بریکنگ نیوز
Home / کالم / رحیم اللہ یوسفزیٰ / دہشت گردی: پارا چنار کے واقعات!

دہشت گردی: پارا چنار کے واقعات!


جمعۃ الوداع رمضان المبارک کے مقدس و بابرکت ایام میں خاص اہمیت کا حامل دن ہوتا ہے لیکن رواں برس 23جون کے روز جمعۃ الوداع کے موقع پر پاراچنار میں دہشت گردی نے ایک المناک داستان رقم کی ۔ ماہ رمضان المبارک میں روزہ داروں کے لئے عیدالفطر کا تہوار مسرتوں اور انعامات کا موقع ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ سوگوار پاراچنار میں جاں بحق ہونیوالوں کی یاد اور غم حاوی رہا۔ دہشتگرد حملے کے زخمیوں کے علاج معالجے اور شہید ہونیوالوں کے پسماندگان کو تسلیاں دیتے ہوئے عیدالفطر گزر گئی!پاکستان کے دورافتادہ حصے میں واقع کرم ایجنسی سے تین اطراف میں افغانستان کے شورش زدہ صوبے خوست‘ پکتیا اور ننگرہار جڑے ہوئے ہیںیہاں غیرمسلح مقامی افراد کو اکثر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور کرم ایجنسی کے رہنے والے ہمیشہ ہی سے گلہ مند رہتے ہیں کہ انہیں نہ صرف پاکستان کی حکومت نظرانداز کرتی ہے بلکہ ذرائع ابلاغ‘سول سوسائٹی‘ قانون ساز ایوان اور دیگر ریاستی ادارے بھی خاطرخواہ اہمیت نہیں دیتے۔پارا چنار کے مصروف و مرکزی طوری بازار میں بم دھماکہ ہوا جس کے زخمیوں کی مدد کے لئے بڑی تعداد میں مقامی لوگ جب جائے وقوعہ پر پہنچے اور بھیڑ لگ گئی تو اسی اثناء میں دوسرا دھماکہ ہوا‘ جسکی وجہ سے جانی نقصانات اور مہلک زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن صرف یہی نہیں ہوا بلکہ پے در پے دھماکوں اور اپنے عزیزواقارب کی ہلاکتوں پر احتجاج کرنیوالوں نے جب اس ممنوعہ علاقے میں گھسنے کی کوشش کی جہاں ایجنسی انتظامیہ اور فرنٹیئر کور کے دفاتر و تنصیبات ہیں تو ان پر سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کردی۔

جس سے مزید چار ہلاکتیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے یوں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 75تک جا پہنچی جبکہ 261 دیگر زخمی ہوئے! یہ وہ موقع تھا جب پاراچنار کے رہنے والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا کیونکہ یہ پاراچنار میں ہونیوالا تیسرا بڑا دہشت گرد حملہ تھا۔ قبل ازیں رواں برس کے جنوری اور مارچ میں اسی نوعیت کے خونیں حملے ہوئے تھے۔ 23جون کو ہونیوالے حملے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کی ان تین حملوں میں 133 افراد ہلاک جبکہ 555 زخمی ہوئے۔ اگر ہم پاراچنار کی آبادی کو مدنظر رکھیں تو دہشت گرد حملوں سے متاثرہ افراد کی تعداد غیرمعمولی طور پر بڑی ہے سکیورٹی اداروں کی جانب سے پاراچنار کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ بنانے کی کوششیں اس لئے بھی کارآمد ثابت نہیں ہوئیں کیونکہ عسکری گروہ اسلامک سٹیٹ (داعش) اور اس کی اتحادی تنظیمیں جن میں لشکرجھنگوی العالمی اور جماعت الاحرار شامل ہیں متحد ہو کر حملے کرتی ہیں۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ دہشت گرد حملے کے8دن بعد30 جون کے روز پاراچنار پہنچے۔ فوجی ذرائع کے مطابق ان کے تاخیرسے پہنچنے کی وجہ خراب موسم تھا۔ جنرل باجوہ نے عمائدین علاقہ اور بزرگوں سے ملاقات کی اور انکے چند مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ حفاظتی امور زیادہ سخت کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔پاراچنار دہشت گرد حملوں کے خلاف آٹھ روز تک جاری رہنے والے احتجاجی دھرنا پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات اور یقین دہانی پر اختتام پذیرہوا جس میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے پسماندگان اور لواحقین کے علاوہ بڑی تعداد میں نوجوان شریک تھے احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ پاک فوج کے سربراہ اور وزیرداخلہ کی پاراچنار آمد چاہتے تھے تاکہ وہ ان کی حالت زار کا قریب سے مشاہدہ کر سکیں اور انکے گیارہ مطالبات کے حل کی سبیل کریں۔ جنرل باجوہ نے کرم ملیشیا کے کمانڈنٹ کرنل عمر ملک کو ہٹانے اور سکیورٹی فورسز کی احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کی تحقیقات کے علاوہ پاراچنار اور اس سے متصل افغان سرحد پر اضافی فوجی دستے تعینات کا حکم دیا۔

