بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / برہان وانی کی پہلی برسی کاپیغام

برہان وانی کی پہلی برسی کاپیغام


مقبوضہ کشمیر کے مسلمان آج حزب المجاہدین کے ہر دلعزیز نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی اس عزم واستقلال کے ساتھ منا رہے ہیں کہ ان کی قربانی اور جدوجہد کا لازوال سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مقبوضہ کشمیر سے بھارت کی جارح اور ظالم افواج نکل نہیں جاتیں اور جب تک کشمیر یوں کو عالمی وعدوں اور قیام پاکستان کے نامکمل ایجنڈے کے مطابق حق خودارادیت نہیں دے دیا جاتا واضح رہے کے برہان وانی کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر بھارتی حکمران بوکھلاہٹ شکار ہوکر پوری مقبوضہ وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کرتے ہوتے ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کے علاوہ سوشل میڈیااور موبائل فون سروس کو بھی بند کر چکے ہیں بھارتی سرکار نے پابندیوں اور کرفیو کے نفاذ کے باوجود متوقع احتجاج کے خوف سے وادی میں پہلے سے موجود سات لاکھ سے زائد مسلح افواج کے علاوہ21 ہزار اضافی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ حریت کا نفرنس کی ساری قیادت کو بھی نظر بند کر دیا ہے ۔واضح رہے کہ ایک سال قبل برہان مظفر وانی کی شہادت کے وقت بھارتی سور ماؤں کا خیال تھا کے اس نوجوان جہادی کمانڈر کی شہادت سے اگر وہ ایک جانب جہدوجہد آزادی پر یقین رکھنے والے نوجوان کو دبانے میں کامیاب ہوجائینگے تو دوسری طرف وہ اس بزدلانہ کاروائی سے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک مزاحمت کی راہ بھی کھوٹی کر سکیں گے لیکن بھارتی حکمرانوں کا یہ خیال اسوقت ریت کی دیوار ثابت ہوا جب گزشتہ سال8 جولائی کو برہان وانی کی دو ساتھیوں سمیت شہادت نے اُسے پوری وادی کا ہیروبنادیا تھا برہان وانی کی شہادت اور انکے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے آزاد رکن انجینئر عبد الرشید نے کہاتھاکہ شہید برہان وانی بھارتی حکمرانوں کیلئے زیادہ بڑ اچیلنج بن گیا ہے‘ وہ اب زیادہ دلوں پر حکومت کر رہا ہے اور کشمیری نوجوان اس کے نقش قدم پر چلنے کیلئے اب پہلے سے زیادہ بے تاب ہیں۔

اس تلخ حقیقت کا اعتراف خود بھارتی سورما بھی کر چکے ہیں کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد جدوجہدکشمیر میں نہ صرف تیزی آئی ہے بلکہ اس میں کشمیری نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں اور صرف گزشتہ ایک سال کے دوران تین سے پانچ ہزار کشمیری نوجوان مسلح جدوجہد میں شامل ہوچکے ہیں اس تازہ تحریک کے دوران گزشتہ ایک سال کے عرصے میں ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کے علاوہ سینکڑوں کو اپاہج اور معذور کیا جا چکا ہے پیلٹ گنوں کے بے دریغ اور بہیمانہ استعمال سے سینکڑوں افراد بینائی سے محروم ہو چکے ہیں شبے کی بنیاد پر مکانات اور کاروباری مراکز کو بارود سے اڑایا جا رہاہے مسلسل کرفیو‘ تشدد ‘ بلااشتعال فائرنگ ‘ آنسو گیس شیلنگ گرفتاریاں ‘ نظر بندیاں اور ہر عمر وطبقے کے لوگوں پر ظلم وتشدد روز مرہ کا معمول ہے بھارتی ہٹ دھرمی اور بے شرمی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے پرامن احتجاج کرنیوالی خواتین اور طالبات کو بھی نہیں بخشا اور انکے خلاف بھی ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال سے گریزنہیں کیا جا رہا ہے بھارتی مظالم سے نہتے کشمیری مسلمان ہی عذاب اور مصیبت میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ طاقت کے بے رحمانہ استعمال اور ریاستی جبر وتشددسے بھارتی سکیورٹی فورسز کی اکثریت بھی ذہنی مریض بن چکی ہے جسکے نتیجے میں آئے روز اپنے ہی افسران اور جوانوں کیخلاف فائرنگ کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

اسی طرح کشمیر کی بھڑکتی ہوئی صورتحال کا اندازہ جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کبھی امریکہ اور کبھی اسرائیل سے مدد طلب کرنے کی دہائیوں سے لگایا جا سکتا ہے وہاں بھارتی ایماء پر امریکہ کابلا سوچے سمجھے اقوام متحدہ کی قراردادوں اوراس کے چارٹر نیز انصاف کے مروجہ اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دینا بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آنکھیں چرانے سمیت امریکی اور بھارتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے اسی طرح اسرائیل اور بھارت کا حماس اور حزب المجاہدین کے خلاف مشترکہ کاروائی کے اعلان سے بھی یہود وہنود کی امت مسلمہ کے خلاف اعلانیہ گٹھ جوڑ کا اظہار ہوتا ہے۔ اس گٹھ جوڑ کیخلاف پاکستان کو نہ صرف کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت میں مزید کھل کر سامنے آنا ہو گابلکہ ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے علاقائی اور بین اقوامی سطح پر بھی اپنی کوششوں کوموثر بنانا ہوگا۔