بریکنگ نیوز
Home / کالم / قلم کاروں کا کردار

قلم کاروں کا کردار

ہم نے تو خیر سے کبھی قلم کار ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا مگر بہت سے لوگ خود کو نہ صرف قلم کار کہتے ہیں بلکہ دانشوری کا بھی دم بھرتے ہیں۔ میاں برادرز کی کمزوری بھی یہی قلم کار ہیں اور وہ ہر اچھے اور بڑے قلم کار کو اپنے قریب دیکھنا چاہتے ہیں۔میاں صاحب کی پچھلے ایک دور حکومت میں ایک صاحب بڑے ہی ابھر کر سامنے آنے و الے قلم کار تھے ۔ انہوں نے اس دور حکومت میں شریف برادران کی کار کردگی پر خوبصورت تبصرے بھی کئے اور ان کے حق میں لکھا بھی جسکے نتیجے میں وہ ہمیشہ نواز شریف کے بیرونی دوروں میں ان کیساتھ رہتے اور پھر ایک دن وہ اسمبلی میں بھی دکھائی دیئے اور خوش قسمتی سے وزارت کے مزے بھی چکھے۔ اب ایک قلم کار جب اپنے اصل یعنی قلم کی روزی سے باہر نکلتا ہے تو اس کی سوچ کچھ زیادہ ہی مختلف ہو جاتی ہے اور یہی سبب ہے کہ جب پرویز مشرف نے ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تو وہی قلم کار فوری طور پر مسلم لیگ کو چھوڑکر اصلی مسلم لیگ یعنی قائد اعظم کی مسلم لیگ میں چلے گئے جس کی بنیاد قائد اعظم نے نہیں بلکہ ایک ڈکٹیٹرنے رکھی اور چوہدری صاحبان جو نواز شریف کی حکومت میں وزار ت داخلہ اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے مناصب کا مزا لے رہے تھے نواز شریف کے جاتے ہی مسلم لیگ کو قائد اعظم کا نام دیکر اسکے کرتا دھرتا بن گئے اور پرویز مشرف صاحب کو بھی ایسے ہی ابن الوقتوں کی ضرورت تھی اور ان لوگوں نے آمریت کو جمہوریت کا تڑکہ لگا کر گیارہ سال تک حکومت کے مزے لئے اور نواز شریف کو گالیاں دینے کے صلے میں وزارتوں کے مزے لوٹے ایسے میں نواز شریف کی تعریفوں کے پل باندھنے والے اور ایک قلم کار سے وزارت کے مزے لینے والے قلم کار کو بھی پرویز مشرف کی چھتری تلے پناہ ملی اور اسی کے قلم سے نواز شریف کی حکومت اور شخصیت کی ہجو لکھی گئی۔

اب جو نواز شریف کی حکومت آئی تو اس شخص نے بھی نیا چولا پہنا مگر بات اس طرح بن نہ پائی جیسے کہ پہلے دور میں تھی اسی طرح کے ایک اور قلم کار جو نواز شریف کی حکومت میں نواز شریف کے اتنے قریب تھے کہ جب بغاوت کے بعد نواز شریف کو پکڑنے فوجی حضرات وزیراعظم ہاؤس پہنچے تویہ حضرت اس وقت وزیر اعظم ہاؤس کے کچن میں پائے گئے۔کُو سے دو دن پہلے ان کے قلم سے جو کالم نکل رہے تھے ان میں نواز حکومت کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے اور نواز حکومت کے دور میں ایسے عہدوں پر فائررہے کہ جہاں ایک ایم اے پاس اور صحیح معنوں میں دانشور انسان کو ہونا چاہئے تھا مگر ان میٹرک پاس شخص کو وہاں عہدہ دیا گیا مگر پرویز مشرف کے آتے ہی ان کے قلم نے کچھ ایسی روش بدلی کہ جیسے اِس سے کبھی نواز شریف کے حق میں ایک لفظ بھی نہ نکلا ہو۔

جتنا عرصہ نواز شریف اور جناب آصف زرداری اور محترمہ بے نظیر ملک سے باہر رہے اس شخص کے قلم سے کبھی بھی ان کے لئے ایک بھی لفظ تعریف کا نہیں نکلا مگر جونہی یہ لوگ واپس آئے تو ان کے حق میں اسی قلم کار کے قلم سے قصیدے پھوٹنے لگے مگر بات بن نہ سکی‘ اب جو نواز شریف کا ستارہ بد قسمتی سے گردش میں آ گیا ہے تو وہی قلم کار جو ان کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے تھے آج پانامہ لیکس میں ان کو مجرم ٹھہرا رہے ہیں اور ایسے منطقی کالم لکھ رہے ہیں اور ایسے تبصرے فرما رہے ہیں کہ کانوں کو ہاتھ لگانا پڑتا ہے‘ اتنے میں تو سانپ بھی کینچلی نہیں بدلتا جتنے میں یہ قلم کار اپنے قلم کا رخ بدلتے ہیں جب سے نواز شریف کے خاندان پر پانامہ کی بمباری ہوئی ہے تو یہ سارے قلم کار اپنے تبصروں کا رخ اینٹی نواز کیمپ میں بیٹھ کر نواز شریف کی طرف کر رہے ہیں اور ہم جیسے لکھنے والوں کو سمجھا رہے ہیں کہ لفافے میں بڑا زور ہوتا ہے لیکن ہم تو بڑے شہروں سے دور کے قلم کار ہیں ہمیں کون گھاس ڈالتا ہے؟ مگر افسوس اُن لوگوں پر ہوتاہے کہ جو قلم کی حرمت کو بیچ رہے ہیں۔