انہوں نے کہا کہ کرم ملیشیاء کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے چار مظاہرین کے پسماندگان کو فرنیٹئر کور کی جانب سے مالی امداد دی گئی ہے۔ انہوں نے پاراچنار میں آرمی پبلک سکول کو مقامی ہیرو میجر گلفام حسین کے نام سے منسوب کیا اور اسے کیڈٹ کالج کا درجہ بھی دیا۔ یاد رہے کہ میجر گلفام حسین نے اورکزئی ایجنسی میں عسکریت پسندوں کیساتھ مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا مستقبل میں دہشت گرد حملوں کی روک تھام کے لئے پاراچنار میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ جنرل باجوہ نے وعدہ کیا کہ وہ طوری رضاکاروں کو حفاظتی انتظامات کا حصہ بنائیں گے اور اِن رضاکاروں کو گشت و چیک پوسٹوں پر تعینات فوجیوں کے ہمراہ رکھا جائے گا۔ پاراچنار کے رہنے والوں کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ احمدپور شرقیہ میں آئل ٹینکر حادثے میں جاں بحق افراد کی طرح پاراچنار کے دہشت گردحملوں میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے پسماندگان کو دی جانے والی امدادی رقم میں اضافہ کیا جائے جس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ وہ یہ معاملہ وفاقی حکومت کے سپرد کرتے ہیں یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے احمدپور شرقیہ میں ہر ہلاک ہونے والے کو بیس لاکھ جبکہ پارا چنار میں دس لاکھ روپے جبکہ پارا چنار کے ہر زخمی کے لئے پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

پاک فوج کے سربراہ کے اِن الفاظ کہ ’’تمام پاکستانیوں سے ایک جیسا سلوک ہونا چاہئے‘‘سے وفاقی حکومت کو یہ واضح پیغام مل چکا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے والوں کی جان و مال کی قیمت و اہمیت ایک جیسی ہی سمجھی جائے۔گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا 4 جون کو دو روزہ دورے پر پاراچنار پہنچے۔ ملک کی تمام اعلیٰ شخصیات کا شورش زدہ علاقوں بالخصوص قبائلی علاقہ جات کا دورہ کرنے سے قبل حفاظتی انتظامات کے لئے پاک فوج کے وسائل و اجازت نامے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا نے متاثرین اور ان کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ گورنر نے مرنے اور زخمی ہونے والوں کے لئے حکومتی امداد کے چیکس بھی تقسیم کئے۔مقتل گاہ پارا چنار میں زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ دفاتر بازار اور تعلیمی ادارے رفتہ رفتہ کھلتے چلے گئے لیکن دہشت گردی سے لگے زخم مندمل اور اپنوں کے بچھڑنے کا دکھ کم ہونے میں ایک عرصہ لگے گا! بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں پاراچنار دہشت گرد حملوں سے محفوظ رہے گا؟ سردست قریب چوبیس کلومیٹرز پر پھیلا پاراچنار حصار میں ہے جہاں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے اور ان چیک پوسٹوں پر مقامی رضاکار بھی تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ ریاست کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائیں۔ (بشکریہ: دی نیوز‘ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)