بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جے آئی ٹی ارکان حتمی رپورٹ جمع کرانے سپریم کورٹ پہنچ گئے

جے آئی ٹی ارکان حتمی رپورٹ جمع کرانے سپریم کورٹ پہنچ گئے


اسلام آباد: پاناما پیپرز کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ارکان اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے کے لیے عدالت پہنچ گئے۔

اس موقع پر عدالتِ عظمیٰ کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور رینجرز کے خصوصی دستے نے جے آئی ٹی ارکان کو سیکیورٹی فراہم کی۔جے آئی ٹی ارکان واجد ضیاء کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پیش ہوکر جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں 3 رکنی عمل درآمد بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔جس وقت جے آئی ٹی کے ارکان سپریم کورٹ پہنچے تو ان کے ساتھ دو باکس بھی کمرہ عدالت میں لے جائے گئے جن پر لفظ ’ثبوت‘ تحریر تھا۔

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 60 روز کا وقت دیا تھا تاہم گذشتہ ماہ عدالت عظمٰی نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے کہا تھا کہ وہ اپنی حتمی رپورٹ 10 جولائی کو عدالت میں جمع کرائے۔ یاد رہے کہ رواں برس 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔ اس کے بعد 6 مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

جے آئی ٹی کا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کو مقرر کیا گیا جبکہ دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو (نیب) کے گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔

گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی ہدایت پر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی جانے والی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی کو ریکارڈ ٹیمپرنگ میں ملوث قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تجویز دی تھی۔

ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے 28 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس کے مطابق ایس ای سی پی کے چیئر مین ظفر حجازی ریکارڈ کے ردو بدل میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی درخواست پر جاری حکم کے بعد شروع کی تھیں جس میں جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ کچھ سرکاری ادارے متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کر رہے جبکہ کچھ ریکارڈ میں ردوبدل بھی کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے 5 جولائی کو وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