بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / اسم بامسمٰی

اسم بامسمٰی

انکے ساتھ پہلی ملاقات آج سے بائیس برس قبل ہوئی تھی نام بہت سنا تھا مگر ملنے کاموقع نہیں ملاتھا ان دنوں ہماری پہلی اور واحد کتاب چھپ کر مارکیٹ میں آچکی تھی والد صاحب کی ہدایت پر ہم نے کتاب کے دونسخے انکی خدمت میں پیش کرنے کیلئے ان سے ملاقات کی اورپھر ا سکے بعدسے نیازمندی کاایک ایسا سلسلہ چل نکلا جو ان کے صاحب فراش ہونے تک تواتر کے ساتھ جار ی رہا ہم نے ان کو اسم بامسمیٰ پایا شرافت او ر اخلاق کے پیکر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے برے معاملہ میں فرق کے بھی ماہر تھے اب جبکہ منوں مٹی تلے دائمی سفرپر روانہ ہوچکے ہیں تو ان کی کمی کااحساس بھی شدت کیساتھ ہونے لگاہے شریف فاروق صرف ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایک فنا فی الپاکستان محب وطن بھی تھے انہوں نے صرف صحافت ہی نہیں کی قابل قدر تحقیقی خدمات بھی انجا م دیں جبکہ آخری دم تک پاکستانیت کے فروغ کیلئے سرگرم رہے انکی زندگی کاسب سے دلچسپ پہلویہ تھا کہ وہ ایک ایسے صوبہ میں آکر مستقل رچ بس گئے جہاں سے اس کے اپنے ہی باشندے بہتر مستقبل کے لئے اٹک پارجاتے رہے ہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ یہاں کے لوگوں کے پاس چندپیسے زیادہ آگئے تو انہوں نے مادر وطن کو خیرباد کہہ دیا مگر ا س کے برعکس پنجا ب سے اپنی صحافتی ڈیوٹی کے لئے اس پسماندہ شہر میں آنے والے شریف فاروق کو اس شہر کاماحول اوریہا ں کے لوگوں کی روایات کچھ اس طرح سے پسند آگئیں کہ پھریہیں کے ہوکر رہ گئے حالانکہ بیچ میں کچھ عرصہ کیلئے انکو برطانیہ میں بھی صحافتی ذمہ داریاں نبھانی پڑی تھیں۔

مگر کئی سال بعد جب واپس آئے تو ایک مرتبہ پھرپشاورکارخ کیا تمام تر نظریاتی اختلافات کے باوجودانہوں نے مخالفین کے حوالہ سے احترام کادامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا چنانچہ ان کی بھرپورتنقید کی زدمیں آنیوالے بھی ان کا حددرجہ احترام کرتے رہے یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ان کیساتھ طویل نیازمند ی قائم رہی اورجب ان کی قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح کے متعلق ضخیم کتب تیار ہورہی تھیں توہمیں ان دونوں مواقع پر ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملاہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ مطمع نظر کی اصلاح کرکے انہوں نے ہی ہمیں کہاتھاکہ اصل لفظ مطمح نظر ہے اور آج اتنے برس بعد بھی ہم ان کی اصلاح سے مستفیدہوتے چلے آرہے ہیں شریف فاروق ملک کے انتہائی وسیع المطالعہ صحافی تھے ہمیں انکا ذاتی کتب خانہ دیکھنے کے مواقع بارہا ملے دفتر میں بھی ہزاروں کتب رکھی ہوئی تھیں اور دلچسپ امریہ ہے کہ کتب محض الماری کی زینت بنانے کیلئے نہیں تھیں بلکہ ہر کتاب کئی کئی بار ان کے زیر مطالعہ رہی جب کبھی کسی معیار ی کتاب کے متعلق ان کو پتہ چلتا تو اسکے حصول کیلئے دن رات ایک کردیتے ساتھ ہی اپنی تمام ترمصروفیات کے باوجود انہوں نے زندگی بھر تصنیف وتالیف کاکام بھی جاری رکھا اور درجنوں تصانیف یادگار کے طورپر چھوڑیں آخری ایام میں انہوں نے ڈیورنڈ لائن کے ایشو پر افغان حکمرانوں کے الزامات کے جواب میں بھرپورتحقیقی کام کیاجو بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اشاعت کے مرحلہ تک نہ پہنچ سکا امیدرکھی جانی چاہئے کہ ان کے فرزند طاہرفاروق اس اہم ترین تاریخی دستاویز کو جلدسے جلدمنظر عام پرلائیں گے ۔

شریف فاروق کے تمام اہم سیاسی قیادت جن میں نوابزادہ نصراللہ خان ‘ولی خان ‘اجمل خٹک اوردیگر کیساتھ قریبی تعلقات آخر دم تک قائم رہے وہ بلاشبہ بے شمار سینئر صحافیوں کے استا د رہے ہیں ہمہ وقت مصروف رہنے والے انسان تھے ان کی سیماب صفت طبیعت میں آرام سے بیٹھنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی محترمہ فاطمہ جناح جب 1964ء میں صدارتی امیدوارتھیں توشریف فاروق کو اکثر دوروں میں انکے ساتھ رہنے کا اعزازحاصل ہوا بلکہ جب پشاورمیں جلسہ تھا تو سٹیج پر واحد صحافی یہی تھے جو ان کیساتھ براجمان تھے وہ موجودہ دور میں ماضی کی شاندارروایات کاچلتا پھرتا نمونہ تھے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرناان کی طبیعت کاخاصاتھا لوگوں کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو بھانپنے کا ملکہ بھی حاصل تھا چنانچہ انکے ہاتھوں کے لگائے ہوئے بہت سے پودے آج تناوردرخت بن چکے ہیں آخر دم تک اپنے نظریات پرڈٹے رہے کوئی خوف یاطمع انکو انکے اصولوں پر چلنے سے نہ روک سکی چنانچہ رہتے تو پشاور میں تھے مگر ملک بھر کے صحافیوں اور سینئر سیاستدانوں کیساتھ قریبی روابط رہے زندگی میں ہی اپنے دوبیٹوں کی موت نے ان کو اندر سے توڑ کررکھ دیاتھامگر مضبوط قوت ارادی انکو کئی سال تک متحر ک رکھتی رہی آج وہ اسی شہر میں آسودہ خاک ہوچکے ہیں جہاں رہائش ان کی مجبور ی نہیں بلکہ مرضی تھی اور اسی لئے اہل پشاورنے بھی ان کو خوب خوب خراج عقیدت پیش کیا ۔