بریکنگ نیوز
Home / کالم / میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو

میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو

اگر توجے آئی ٹی وقت مقررہ پر یعنی آج اپنی حتمی رپورٹ عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کر دیتی ہے اور سپریم کورٹ کسی نقطے کی مزید وضاحت کیلئے اس کے ٹائم فریم میں اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی تو اس صورت میں پانامہ لیکس کے مقدمے کا فیصلہ آئندہ چند دن میں آ سکتا ہے ابھی فیصلہ آیا نہیں یعنی بعض حکومتی رہنماؤں کے اعصاب شل ہوتے نظر آرہے ہیں غلطیاں دونوں جانب سے سرزد ہوئی ہیں(ن) لیگیوں کو جے آئی ٹی میں ملزموںیا گواہوں کی ہر پیشی کے بعد جوڈیشل اکیڈمی کے باہر ڈائس لگا کر ٹیلی ویژن چینلز کے کیمروں کے سامنے آ کر تبصرے کرنیکی کیا ضرورت تھی اسی طرح (ن)لیگ کے حریف سیاستدانوں کو بھی یہی طرز عمل اپنانا نہیں چاہئے تھا دوسر ی طرف جے آئی ٹی کو بھی خاموشی کیساتھ کسی ہلچل کے بغیر اپنا کام کرنا چاہئے تھا بزرگ قانون دان تو یہ فرما گئے ہیں کہ ججوں کو صرف اپنے فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہئے کسی بھی مقدمے کی کاروائی کے دوران ان کے منہ سے قطعاً ایسے ریمارکس نہیں نکلنے چاہئیں کہ جن سے عدالت میں موجود کسی فرد کورتی بھر بھی یہ اندازہ ہو جائے کہ ججزکارجحان کس جانب ہے افسوس کہ بزرگوں کی اس بات پر آج کل دھیان نہیں دیا جا رہا عیدالفطر کے بعد دھیرے دھیرے غیر اعلانیہ الیکشن مہم کا آغاز ہو چکا گو کئی پارٹیوں نے اپنے سیاسی کارڈ ابھی تک اپنے سینے کے ساتھ رکھے ہیں وہ انہیں ابھی آشکارنہیں کر رہی ہیں ان کو پانامہ لیکس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کاانتظار ہے وہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس ملک میں اصولوں کی سیاست تو کبھی بھی نہیں ہوئی ابن الوقتی ۔

موقع پرستی اور مفاد پرستی ہمارے سیاست کا ہمیشہ سے جزولاینفک رہی ہیں ہوا کا رخ دیکھ کر ہمارے سیاستدان یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس سیاسی گھوڑے پر بازی لگانی ہے (ن)لیگ اگر کسی وجہ سے اس سیاسی گرداب سے کامیابی کیساتھ باہر نکل آتی ہے کہ جس میں وہ سردست پھنسی ہوئی ہے تو اس صورت میں تو پھر اسکے وارے نیارے ہو جائینگے اور موقع پرست سیاسی پارٹیاں ظاہر ہے کہ اس کی طرف ہی لپکیں گی لیکن اگر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اس نوعیت کا آجاتا ہے کہ جس سے اس کی ہوا اکھڑ جاتی ہے تو غالب امکان پھر یہ ہے کہ اس کی منڈھیر سے کئی فصلی بٹیرے اڑ جائیں گے زرداری صاحب نے جو ش خطابت میں یہ تو کہہ دیا کہ پی پی پی کو چھوڑ کر دوسری سیاسی پارٹیوں میں شامل ہونے والے لوگ گندے انڈے ہیں اور یہ کہ ان کو ان سیاسی پارٹیوں کے قائدین بھی الیکشن میں ٹکٹ نہیں دیں گے کہ جو انہوں نے جائن کر لی ہیں۔

لیکن نہ جانے وہ یہ بات کیوں بھول گئے کہ انہیں اتنے لمبے عرصے بعد اب کیسے جا کر پتہ چلا کہ وہ گندے انڈے ہیں؟ان گندے انڈوں کی بو انہیں اس وقت کیوں نہ آئی کہ جب وہ انکی پلیٹ میں پڑے ہوئے تھے؟ بدقسمتی سے اس ملک کی سیاست ہی یہی ہے کہ یہاں سیاسی انتخابی حلقوں کی پالیٹکس کی جاتی ہے ہر سیاسی پارٹی کا قائد یہ دیکھتا ہے کہ جس فرد کو وہ اس کا ٹکٹ دے رہا ہے کیا اس کے پاس اتنا دھن ہے ‘ اتنی برادری ہے کہ وہ یہ سیٹ جیت سکے ؟ مسلک‘ لسانیت‘ برادری اور پیسہ الیکشن جیتنے میں بڑا کام دیتے ہیں ہر سیاسی پارٹی کا قائد یہ نہیں دیکھتا کہ جس فردکو وہ ٹکٹ دے رہا ہے وہ کتنا پڑھا لکھا ہے کتنا صالح اور شریف ہے یہ صفات اس کے نزدیک بے معنی ہیں اس روش اور عوامی سوچ میں تبدیلی کیسے آئے گی ؟ غالباً سوشل میڈیا ہی اس ضمن میں اہم رول ادا کر سکتا ہے۔