بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حکمرانوں کو جیل میں دیکھ رہا ہوں ٗسراج الحق

حکمرانوں کو جیل میں دیکھ رہا ہوں ٗسراج الحق

اسلام آباد۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں کو جیل میں دیکھ رہا ہوں یہ کہانی کا آغاز ہے اختتام نہیں ہے،وہ وقت گزر گیا جب لوگ سپریم کورٹ پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ آور ہوتے تھے اب جمہوری زمانہ ہے، احتساب سے جمہوری نظام کمزور نہیں مضبوط ہوگا اور معاملات شفاف ہوں گے ،پاکستان میں مضبوط جمہوریت دیکھ رہا ہوں، اگر فیصلہ حکمرانوں کے خلاف آئے تو قیامت نہیں آئے گی۔

بیس کروڑ عوام کی خاطر چند لوگوں کو اڈیالہ جیل چلے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا،یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ حکومت سرکاری وسائل اور دباؤ استعمال کرتی ہے اور اداروں اور عدالتوں پر دباؤ ڈال رہی،حکومت اشتہارات کو سیاسی رشوت کے لیے استعمال کررہی ہے حکومتی اشتہارات کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرنا بند ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ یہاں پر ہر کوئی خواہشات کے گھوڑے پر سوار ہے ہمیں خوشی ہے کہ عدالت نے تمام چیزوں کا احاطہ کیا ے اور نوٹس لے رہی ہے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ حکومت سرکاری وسائل اور دباؤ استعمال کرتی ہے اور اداروں اور عدالتوں پر دباؤ ڈال رہی تاکہ اپنی مرضی کے فیصلہ حاصل کر سکے اس پر ان کو ناکامی ہوئی ہے ٹمپرنگ کی بات کی جا رہی ہے پورا نظام ٹمپرنگ زدہ ہے ۔

پاکستان میں ادارے بھی ناکام بنائے گئے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اﷲ نے موقع فراہم کیا ہے کہ عوام کو انصاف مل جائے پاکستان میں 70 سال سے طاقتوروں نے عدالتوں کو مفلوج کیا ہے کمزور عدالتی نظام بااثر افراد کے ہاتھ میں ہے عوام میں مضبوط عدالتی نظام چاہتے ہیں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے ہمارا آئین فرق کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے یہ انصاف کرنے کا بہترین موقع ہے اور جماعت اسلامی انصاف کی امید پر عدالت میں کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اشتہارات کو سیاسی رشوت کے لیے استعمال کررہی ہے حکومتی اشتہارات کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرنا بند ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پانامہ سکینڈل ہوائی فائرنگ ثابت نہیں ہوگی ۔

حکمرانوں کو جیل میں دیکھ رہا ہوں یہ کہانی کا آغاز ہے اختتام نہیں ہے ابھی تو اس نے چلنا ہے وہ وقت گزر گیا جب لوگ سپریم کورٹ پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ آور ہوتے تھے اب جمہوری زمانہ ہے عدالتیں اور ایوان آزاد ہیں احتساب سے جمہوری نظام کمزور نہیں مضبوط ہوگا اور معاملات شفاف ہوں گے اور پاکستان میں مضبوط جمہوریت دیکھ رہا ہوں اگر فیصلہ حکمرانوں کے خلاف آئے تو پاکستان میں قیامت نہیں آئے گی اگر بیس کروڑ عوام کی خاطر چند لوگوں کو اڈیالہ جیل چلے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے چوکوں اور چوراہواہوں میں نہیں ہوتے فیصلہ کی جگہ عدالت ہے، عدالت پر پوری قوم کا اعتماد ہے جو لوگ عدالتوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں یہ فیصلہ سے پہلے شکست خوردگی کی علامت ہے اور شکست ہے جن لوگوں کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس دلائل ختم ہیں اور وہ حق پر نہیں ہیں۔

میں یہ چاہتا ہوں کہ فیصلہ سپریم کورٹ میں ہی ہو میں تمام پاکستانیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر انسان نے چاند پر قدم رکھا ہے اور ترقی کر رہا ہے۔ ساری دنیا ترقی کی طرف گامزن ہے اور پاکستان کرپشن کی دلدل میں پھنس گیا ہے۔ اس دلدل سے اپنی قوم، ملک اور اداروں کو نکالنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم بادشاہت اور کسی فرد کی حکمرانی کی بجائے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اس کیس کو بہت زیادہ لمبا کرنے کی بجائے فیصلہ دیا جائے تاکہ سارا آر یا پار ہو جائے تاکہ قوم کو بھی سکون ہو جائے اس کیس کے بعد یہ انتہا نہیں بلکہ یہ احتساب کی ابتدا ہے اگرچہ کچھ لوگوں نے ابھی سے رونا دھونا شروع کیا ہے۔

میں کہتا ہوں’’ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما سکینڈل میں اور بھی بہت سارے لوگ ملوث ہیں۔ ہم یہ چاہیں گے کہ یہ فیصلہ اختتام تک پہنچے تو پھر دوسرے کرداروں کی بھی نقاب کشائی اور ان کے چہروں سے بھی پردہ اٹھانے کا وقت آئے گا۔ سراج الحق نے کہاکہ اگر کرپشن ہے تو وہ جنات نے نہیں کی انسانوں نے کی ہے اور انسانوں میں ان لوگوں نے کی ہے جن کے ساتھ اختیارات تھے جنہوں نے اپنے منصب اور کرسی کا غلط استعمال کیا ہے میں پھر کہوں گا کہ میں سب کا احتساب چاہتا ہوں اور پھر کہوں گا کہ اگر 20 کروڑ کے لئے پانچ یا چھ ہزار لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگیں اور اڈیالہ جیل جائیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ آصف کرمانی کی خواہش اپنی جگہ پر مگر یہ عالمگیر طریقہ ہے اور ساری دنیا میں اگر کوئی فریق گواہ پیش کرتا ہے تو اس کو لانا عدالت کی ذمہ داری نہیں یا فریق مخالف کی ذمہ داری نہیں یہ اس فریق کی ذمہ داری ہے۔ وہ کاروباری شراکت دار ہے اسے یہاں حاضر کرنا حکمران خاندان کی ذمہ داری ہے۔ وہ ان کو بتائے کہ اسلام آباد میں اچھا شکار ہے۔ یہاں تیتر اور بٹیر ہیں تو وہ آ جاتے یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ یہ ہماری یا عدالت کی ذمہ داری نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش اور دعا یہی ہے کہ کرپشن کے خلاف فیصلہ آ جائے کرپشن موجود ہے۔ کرپشن اداروں میں ہے کرپشن کے نتیجے میں لوگوں نے دولت کو لوٹ کر باہر کے ملکوں میں منتقل کیا ہے کرپشن کے نتیجے میں باہر بڑے بڑے عالیشان کوٹھیاں اور بلڈنگز بنی ہیں۔ کرپشن کے نتیجے میں لوگوں نے بڑے بڑے فلیٹس لئے ہیں۔ میں یہی چاہتا ہوں کہ کرپشن کے خلاف فیصلہ آ جائے۔ میری ساری جدوجہد کا محور کرپٹ سسٹم ہے کرپشن فری پاکستان ہے، ہماری جدوجہد کرپشن کے خلاف جاری رہے گی۔ قانونی دائروں میں بھی اور عوامی سطح پر بھی۔