بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پا نا مہ کیس ، جے آئی ٹی اپنی حتمی رپورٹ آ ج سپریم کورٹ میں پیش کرے گی

پا نا مہ کیس ، جے آئی ٹی اپنی حتمی رپورٹ آ ج سپریم کورٹ میں پیش کرے گی


اسلام آباد ۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں پانامہ جے آئی ٹی اپنی حتمی رپورٹ کل پیر کو پیش کرے گی سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی 126دن سماعت ہوئی تھی جے آئی ٹی نے 60دن میں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی جو 63دن کے بعد پیش کی جائے گی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کی نگرانی میں جے آئی ٹی کے 60اجلاس ہوچکے ہیں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے پانامہ فیصلے میں جے آئی ٹی کو 14سولات دیئے تھے کہ ان کے جوابات کے حوالے سے تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلہ میں نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل62,63کے حوالے سے نااہل قرار دینے نہ دینے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا اور قرار دیا گیا تھا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا جبکہ حتمی رپورٹ تیارکر کے آج عدا لت میں پیش کی جا ئے گی رپورٹ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں پر لگنے والے الزامات کے درست یا غلط ہونے سے متعلق حقائق پر مبنی ہوگی جے آئی ٹی نے رپورٹ مرتب کرنے کیلئے دن رات کام کیا قطری شہزادہ قطر میں پاکستانی سفارتخانے میں بیان ریکارڈ کرانے سے انکار ی ہے۔

جے آئی ٹی قطری شہزادے کی رہائش گاہ پر بیان ریکارڈ نہیں کرنی چاہتی ہفتہ کو وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی کا اجلاس ایڈیشل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کی زیر صدارت ہوا رپورٹ تمام ارکان کی طرف سے متفقہ طور پر تیار کی جارہی ہے رپورٹ لکھنے کا کام نیب کے نمائندے عرفان نعیم منگی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بمائندے عامر عزیز کو سونپا گیا ہے جبکہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء تمام عمل کی نگرانی کررہے ہیں اور جے آئی ٹی دیگر تین ارکان بھی رپورٹ کی تیاری میں معاونت کررہے ہیں ۔

عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی کو رپورٹ جمع کرانے کیلئے 7جولائی کی بجائے 10جولائی تک کا وقت دیا تھا جے آئی ٹی ارکان واجد ضیاء کی قیادت میں پیر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو پانامہ کیس کی مکمل تحقیقات کی روشنی میں اپنی رپورٹ جمع کرائیں گے جس میں جے آئی ٹی کے سفارشات بھی شامل ہوں گی،ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے قطری شہزادے حماد بن جاسم سے ہونے والی خط وکتابت کے جائزے سمیت تمام بیانات اورشواہد کو دستاویزی شکل دی جارہی ہے۔

بیرون ملک سے حاصل ہونے والے شواہد کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے جب کہ آڈٹ فرمزکی رپورٹ اور دبئی سے ملنے والی دستاویزات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔ عدالت عظمیٰ اس رپورٹ کا مکمل تجزیہ کرنے اور جائزہ لینے کے بعد شارٹ آرڈر بھی دے سکتی جبکہ سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کو ریفر کرسکتی ہے کہ وہ معاملے پر نیابینچ تشکیل دیں یا پرانا بینچ ہی معاملے کی سماعت کرے جے آئی ٹی میں اب تک وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ،حسن نواز ،حسین نواز، مریم نواز، شہباز شریف، اسحاق ڈار،رحمان ملک ،رقمرزمان چوہدری چیئرمین نیب طارق شفیع نشنل بینک کے صدر ظفر احمد و دیگرز پیش ہوا کر اپنے بیانات ریکارڈ کرچکے ہیں