بریکنگ نیوز
Home / صحت / پاکستانی طلبا کی معذوروں کی زندگی بہتر بنانے والی شاندارایجادات

پاکستانی طلبا کی معذوروں کی زندگی بہتر بنانے والی شاندارایجادات


کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے طالبعلموں نے آٹزم، پارکنسن اور فالج کے شکار مریضوں کی مدد کے لئے مختلف انواع و اقسام کے ایسے شاندار پراجیکٹس تیار کئے ہیں جنہیں جان کر آپ بلا ساختہ ملک کے ہونہار طالبعلموں کو داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر فرزانہ اشفاق اور دیگر سینیئر اساتذہ کی زیر نگرانی ڈاؤ یونیورسٹی کے شعبہ میڈیکل ٹیکنالوجی کے تحت آکیوپیشنل تھراپی ڈپارٹمنٹ کے طالبعلموں کی تیار کردہ ایجادات اور اختراعات کی نمائش ہوئی جس میں طالبعلموں کی جانب سے فالج، دماغی عارضوں، حادثات اور دیگر وجوہ سے متاثر ہونے والے مریضوں کی مدد کے لیے مختلف پراجیکٹس پیش کئے گئے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے طالبعلوں کی جانب سے آٹزم اور سیریبرل پالسی ( بچپن سے دماغ پر اثر انداز ہو کر مفلوج کرنے والی بیماری) کے شکار بچوں میں سیکھنے، لکھنے اور احساس پیدا کرنے والے بھی کئی پروجیکٹس شامل تھے۔

یونی ورسٹی کی دو طالبات اریبہ خان اور عبیرہ قاسم نے گرومنگ کِٹ تیار کی جس کے ذریعے خواتین لپ اسٹک، نیل پالش اور بالوں میں کنگھا کرسکتی ہیں۔ مرض یا معذوری کی وجہ سے کئی افراد کا ہاتھ مطلوبہ مقام تک نہیں پہنچ پاتا اور اسی لیے مختلف اشیا پر ہلکے پھلکے اور طویل ہینڈل لگائے گئے تھے تاکہ خواتین باآسانی اس گرومنگ کٹ کا استعمال کر سکیں۔

خصوصاً چلنے پھرنے سے معذور افراد کو بستر سے وہیل چیئر اور غسل خانے تک منتقل کرنا ایک بہت مشکل عمل ہوتا ہے۔ اس مسئلے کا حل حفصہ سخی اور اثنا آصف نے ’ ایک خمیدہ تختہ‘ Curve Transfer Board  کی صورت میں پیش کیا۔ اس کے ذریعے مریض کو بستر سے وہیل چیئر اور وہیل چیئر سے کموڈ تک آسانی سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔

رمشہ منصور اور کشف فاطمہ نے آٹزم زدہ بچوں میں نفیس حرکات (فائن موٹر موومنٹس) کو فروغ دینے اور انہیں مصروف رکھنے کے لیے کارڈ بورڈ پر جانوروں کی تصاویر بنائیں جن میں سوراخ تھے اور ان میں موٹی ڈور گزر سکتی ہیں۔ طالبات نے بتایا کہ بچے جانوروں کی تصاویر میں دلچسپی لیتے ہیں اور ان کے کٹ آؤٹ میں بنائے گئے چھید سے وہ دوڑ گزار کر اپنے ہاتھوں اور انگلیوں کی حرکات کی بہتر مشق کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے قلم پر مختلف چیزوں کا اضافہ کرکے مریضوں کو لکھنے کے قابل بنانے والی اشیا بھی تیار کی تھیں۔

ایک اسٹال پر رباب ڈوسن اور اُمِ لیلیٰ نے ’ایڈاپٹوو کٹلری سیٹ‘ بنا کر پیش کیا۔ اس میں ایک خمیدہ چمچہ بھی شامل ہے جس میں کھانے والا حصہ 90 درجے تک بائیں جانب مڑا ہوا تھا۔ فالج اور الزائیمر کے باعث ہاتھوں میں کپکپاہٹ اور کمزوری کے شکار افراد سیدھے چمچے سے کھانا نہیں کھا سکتے اور یوں مڑے ہوئے چمچے سے کھانے پینے میں آسانی رہتی ہے۔

