بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / تعلیمی پالیسی: زوال پذیری!

تعلیمی پالیسی: زوال پذیری!


چار سال گزر گئے لیکن شعبۂ تعلیم میں بہتری کے حوالے سے خیبرپختونخوا کی ناکامی کے محرکات‘ وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین جیسا آسان ہدف بھی اگر حاصل نہیں کیا جا سکا تو پھر کس طرح اُمید کی جاسکتی ہے کہ تحریک اِنصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت سرکاری تعلیمی اِداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے زیادہ مشکل فیصلے کر پائیگی!؟ رواں ہفتے امتحانی نتائج کا اعلان ہوا۔ حسب سابق سرکاری تعلیمی اِداروں کی کارکردگی مایوس کن رہی لیکن شاید اِس مرتبہ بھی ’رات گئی بات گئی!‘۔۔۔ مقام شکر ہے کہ خودفریبی اُور خودستائش جیسے امراض میں مبتلا صوبائی محکمہ تعلیم نے اس حقیقت کو (بادل نخواستہ) تسلیم کر لیا ہے کہ سرکاری تعلیمی اِداروں کے اِمتحانی نتائج اِن کی کارکردگی جانچنے کا معیار ہیں لیکن مضحکہ خیز اَمر یہ ہے کہ ہنگامی اجلاس میں شرکت کیلئے انہیں طلب کیا گیا ہے جو سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی کے لئے ذمہ دار نہیں اور نہ ہی انکے چیئرمینوں کی طلبی‘ مسئلے کا حل ثابت ہوگی کیونکہ یہ بیچارے ’فرمان تابع بابو‘ نیک خواہشات اور حکومت کے منظور نظر رہنے کیلئے اپنی مرضی سے چاہیں بھی تو اضافی نمبر نہیں دے سکتے البتہ اگر صوبائی حکومت قانون سازی یا قواعد میں ترامیم کے ذریعے سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کے لئے مستقل خصوصی نمبروں کا اعلان کردے تو کوئی وجہ نہیں کہ سالانہ امتحانی نتائج کی صورت نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنیوالوں کی فہرست اس کیلئے خاطرخواہ نیک نامی کا باعث قرار پائے! صوبائی حکومت کو چکمہ دینے کے لئے اِس قسم کے اعدادوشمار مرتب کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

‘ جن سے ثابت کیا جاسکے کہ کوئی اگر صوبے کے آٹھ امتحانی بورڈز میں سے کسی ایک بورڈ میں بھی سرکاری سکولوں کے طلباء وطالبات پہلی 20نمایاں پوزیشنیں حاصل نہیں کر سکے تو کوئی بات نہیں کیونکہ اگر مضامین کی صورت جائزہ لیا جائے تو بہتری کا گراف مرتب کیا جاسکتا ہے! محکمۂ تعلیم سرکاری بمقابلہ نجی اداروں کے امتحانی نتائج کا موازنہ بھی تیار کر رہی ہے تاکہ سزاوجزا کے تحت ’اچھی کارکردگی‘ کامظاہرہ کرنے والوں کو اعزازات سے نوازا جا سکے۔ یقیناًسب سے پہلا اعزاز تو محکمہ تعلیم کے شعبۂ تعلقات عامہ کو دینا چاہئے جنہوں نے تمام تر ناکامیوں اور پے در پے خراب امتحانی نتائج کے باوجود نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی! حقیقت یہ ہے کہ محکمۂ تعلیم اگر درجنوں فیصلہ سازوں کے لئے کمائی کا پائیدار ذریعہ ہے تو وہیں اس کی توڑ مروڑ کر پیش کئے جانے والے اعدادوشمار کے ذریعے اس کی مجازی ساکھ میں اضافہ کرنیوالوں کی بھی کمی نہیں!سرکاری اور نجی تعلیمی اِداروں کے طلباء و طالبات کے مابین ہر سال امتحانی مقابلے میں بار بار کی شکست کا بنیادی سبب صرف درس و تدریس کے عمل میں پائی جانیوالی خرابیاں نہیں۔ نجی ادارے نصابی تعلیم کی طرح امتحانات کے مرحلے کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ بورڈ امتحانات سے قبل طلباء و طالبات کو ملتے جلتے مصنوعی ماحول میں امتحانی مشقیں کرائی جاتی ہیں امتحانی نفسیات اور طریقۂ کار کو ایک باقاعدہ مضمون کی طرح پڑھایا جاتا ہے اور اِس متعلق بطورخاص سالانہ امتحان سے قبل آخری تین ماہ تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ طلباء و طالبات تناؤ بھرے اِمتحانی ہال کے ماحول اور اچھی کارکردگی دکھانے کیلئے ضرورت سے زیادہ اعصابی دباؤ محسوس نہ کریں۔ نجی تعلیمی اداروں میں نصابی اسباق زبانی ازبر کرنیکی بجائے اسباق کے ماخوذ مطالب اور ضمنی معلومات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ طالبعلموں کی کسی مضمون اور اس کے ضمنی متعلقہ مضامین پر گرفت بڑھائی جا سکے۔

صوبائی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اساتذہ کو بطور سرکاری ملازم سمجھ کر ان کی خدمات سے غیرتدریسی دیگر مقاصد کیلئے استفادہ کرنے کے منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے بھی (عالم مجبوری میں) ’سیاسی‘ ہو چکی ہے‘ جن کے غیرتدریسی رجحانات سالانہ اِمتحانی نتائج پر منفی اَثرانداز ہو رہے ہیں۔ سرکاری سکولوں کے داخلی امتحانات کا طریقۂ کار بھی اصلاح چاہتا ہے‘ جس میں نمایاں نمبروں سے کامیاب ہونے والوں کی ناکامی ایک الگ داستان ہے۔ منظرنامہ ملاحظہ کیجئے کہ اساتذہ کا ایک گروہ منصبی ذمہ داریاں یک سوئی سے سرانجام دیتا ہے تو طلباء و طالبات کو بورڈ امتحانات میں نمایاں پوزیشنیں ملتی ہیں لیکن جہاں تدریس خالصتاً روزگار اور وفاداری کے اظہار کا ذریعہ ہو وہاں درس گاہیں ثانوی حیثیت پا جاتی ہیں‘ جن کے اوقات کار کا پاس کرنا ہی بھاری تنخواہیں اور مراعات یافتہ ملازمین کی ترجیح اور مشغولیت کا ذریعہ ہوتی ہے تو کیا اس صورتحال میں امتحانی بورڈ کے سربراہوں کی طلبی بنتی ہے یا پھر ان گرامی قدر اساتذہ کرام کے کان کھینچنے کی ضرورت ہے جنہیں احساس ہی نہیں کہ ان کے کندھوں پر عائد ذمہ داریوں کے بوجھ میں کس طرح ہر گزرتے امتحان کے ساتھ کس قدر اضافہ ہو رہا ہے!