بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ

بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ

بھارت ‘ امریکہ او ر اسرائیل کی گود میں جا بیٹھا ہے ایک وہ بھی دور تھا کہ بھارت فلسطینیوں کی جنگ آزاد ی میں یاسر عرفات کے شانہ بشانہ کھڑا تھا اور آج مودی فلسطینیوں اور کشمیریوں کی جنگ آزادی کو ایک ہی زمرے میں ڈال کر انہیں دہشت گردی قرار دے رہا ہے ایران کے مذہبی رہنما خامنائی نے اگلے روز کشمیریوں کی جنگ آزاد ی کی حمایت میں جو کھلم کھلا بیان دیا ہے وہ بڑا خوش آئند ہے ورنہ ایران کے علاوہ باقی تو تمام مسلمان ممالک کے سربراہان کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ان کے ہونٹ جیسے سلے ہوں وہ کھل کر اس مسئلے پر ہماری حمایت نہیں کر رہے سعودی عرب جس کی دوستی پر ہمارے بعض سیاست دانوں کو بڑا مان ہے وہ بھی دبی آواز میں کشمیر کا ذکر کرتا ہے مصر نے تو بھول کر بھی کبھی کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت میں ایک لفظ نہیں کہا عرب امارات قطر وغیرہ کہ جن کے شہزادے جب پاکستان میں شکار کیلئے آتے ہیں اور ہم ان کو ریڈ کارپٹ ویلکم دیتے ہیں ان میں کسی کو بھی خدا نے یہ توفیق نہیں دی کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے حق میں ایک بول بھی کہہ سکیں ہمارے حکمرانوں کو ایران کیساتھ اگر کوئی چھوٹاموٹا سرحدی تنازعہ ہے تو اسے فوراً حل کرکے اپنے برادر اسلامی ملک کیساتھ تعلقات کو خوشگوار بنانا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ ہی چین اور روس کیساتھ بھی اپنے تعلقات میں مزید بہتری لانی چاہئے ہم نے امریکہ نوازی میں ماضی میں روس کو خواہ مخواہ کئی موقعوں پر نالا ں کیا ہے اب ہمیں آگے بڑھ کر اسے گلے لگانا ہو گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو ہم بین الاقوامی سطح پر نہایت ہی جارحانہ انداز میں پیش کریں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ وزارت خارجہ کا قلمدان بھی وزیراعظم نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور وہ خودپانامہ لیکس کے مقدمے میں سر سے پاؤں تک بری طرح پھنسے ہوئے ہیں ان کو یہ پتہ نہیں کہ کل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اس قسم کے تذبذب میں مبتلا وزیراعظم بین الاقوامی امور پر بھلا کیسے سنجیدگی سے توجہ دے سکتے ہیں اور ایسا ناممکن نظر آتا ہے کہ وہ اپنی توجہ ایران اور روس کیساتھ تعلقات کو درست کرنے میں پوری طرح دے سکیں گے بڑے عرصے بعد وزیراعظم صاحب کے منہ سے اپنے حالیہ دورہ تاجکستان کے دوران یہ الفاظ نکلے ہیں کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بھارت کیساتھ تجارتی روابط مشکل نظر آتے ہیں ورنہ اب تک وہ اس ضمن میں خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے چلو دیر آید درست آید ادھر(ن)لیگ سخت سیاسی گرداب میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے تو دوسری جانب پی پی پی کے کرتا دھرتا سندھ میں نہایت ہی متنازعہ قسم کے فیصلے کررہے ہیں۔

سندھ کا بچہ بچہ جان چکا ہے کہ سندھ میں پی پی پی کے حکمران وہاں آئی جی پولیس خواجہ صاحب سے کیوں خفا ہیں؟ محض اسلئے کہ وہ کتاب کے مطابق چلنا چاہتا ہے جبکہ اس کے سیاسی باس یہ چاہتے ہیں کہ وہ ان کی من مانیوں پر عملدرآمد کرے سندھ کی حکومت عملاً نیب آرڈی نینس کو ختم کرکے اس کی جگہ ایک نیا قانون کیوں لانا چاہتی ہے محض اسلئے کہ وہ پی پی پی سے تعلق رکھنے والے ان لیڈروں کو جیل کی سلاخوں سے بچا سکے کہ جن پر کروڑوں روپوں کی مبینہ کرپشن کے الزامات ہیں دکھ اس بات کا ہے کہ ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ماضی سے کچھ بھی نہیں سیکھا اگر وہ کسی کرپشن کے مقدمے میں پھنس جائیں تو پہلے تو ریاستی اداروں میں کام کرنے والوں کو دھن سے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں اگر یہ حربہ کامیاب نہ ہو تو پھر ان کوڈرا دھمکا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