھی ٹی وی چینل پر نظر آئے گی کہ جس میں اینکر کی ایک مخصوص سوچ ہوتی ہے اور وہ جس بھی تحقیق کو پیش کرتا ہے اس میں اپنی خواہشات کو ایسے ڈالتا ہے کہ بعض دفعہ سرپیٹنے کو اور بہت دفعہ دل کی گہرائیوں سے لعنت بھیجنے کو جی چاہتا ہے۔ہمارے وزیر داخلہ کے لئے کچھ اینکر پرسنز کا ایک مخصوص نظریہ ہے جس میں چوہدری صاحب کے ہر فعل پر نکتہ چینی ضروری سمجھی جاتی ہے۔پی پی پی کی طرف سے چوہدری صاحب کو نشانہ بنانا سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی چوٹی کے لوگوں کو رینجرز نے پکڑا اور اُن سے کنفیشن کروایا ہے اور جن لوگوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیاان کو نہ چھوڑنے اور ان کا نام ملک نہ چھوڑنے والوں کی لسٹ میں ڈالنے پر جھنجلاہٹ تو سمجھ میں آتی ہے جسکا ذکر ہمارے سابق صدر آصف زرداری صاحب بر ملا کرتے ہیں کہ ہم نے میاں صاحب کو جمہوریت کے نام پر بچانے کی کوشش کی مگر انہوں نے ہمارے خاص آدمیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ان خاص آدمیوں میں ڈاکٹر عاصم وغیرہ شامل ہیں مگر اینکرز کی جھوٹ بولنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو پائی۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں لفافے کا بھی عمل دخل ہو مثال کے طور پر سابق صدر پرویز مشرف کے ملک سے باہر جانیکی اجازت پر ایک مشہورٹی وی اینکر کا ایک دفعہ نہیں بار بار چوہدری صاحب کو نشانہ بنانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ مزے کی بات ہے کہ چوہدری صاحب کے بیان کو اپنے کمنٹ دینے سے پہلے چلایا جاتا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے وکلاء نے عدالت کے سامنے اس بات کی یقین دہانی کی کہ صدر صاحب علاج کے ایک دو ہفتے بعد واپس آ جائیں گے مگر اینکرصاحب فرماتے ہیں کہ چوہدری صاحب نے کہا تھا کہ پرویز مشرف ایک دو ہفتے کے بعد واپس آ جائیں گے یعنی پرویز مشرف کے باہر نکالنے میں سارے کاسارا بوجھ چوہدری صاحب پر ڈال دیا گیااور جو کچھ ایک ماڈل کے ملک سے باہر جانے کا عمل ہے وہ توسب کے سامنے ہے کہ وزارت داخلہ کو توہین عدالت تک کے نوٹس بھی دیئے گئے کہ انہوں نے ماڈل کو باہر جانے کی اجازت کیوں نہیں دی اب وہی عدالت ماڈل کو بار بار بلا رہی ہے مگر جو ڈاکو ایک دفعہ آپ کے حکم پر آپ سے دور ہو گیا ہے ۔

کیا وہ خوشی خوشی آپ کو اپنا ہاتھ پیش کرے گا کہ آپ اسے ہتھکڑی لگا کر جیل بھیج دیں اب ایک اور واقعہ حا ل میں ہی ہوا کہ ایک مباحثے میں ایک بڑے وکیل صاحب شامل ہوئے جو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے غالباً صدر بھی رہے ہیں ہمیں ایسے لوگوں کو سننے کا ہمیشہ شوق رہا ہے کہ ان کے اس قانونی نکتے اور قانون کی عملداری کے اطوار ہوتے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی شخصیت کسی بھی مناظرے یا مباحثے میں شریک ہووہ تعصب کی عینک اتار کر شریک ہو مگر ایسا شاید کبھی بھی نہیں ہو گا اسلئے کہ لوگ تجزیئے نہیں کرتے بلکہ اپنے پھپھولے پھوڑتے ہیں وکیل صاحب نے حکومت کیخلاف بہت سی باتیں کیں جنکی مباحثے میں ضرورت بھی نہیں تھی اس لئے کہ ان کو ایک لیگل ایکسپرٹ کے طور پر شامل گفتگو کیا گیا تھا مگر معلوم ہوا کہ وہ تو مکمل طور پر اینٹی نواز ہیں اور ہر وہ بات جو نواز شریف کے خلاف جا سکتی تھی وہ انہوں نے کہنی ضروری سمجھی۔ پتہ نہیں ہمارے لیگل ایکسپرٹ کا علم اتنے تک ہی ہے کہ جو نواز حکومت کے خلاف بولا جا سکے۔

انہوں نے خاص طور پر محترمہ مریم نواز شریف کی جے آئی ٹی میں پیشی کے مناظر کو ہدف تنقید بنایااس میں پولیس افسر کا محترمہ کو سلیوٹ کرنے کو ہد ف تنقید بنایا ۔ اب انہیں کون بتائے کہ جب بھی آپ کے سامنے کوئی شخصیت آتی ہے تو اُس کو لوگ سلام کرتے ہیں اور پولیس اور فوج کا سلام کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ وہ سلیوٹ کے ساتھ اسلام وعلیکم کہتے ہیں اگر ایک پولیس افسر نے ایک عورت کو سلام کیا ہے تو اس میں اعتراض کی کیا صورت بنتی ہے۔دوسری بات جو عارف چوہدری صاحب نے کی وہ بہت ہی قابل مذمت ہے کہ پولیس افسر نے مریم نواز کے پاؤں کو چھوا۔شاید جناب عارف چوہدری صاحب نے اُس وقت بھی کالی عینک پہن رکھی تھی جس میں سے وہ پولیس افسر کے نیچے جھکنے کی وجہ نہیں جان پائے اور ایک بہت بڑا الزام ایک پولیس افسر پر لگا دیا جبکہ پولیس افسر نے ایک قلم جو نیچے گر گیا تھا وہ اٹھا کر مریم نواز کو پکڑایا جو انہوں نے کار میں ڈال دیا اس بات کو ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے شخص نے جس طرح بیان کیا اس پرکیا کہا جا سکتا ہے ؟