ان کی ایک اور اختراع مریض کے لیے ایسی بیڈ ٹیبل بھی تھی جو ایک ساتھ کھانے اور پڑھنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ مریض بستر پر نیم دراز ہو کر کتاب کا مطالعہ اور ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ دیکھ سکتا ہے جبکہ اس کا تختہ سیدھا کر کے کھانے پینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حافظہ نمریٰ اور غزہ توصیف نے 3 سے 6 برس کے بچوں کے لیے واکر کا ایک ماڈل تیار کیا جس کے ذریعے چلنے میں دقت محسوس کرنے والے بچے آسانی سے چلنے کی مشق کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ایک اور سافٹ ماڈل بھی تیار کیا جس کے ذریعے فالج اور دیگر امراض کے شکار افراد اپنے ہاتھوں اور انگلیوں کی مشق کرسکتے ہیں۔ اس چوکور ڈبے کی اطراف مختلف زپ، بکل اور دیگر لاک لگائے گئے ہیں۔

اگلے اسٹال پر عائشہ اعوان اور زرمین حسن نے الزائیمر، پارکنسن اور دیگر امراض کے شکار افراد کے لیے بہت کارآمد اشیا تیار کر رکھی تھیں۔ ان میں مختلف الاقسام کے برش، جوتے پہنانے میں مددگار اسٹک، لباس کے بٹن کھولنے اور بند کرنے والے ہک اور مختلف گرپنگ اوزار شامل تھیں۔

ڈاؤ کی طالبات کے ایک گروپ میں عروہ قائد اور اُمِ ہانی جُوزر ایک جانب تو تین مختلف ہینڈل والی مہریں (اسٹیمپ) تیار کیں اور دوسری جانب کئی اقسام کے ذاتی صفائی اور نہانے کے برش بنائے۔

اسٹیمپ کے دستے خاص انداز میں تیار کیے گئے ہیں تاکہ مریض انہیں گرفت کی مشق کرسکیں اور مہر لگا کر اپنی استعداد بڑھا سکیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ہاتھوں کی کپکاہٹ، رعشہ اور دیگر امراض میں مبتلا افراد اپنی ذاتی صفائی میں بہت مشکل محسوس کرتے ہیں۔ اسی ٹیم نے ان کے لیے خاص خمیدہ برش بنائے ہیں جن سے غسل کے دوران کمر صاف کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ناخنوں کا صاف کرنے کا ایک برش بھی بنایا گیا ہے۔ یہ اختراعات تخلیقی چیلنج کے تحت بنائی گئی ہیں۔

ایک اور تخلیقی ٹیم کی ایجادات بھی قابلِ ذکر ہیں جنہیں آکیوپیشنل تھراپی کی دو طالبات مریم لیاقت اور عافیہ اصغر نے تیار کیا ہے۔ ان میں پھونک سے چلنے والا ایک گیم ہے جسے ’بلو گیم‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں پھونک کے ذریعے گیند کو مختلف مقامات تک لے جایا جاتا ہے اور بورڈ پر لگے حروفِ تہجی اور اشیا کے نام سے بچوں کی پہچان کرائی جاتی ہے۔ مقصد یہ کہ آٹزم کے شکار بچے ایک جانب تو پھونک مارنے کی مشق کرسکیں اور کھیل کھیل میں وہ مختلف اشیا کی نام بھی پہچان سکیں۔

شہاب الدین اور ارباب ولی کی ٹیم نے سی سا گیم بنایا تھا جس کے ذریعے مریض مختلف وزن اٹھانے کی درست ترین مشق کرسکتے ہیں۔ اس سادہ لیکن اہم ایجاد سے ایک جانب تو فالج کے مریض اپنی موٹر حرکات کو بہتر کر سکتے ہیں تو دوسری جانب ان کے پٹھوں کی قوت بڑھتی ہے۔

