بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / نائن الیون حملوں کا ماسٹر مائنڈ قطر سے غائب

نائن الیون حملوں کا ماسٹر مائنڈ قطر سے غائب

واشنگٹن۔ا امریکا پر 11 ستمبر 2001ء کو طیارہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد نے قطر میں پناہ لے رکھی تھی اور قطر کی حکومت امریکا کی درخواست کے باوجود انھیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی ۔امریکی ٹی وی کے مطابق اس بات کا انکشاف کلنٹن اور بش انتظامیہ میں امریکا کے سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے سابق قومی رابطہ کار رچرڈ کلارک نے اپنے ایک مضمون میں کیا ۔انھوں نے لکھا کہ بہت سے لوگ نائن الیون حملوں میں ہلاکتوں سے اسامہ بن لادن کا نام جوڑتے ہیں لیکن ایک اور شخص ،سیریل دہشت گرد دراصل حقیقی رنگ لیڈر تھا۔میں 1993ء میں پہلی مرتبہ خالد شیخ محمد ( کے ایس ایم) کے نام سے متعارف ہوا تھا۔

تب اس کا ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ٹرک بم حملے کے سلسلے میں نام سامنے آیا تھا۔ بعد میں ہمیں یہ پتا چلا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے حملوں کو منظم کرنے کی صلاحیت کا حامل تھا مگر اسامہ بن لادن میں یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی تھی۔خالد شیخ محمد پاکستانی نژاد تھا۔ اس کی ابتدائی نشوونما کویت میں ہوئی تھی اور اس نے امریکی ریاست شمالی کیرولینا میں انڈر گریجو ایٹ ڈگری تک تعلیم حاصل کی تھی۔وہ نیو یارک میں حملوں کے بعد 1995ء منیلا میں نمودار ہوا تھا اور وہاں بحرالکاہل پر پرواز کے دوران امریکی طیاروں میں بم حملوں کی سازش تیار کی تھی۔ان دو بم حملوں کی سازش کے بعد امریکا کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت نے 1996ء میں خالد شیخ محمد کو سب سے خطرناک دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ اس کے خلاف سربہ مہر فرد جرم عاید کی گئی تھی ۔اس کے بعد امریکا کے لیے یہ ناگزیر ہوگیا تھا کہ وہ خالد شیخ محمد کو تلاش کرے اور اس کو پکڑ کر امریکا لے آئے۔

پھر اس نے اس عالمی دہشت گرد کا قطر میں سراغ لگا لیا تھا اور وہ وہاں محکمہ آب میں کام کررہا تھا۔قطری حکومت اور مقامی سکیورٹی فورسز سے یہ امید نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ خالد شیخ محمد کو گرفتار کر لیں گی کیونکہ قطری دہشت گردوں کی پشت پناہی کے وقت دستانے پہن لیتے تھے تاکہ کہیں ان کا سراغ نہ لگ سکے۔ مزید برآں قطر کے شاہی خاندان کی ایک شخصیت اور کابینہ کے رکن اس معاملے میں ملوث تھے۔ان کے القاعدہ سے تعلقات تھے اور وہی صاحب خالد شیخ محمد کے بھی مبینہ طور پر پشتیبان تھے جبکہ امریکا انھیں گرفتار کرنا چاہتا تھا۔امریکا قطر میں خالد شیخ محمد کو کیوں نہیں پکڑ سکا تھا ۔اس کی ایک وجہ رچرڈ کلارک نے یہ بیان کی ہے کہ اس وقت دوحہ میں امریکی سفارت خانے میں سفارتی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی کوئی زیادہ تعداد موجود نہیں تھی۔

ایف بی آئی کا کوئی دفتر ،یا دفاعی اتاشی یا سی آئی اے کا اسٹیشن نہیں تھا۔انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ نائن الیون حملوں سے قبل پینٹاگان کے حکام کسی غیر ملک میں اس طرح کے مشتبہ افراد کو پکڑنے میں متردد تھے۔چنانچہ خالد شیخ محمد کے معاملے میں کلنٹن انتظامیہ نے قطر سے براہ راست رابطے کا فیصلہ کیا اور امریکی سفیر کو ہدایت کی گئی کہ وہ امیرقطر سے اس معاملے پر براہ راست بات کرے۔امریکا نے تب یہ منصوبہ بنایا تھا کہ قطری سکیورٹی سروسز خالد شیخ محمد کو پکڑیں گی اور پھر امریکی ٹیم اس کو گرفتار کرکے لے جائے گی۔لیکن قبل اس کے کہ امریکا اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہناتا ۔امریکی سفیر کے امیر قطر سے ملنے کے چند گھنٹے کے بعد ہی خالد شیخ محمد دوحہ سے غائب ہوگیا۔امریکیوں کو یہ بتایا گیا کہ وہ ملک سے کہیں اور چلا گیا ہے لیکن یہ اشارہ تک نہیں دیا گیا کہ وہ سرکاری حکام کے علم کے بغیر یکایک ملک سے کیسے غائب ہوا تھا؟اس کے بعد خالد شیخ محمد نے کیا کیا؟

اس کے بارے میں رچرڈ کلارک یہ لکھتے ہیں کہ اس نے نائن الیون حملوں ، انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں بم دھماکوں اور پاکستان میں امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل سمیت مختلف حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔نائن الیون حملوں کے کوئی دو سال کے بعد اس کو پاکستان میں امریکی ایجنٹوں نے پاکستانی افسروں کی مدد سے پکڑ لیا تھا اور پھر اس کو گوانتانامو بے کی فوجی جیل میں منتقل کردیا گیا تھا۔کلارک اپنے مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں،اگر قطریوں نے خالد کو 1996ء میں ہماری درخواست پر گرفتار کرکے ہمارے حوالے کردیا ہوتا تو دنیا شاید آج سے بہت مختلف جگہ ہوتی۔