بریکنگ نیوز
Home / کالم / پانامہ کیس: جے آئی ٹی!

پانامہ کیس: جے آئی ٹی!


سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز کی صورت منظرعام پر آنے والی فرضی ناموں سے بیرون ملک سرمایہ کاری اور اثاثوں کے بارے میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کیلئے چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی‘ جسے بہرصورت 60 روز میں اس معاملے سے متعلق حقائق کاکھوج نکالنے کی ذمہ داری سونپی گئی اگر ہم سپریم کورٹ میں زیرسماعت پانامہ کیس کو ایک ہوائی سفر سے تشبیہ دیں تو اس پرواز کی منزل پانامہ ہے جس کیلئے 60 دن کا وقت اور پانامہ تک رسائی براستہ حدیبیہ مقرر کیا گیا۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد سے پانامہ کا فاصلہ 14 ہزار 557 کلومیٹر ہے جسے طے کرنے کے لئے صرف ساٹھ دن کا وقت دیا گیا جبکہ اسکے مقابلے ’حدیبیہ‘ (کیس) قرب و جوار ہی کا معاملہ ہے اور یہی وجہ رہی ہو گی کہ جے آئی ٹی نے حدیبیہ کے راستے ہوتے ہوئے پانامہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ 10جولائی کو پیش کی جائیگی جس کے بعد ’سپریم کورٹ آف پاکستان‘ کا عمل درآمد بنچ اپنی صوابدید پر فیصلہ سنائے گا اور اس فیصلے کے تین امکانات ہو سکتے ہیں پہلا امکان تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ وزیراعظم نواز شریف کیخلاف دائر تمام مقدمات خارج کردے دوسرا امکان یہ ہے کہ سپریم کورٹ قومی احتساب بیورو یا کسی ایسی عدالت کو مقدمہ ارسال کرے جہاں اس کی سماعت ہو سکے اور تیسرا امکان یہ ہے کہ سپریم کورٹ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے۔ جہاں تک میری معلومات ہیں سپریم کورٹ کا پہلے امکان کے تحت نواز شریف کے خلاف تمام درخواستیں خارج کرنے کے امکانات کم ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کوپانامہ کیس کی صورت دو قسم کے مقدمات کا سامنا ہے ایک آئینی اور دوسرا سیاسی۔ آئینی محاذ پر وزیراعظم کے دفاع کی واحد صورت قطری شہزادے کا خط ہے۔

سیاسی محاذ پر تاریخ گواہ ہے کہ نواز لیگ کا ماضی رہا ہے کہ وہ اپنے خلاف سیاسی حکمت عملیوں کو ناکام بناتے ہوئے ہمیشہ سرخرو رہی ہے لیکن اس وقت مشکل یہ درپیش ہے کہ نوازلیگ کا کسی سیاسی حریف سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ سے ٹکراؤ ہو رہا ہے۔ سردست نواز شریف کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ جے آئی ٹی کو اپنی مرضی سے آگے بڑھنے سے روکیں اور ’جے آئی ٹی‘ جس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے اُس منزل کو اوجھل رکھیں۔ جس کے لئے اس کے پاس سیاسی آپشنز میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ ’جے آئی ٹی‘ کو متنازعہ بنائیں۔ دوسرا وہ جے آئی ٹی سے علیحدگی (بائیکاٹ) کا اعلان کردے۔ تیسرا سپریم کورٹ میں فیصلہ کرنے والوں کے درمیان کسی نتیجے پر پہنچنے میں اختلافات پیدا کرے اور پھر ججوں کی رائے میں پیدا ہونیوالے باہمی اختلافات کا فائدہ اُٹھائے۔ چوتھا قومی اسمبلی تحلیل کردے۔ پانچواں عوام کو ’جے آئی ٹی‘ اور پانامہ کیس کے خلاف سڑکوں پر لے آئے اُور چھٹا حل یہ ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت کے لئے ملک کی دیگر تمام جماعتوں کو اس بات پر ہم خیال کر لے کہ پانامہ کیس کو بھول کر آگے بڑھا جائے۔جے آئی ٹی کی راہ میں روڑے اٹکانے کا حربہ استعمال کرکے دیکھ لیا گیا جس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔جے آئی ٹی کے بائیکاٹ سے نوازلیگ کو فائدہ ہونے کے امکانات بھی کم رہے گئے ہیں اگر سپریم کورٹ کے فیصلہ سازوں کی رائے تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یقینی طور پر ایسا کرنے کے زیادہ منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اگر قومی اسمبلی تحلیل کر دی جاتی تو بھی جے آئی ٹی کا عمل متاثر نہیں ہوسکتا۔ عوام کو سڑکوں پر لانے کا آپشن موجود ہے لیکن ایسا کرنے کی صورت میں وہ عوام کو کس کے مخالفت میں اکسائیں گے!؟

پانامہ کیس کی صورت پاکستان میں طرزحکمرانی کی اصلاح اور اختیارات و عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالی و انتظامی بدعنوانیوں کی روایت ہمیشہ کیلئے دفن کرنے کا نادر موقع تحریک انصاف کے ہاتھ آ گیا ہے جو کسی بھی صورت اپنے مطالبات‘ مؤقف اور مقدمے سے دستبردار ہونا تو دور کی بات ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے (مصلحت سے کام لینے) کے لئے تیار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ نواز لیگ کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ چوری‘ بدعنوانی‘ خوردبرد کے ذریعے حاصل کیا گیا پاکستان کا سرمایہ غیرقانونی ذرائع سے بیرون ملک منتقل کیا گیا ہے جبکہ ’نوازلیگ‘ کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کو اِس بات کا استحقاق یا اختیار ہی حاصل نہیں کہ وہ اِس کی قیادت کا احتساب کرے۔ نواز لیگ کی نظر میں جے آئی ٹی ان کے خلاف ایک خفیہ سازش کا نتیجہ ہے لیکن نواز لیگ کے اس مؤقف کو اس وقت تک تسلیم یا قابل اعتماد نہیں سمجھا جائے گا جب تک ان کے بقول پانامہ کیس کی صورت سازش کرنیوالے کردار یا کرداروں کو بے نقاب نہیں کیا جاتا۔نواز لیگ کیلئے موجودہ وقت سب سے زیادہ مشکلات بھرا ہے اگر وہ سپریم کورٹ کے حسب حکم جے آئی ٹی سے تعاون برقرار رکھتی ہے تو بھی یہ بات ضمانت نہیں کہ اُسے سرخروئی نصیب ہو گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ تصادم کی راہ اختیار کرے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اقتدار کی منتقلی ہے یعنی نوازشریف کی بجائے اقتدار شہباز شریف کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے لیکن پورا شریف خاندان پانامہ کیس کی زد میں دکھائی دیتا ہے اور جس طرح اِس خاندان نے تیس برس سے ہر اچھے بُرے دن اور ہر اونچ نیچ کا مقابلہ کیا ہے جے آئی ٹی سے نمٹنے میں وہ حربے کام نہیں آسکے۔ کون سمجھتا ہے کہ ’’پیشگوئی مشکل ہوتی ہے خصوصاً جب یہ مستقبل کے بارے میں ہو۔‘‘ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)