فاخر انصاری اور عبدالصمد نے ایک اہم اسٹک بنائی تھی جسے ہم چمٹا کہہ سکتے ہیں لیکن او ٹی کی زبان میں ایسے آلات کو ریچر کہا جاتا ہے۔ اس کے ایک کنارے پر دو آنکڑے نصب ہیں اور ان کا ٹریگر نما بٹن آپ کے ہاتھ کے پاس ہوتا ہے یوں بٹن دبا کر کسی بھی شے مثلاً گلاس، کتاب اور دیگر اشیا کو اٹھایا جاسکتا ہے۔

عبدالصمد نے بتایا کہ یہ ریچر پاکستان سے باہر بہت مہنگے ہیں یعنی 15000 روپے تک میں ملتے ہیں جبکہ ان کی ایجاد صرف 3 سے 5 ہزار روپے میں بنی ہے اور اب ان کی بڑے پیمانے پر آزمائش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے آٹزم والے بچوں کو لکھنے میں مدد دینے والا ایک بورڈ بھی ڈیزائن کیا ہے۔

روشین زاہرہ اور حاجرہ نے مختلف اوزان والی ایک جیکٹ تیار کی ہے جس کے ذریعے مریض مختلف وزن اٹھا کر ان کی مشق کرسکتے ہیں۔

اقرا رانی اور فقیہہ نے 4 سے 8 سال تک کے آٹزم کے شکار مختلف مسائل کو دور کرنے کے لیے ’جیواورینٹیشن بورڈ‘ تیار کیا ہے جس کے ذریعے وہ ربر بینڈ کو مختلف اشکال میں لگا سکتے ہیں جبکہ رنگ برنگے بینڈز کے ذریعے وہ ایک گھڑی میں مختلف اوقات بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ اس بورڈ کے ذریعے بچوں کو مختلف اشکال سے آشنا کرانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

آٹزم بچوں کو احساس سے عاری کر دیتی ہے اور وہ چھونے اور محسوس کرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے صبا مدھانی اور رُفیضہ شوکت نے ایک خاص چٹائی بنائی ہے جو بچوں کو گھاس، پلاسٹک اور کپڑے کا ٹیکٹائل یعنی چھو کر پہچاننے کا احساس فراہم کرتی ہے۔

آخر میں اول، دوم اور سوم آنے والے پروجیکٹس کو انعامات دیئے گئے۔ پہلا انعام فاخر اورعبدالصمد کے ریچر کو دیا گیا، جبکہ ٹیکٹائل فیڈ بیک والی چٹائی بنانے پر صبا مدھانی اور رفیضہ کو دوسرا انعام دیا گیا۔ تیسرا انعام لیلی اور رباب کو اورہیڈ ٹیبل بنانے پر دیا گیا۔ ایک خصوصی انعام ویٹ جیکٹ بنانے پر حاجرہ اور روشین زہرہ کو دیا گیا۔

اس موقع پر پاکستان کی پہلی آکیوپیشنل تھراپسٹ محترمہ نگہت لودھی بھی موجود تھی۔ تصویر میں دکھائی دینے والی ڈاکٹر نگہت نے 1973 میں پاکستان میں آکیوپشنل تھراپی کی بنیاد رکھی تھی اور اب بھی وہ پرعزم ہو کر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسس کے آکیوپیشنل تھراپی ڈپارٹمنٹ کی خدمات کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ ان کا ایک دلچسپ پروگرام یہ بھی ہے کہ وہ معذور افراد کے گھروں میں جا کر ان کا میک اوور کر کے گھر کو ان کے مرض کے لحاظ سے مرتب کرتے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی میں آکیوپیشنل تھراپی کی سینیئر لیکچرر فرزانہ اشفاق نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس نمائش میں موجود اکثر ایجادات اور اختراعات پہلے بھی تیار کی جا چکی ہیں تاہم ان کی قیمت بہت زیادہ ہے جو سرکاری اسپتال میں آنے والے سینکڑوں مریضوں کو فراہم نہیں کی جا سکتیں؛ اسی لیے انہیں مقامی طور پر انتہائی کم قیمت میں تیار کیا گیا ہے اور یہی اس نمائش کا اہم مقصد بھی تھا۔