بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / چور بچ گئے تو کرپشن بے لگام ہو جائے گی ٗ پرویز خٹک

چور بچ گئے تو کرپشن بے لگام ہو جائے گی ٗ پرویز خٹک


پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک نے حلقہ پی کے ون پشاور سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سابق امیر و امیدوار اخونزادہ عرفان اللہ شاہ کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت پر مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کے آخری سال میں لوگ برسراقتدار پارٹی میں شامل نہیں ہوتے بلکہ اس سے دور جاتے ہیں مگر اس روایت کے برعکس لوگ جوق در جوق پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں جو اسکی چار سالہ کارکردگی کا واضح ثبوت ہے ۔

خیبر پختونخوا سابق دور کے مقابلے میں بہت آگے جا چکا ہے ۔عوام تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔مخالفین کا اصلاحات سے کوئی سروکار نہیں ہے اسلئے انہیں تبدیلی نظر نہیں آتی عمران خان کے علاوہ کسی میں ہمت نہیں تھی کہ چوروں کے خلاف ڈٹا رہے شفاف پاکستان پانامہ لیکس کے فیصلے سے مشروط ہے اگر چوروں کو سزا نہ ملی تو کرپشن اوپن ہو جائیگی وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں شمولیتی تقریب اور پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔

صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ترجمان صوبائی حکومت شاہ فرمان اور دیگر سیاسی رہنماء بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر اخونزاداہ عرفان اللہ شاہ نے اپنے رفقاء اور ساتھیوں سمیت جمعیت علماء اسلام سے مستعفی ہوکر تحریک انصاف میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیاوزیراعلیٰ نے عرفان اللہ شاہ کی پی ٹی آئی میں شرکت کا خیر مقدم کیا اور پی ٹی آئی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا وزیراعلیٰ نے کہا کہ عرفان اللہ شاہ کا جذبہ قابل داد ہے جو فیصلے اپنی سوچ سے کئے جاتے ہے وہ ضرور بارآور ثابت ہوتے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کسی سیاسی جماعت نے دوبارہ حکومت نہیں بنائی وہ اسلئے کہ سیاسی جماعتوں نے الیکشن مہم میں دیئے گئے ۔

اپنے منشور پر عمل نہیں کیاکسی نے اسلام کے نام پر ، کسی نے پختونوں کے نام پر اور کسی نے روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر حکومت بنائی مگر عملی طور پر نہ اسلام کیلئے کوئی اقدام کیا گیا اور نہ ہی پختونوں سے بھلائی کی گئی تحریک انصاف واحد جماعت ہے جس نے اپنے منشور پر عمل کیا ہم نے چار سال میں جو کا م کیا اسکے نتائج نظر آرہے ہیں ناقدین اور مخالفین کو اسلئے نظر نہیں آرہے کیونکہ ان کا اصلاحات ، اداروں کی مضبوطی، میرٹ کی بالادستی سے کوئی واسطہ نہیں تھا وہ تو صرف اپنا پیسہ بنانے کیلئے حکومتیں بناتے تھے ہماری اصلاحات اور تبدیلی کے لئے کئے گئے اقدامات کے نتائج ان لوگوں کو نظر آتے ہے جن کا ان سے واسطہ ہے تعلیم ، صحت ، پولیس اور دیگر محکموں سے متعلق عوام سے پوچھیں ٹھیکیداروں سے نہیں عوام بتائیں گے کہ واقعی تبدیلی آگئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے چار سالوں میں کام کر کے دکھایا ہے ہم نے نوکریاں نہیں بیچیں اور نہ ہی ٹھیکے فروخت کئے ہیں موجودہ صوبائی حکومت سے کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا مخالفین کو 2018 کے انتخابات میں ایسا سبق سکھائیں گے کہ سیاست کا نام چھوڑ دینگے پی ٹی آئی کے مخالف زیادہ بھڑکیں نہ ماریں اگر انہیں تبدیلی نظر نہیں آتی تو عوام دکھادینگے پانامہ لیکس پر جے آئی ٹی کے حوالے سے ایک سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم موڑ ہے چوروں کی تلاشی اتنی آسان نہیں تھی مگر عمران خان نے شروع دن سے اس کے لئے مربوط جدوجہد کی کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ چوروں کے خلاف ڈٹہ رہے مگر عمران خان ملک کے مستقبل کے لئے کرپشن کے خلاف کھڑا رہا وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنامہ لیکس کیس میں فیصلہ چوروں کے خلاف آیا تو پاکستان کا مستقبل بن جائیگااور اگر چور بچ گئے تو کرپشن بے لگام ہوجائیگی ۔

لٹیروں کو کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہئے جب ریکارڈ موجود نہیں تو ظاہر ہے یہ چور ہیںیہ چند سالوں میں کروڑپتی بن گئے تو اب پوچھ گچھ تو بنتی ہے پرویز خٹک نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ عمران خان پر بھی الزامات لگائے گئے ہیں جبکہ عمران خان اور صوبائی حکومت پہلے سے ہی خود کو احتساب کے لئے پیش کر چکے ہے امیر مقام کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے صوبے میں کبھی کوئی ٹھیکہ نہیں لیاان کا صوبے میں کوئی کاروبار نہیں ہے امیر مقام بتائے کہ جو وہ صوبے میں ٹھیکے لیتا ہے تو کیا یہ مفادات کا ٹکراو نہیں ہے اسے چاہئیے کہ بڑی باتیں نہ کرے بلکہ اپنے گریبان میں جھانکیں صوبائی حکومت کی کارکردگی کا حولہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی بیورو برائے اعدادوشمار کے سروے2013-14 سے 2015-16کے مطابق خیبر پختونخوا غربت کی کمی اور روزگار کے حوالے سے سب سے آگے ہے۔

