بریکنگ نیوز
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / ری چارجنگ کے جھنجھٹ سے چھٹکارا

ری چارجنگ کے جھنجھٹ سے چھٹکارا

موبائل فون انتہائی مفید ایجاد ہے مگر اس سے کام لینے کے لیے اسے بار بار چارج کرنا پڑتا ہے۔ یہ اس کا ایک منفی پہلو ہے کیوں کہ بعض اوقات پاکستان جیسے ملک میں جہاں گھنٹوں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، موبائل کی بیٹری کو ری چارج کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس وقت یہ آلہ ناکارہ ثابت ہوتا ہے۔ سیل فون بنانے والی کمپنیاں اس کی بیٹری کو زیادہ سے زیادہ دیر تک چارج رکھنے کے قابل بنانے پر مسلسل تحقیق کررہی ہیں، مگر ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں بیٹری کی ضرورت ہی باقی نہ رہے کیوں کہ سائنس دانوں نے بیٹری کے بغیر چلنے والا موبائل فون بنا لیا ہے! کسی بھی برقی یا میکانیکی آلے کو فعال ہونے کے لیے توانائی بہرصورت درکار ہوتی ہے، یہ موبائل اطراف موجود ہوا سے توانائی حاصل کرتا ہے !

محققین نے اس موبائل فون کا بنیادی نمونہ تیار کیا ہے، چناں چہ یہ موجودہ سیل فونز سے یکسر مختلف ہے تاہم واشنگٹن یونی ورسٹی کی تحقیقی ٹیم کے مطابق مستقبل میں یہ آلہ جدید موبائل کی شکل اختیار کرلے گا۔ موبائل فون کے اس نمونے یا پروٹوٹائپ کا انحصار ریڈیائی لہروں کے انعکاس کے ذریعے رابطہ کاری کی تیکنیک پر ہے جو معکوس انتشار ( backscatter ) کہلاتی ہے۔ یہ تیکنیک سرد جنگ کے زمانے میں مستعمل آلات جاسوسی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی۔ واشنگٹن یونی ورسٹی کی ٹیم اس تیکنیک کو ازسرنو عام کرنے پر تحقیق کررہی ہے۔ قبل ازیں یہ ٹیم اس ٹیکنالوجی پر منحصر ایک ’ سنگنگ پوسٹر‘ اور ’ پیسیو وائی فائی سسٹم ‘ وضع کرچکی ہے۔

محققین اس فون کے ذریعے کال کرنے کے کام یاب تجربات کرچکے ہیں۔ آواز کی کوالٹی اگرچہ اتنی بہتر نہیں مگر بات چیت بہرحال ممکن ہوسکتی ہے۔ تحقیقی ٹیم کے رُکن وامسی تلا کے مطابق انسانی آواز پر مشتمل اینالاگ اشارات کی ڈیجیٹل اشارات میں تبدیلی کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ اگر ہم اینالاگ ٹیکنالوجی ہی میں گفت و شنید کرنے کے قابل ہوجائیں تو پھر توانائی کی بے انتہا بچت ہوسکتی ہے۔ بیٹری پر انحصار نہ کرنے والے اس فون کی بنیاد اسی ٹیکنالوجی پر ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کم توانائی کے حامل ریڈیائی اشارات پر انحصار کرتی ہے جو ہمارے اطراف کے ماحول میں پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں۔

بیٹری فری فون فی الوقت بالکل ابتدائی مرحلے میں اور صرف ایک نمبر پیڈ اور ایل ای ڈی ڈسپلے پر مشتمل ہے مگر اسے بنانے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ ایک دن یہ بھی موجودہ سیل فونز کی شکل اختیار کرجائے گا۔ فون کا ڈیزائن جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے ایک آلے سے متأثر ہے۔ یہ آلہ سرد جنگ کے زمانے میں روسی جاسوس استعمال کرتے تھے جو صرف مخصوص تعدد یا فریکوئنسی کی ریڈیائی لہروں کے ذریعے کام کرتا تھا۔

بیٹری فری فون کی رینج فی الحال محض پندرہ میٹر ہے جو آنے والے دنوں میں عام سیل فون کی طرح کئی سو میٹر ہوجائے گی۔ محققین سیل فون پر تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل قریب میں یہ فون عام استعمال میں آجائے گا۔ اس کی آمد سیل فون انڈسٹری میں انقلابی ثابت ہوگی وہیں صارفین کو بیٹری کی ری چارجنگ کے جھنجٹ سے بھی نجات مل جائے گی۔