2013-14 میں خیبر پختونخوا میں غربت کی شرح 23.86 فیصد تھی جو 2015-16 میں کم ہوکر 12.27 فیصد تک چلی گئی اس کے برعکس پنجاب اور سندھ میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے پنجاب میں 15.43 فیصد سے بڑھ کر 19.62 فیصد اور سندھ میں 18.35فیصد سے بڑھ کر 23.41 فیصد ہوگئی بلوچستان میں 31.00 فیصد سے کم ہوکر 29.13 فیصد پرآ گئی روزگار کی شرح خیبر پختونخوا میں 2.04 فیصد سے بڑھ کر 2.18 فیصدپر چلی گئی جبکہ پنجاب اور سندھ میں روزگار کی فراہمی میں کمی آئی ہے پنجاب میں 1.66 فیصد سے کم ہوکر1.59 فیصد اور سندھ میں1.96 فیصد سے کم ہوکر 1.89 فیصد ہوگئی بلوچستان میں 1.99 فیصد سے بڑھ کر 2.01 فیصد پر چلی گئی اعدادو شمار کے وفاقی بیورو کی اس رپورٹ جبکہ وقتاً فوقتاً دیگر عالمی و بین الاقوامی اداروں کے رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا کارکردگی میں دیگر تمام صوبوں سے آگے ہے۔

بلین ٹری سونامی پر اعتراض کے حوالے سے پرویز خٹک نے واضح کیاکہ اعتراضات اٹھانے والے اندھے ہیں اور حقیقت کے برعکس دروغ گوئی کرتے ہیں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پراجیکٹ کے تحت مجموعی طور پر 5600 سائٹس پر کام کیا گیا 4000 سائٹس پر قدرتی اُگاؤ جبکہ 1600 سائٹس پر شجر کاری کی گئی4000 نگہبان مقرر کر چکے ہیں جو سب مقامی ہیںیہ تمام تفصیلات بلین ٹری سونامی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں اعتراض کرنے والے کسی بھی سائٹ کا انتخاب کریں اور اسکا وزٹ کرکے دیکھیں اورغلط ثابت کریں ہم خود بھی دکھانے کے لئے تیار ہیں وزیراعلیٰ نے سوال کیاکہ ماضی میں ونڈفال کے نام پر جنگلات کیوں تباہ کئے گئے۔

صوبائی حکومت نے آکر اس کو روکا وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خشک درخت کھڑے ہو یا گرے ہوئے دونوں صورتوں میں جنگلات کے لئے مفید ہیں اور یہ لوگ اُٹھا کرلے جاتے تھے ۔شعبہ تعلیم میں صوبائی حکومت کے اقدامات کے نتائج کے حوالے سے ایک سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بات سمجھ لینا چاہئے کہ کچھ اقدامات حال کے لئے ہوتے ہیں جن کے نتائج فوری برآمد ہوئے اور کچھ چیزیں مستقبل کے لئے ہوتی ہے جن کے نتائج بھی مستقبل میں نظر آتے ہیں صوبائی حکومت نے سرکاری سکولوں کا معیار بلند کیا ہے جن کے نتائج وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئینگے پرائمری کی سطح پر بنیادی انگلش شروع کی ہے جو اب چوتھی کلاس تک پہنچ چکی ہیں۔

اسکے نتائج چھ سال کے بعد نظر آئینگے آئیندہ انتخابات میں ٹکٹ کے اجرا کے حوالے سے پرویز خٹک نے کہا کہ ٹکٹ میرٹ کے بنیاد پر دیئے جائینگے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عرفان اﷲ شاہ نے تحریک انصاف کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی میں شمولیت کے فیصلے کا تفصیلی پس منظر ہے ۔ گزشتہ 30 سالوں سے کبھی اسلام ، کبھی پختون اور روٹی کپڑا مکان کے نام پراقتدار پر براجمان سیاسی جماعتوں نے ڈھٹائی اور بے شرمی کی انتہا ء کی ۔

ان میں سے کوئی بھی قوم کا خیر خواہ یا دین کا ستون نہیں ہے بلکہ یہ بنارسی ٹھگ ہیں ۔خارجہ پالیسی نہ ہونے اور ناکام داخلہ پالیسی کی وجہ سے اقوام عالم میں ذلت و رسوائی ہوئی ۔ وہ ان سیاسی جماعتوں اور سسٹم سے مایوس ہو چکے تھے ۔عمران خان کی قیادت میں اُمید نظر آئی کیونکہ عمران خان کرپشن سے پاک اور مضبوط پاکستان کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ جے یو آئی (ف) سے اختلاف کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پوری قوم کرپشن کے خلاف ایک طرف ہے اور جے یو آئی (ف) ایک طرف کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