بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبرپختونخواکی تمام بڑی سیاسی جماعتیں متحرک

خیبرپختونخواکی تمام بڑی سیاسی جماعتیں متحرک

پشاور۔آئند ہ عام انتخابات میں تقریباً ایک سال باقی رہ گیا ہے لیکن خیبرپختونخوامیں سیاسی جماعتوں نے ابھی سے تیاریاں شروع کردی ہیں اور صوبے کی بڑی سیاسی جماعتیں اس بار نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔تقریباًتمام پارٹیوں کے مرکزی قائدین نے اپنے عہدیداروں اورکارکنوں کے سامنے تاش کے پتے پھینک دئیے ہیں اورانہیں سیٹ ٹوسیٹ ایڈجسٹمنٹ یاانتخابی الائنس پرانحصارکرنے کے بجائے سولوفلائٹ کیساتھ انتخابات لڑنے کاٹاسک سونپ دیاہے۔

خیبرپختونخوامیں اس وقت تحریک انصاف کی مخلوط صوبائی حکومت قائم ہے جس کے اتحادی جماعتوں میں جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی ہیں دوسری جانب اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ ن ، جمعیت علماء اسلام،پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں۔عام انتخابات2018ء کیلئے صوبے کی سیاسی جماعتوں نے لنگوٹ کس لئے ہیں اورگزشتہ چار سالوں سے صوبے کی سیاسی فضاء پررونماہونیوالے تبدیلیوں سے ہٹ کر نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنے کو ترجیح دی جارہی ہے ،گوکہ خیبرپختونخوامیں برسراقتدارجماعت پی ٹی آئی کی چارسالہ دورحکومت عوام کیلئے کوئی میگاپراجیکٹس شروع نہ کرسکی تاہم وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے الیکشن سے قبل پشاورمیں رپیڈبس ٹرانزٹ منصوبہ شروع کرکے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کررکھی ہے جس کے تحت پی ٹی آئی آئندہ الیکشن میں ووٹ بینک زیادہ کرنے کی سوچ رہی ہے اسی طرح ن لیگ اور جے یوآئی جوکہ پی ٹی آئی کی سب سے زیادہ حریف جماعتیں سمجھتی جاتی ہیں، نے پی ٹی آئی کی ناقص پالیسیاں عوام کے سامنے لانے میں مصروف نظرآرہی ہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں عوام دوسری جماعتوں کے بجائے ن لیگ اور جے یوآئی کے امیدواروں کو کامیاب کروائیں ۔

2018الیکشن کیلئے تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی منشورمیں تبدیلی اور ووٹ بینک رکھنے والے امیدواروں کوٹکٹ دینے کیساتھ ساتھ نئے امیدواروں کوسامنے لانے کا عندیہ دیاہے اسکے علاوہ مالی لحاظ سے مستحکم امیدواروں کو بھی پارٹی ٹکٹ دئیے جائینگے۔ بلدیاتی انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی اورپیپلزپارٹی کے درمیان الائنس بھی دونوں جماعتوں کیلئے سودمندثابت نہ ہوسکا تھایہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان آئندہ الیکشن میں اتحادکے امکانات کم ہیں اسی طرح جماعت اسلامی کرپشن کیخلاف مہم کوانتخابات کی تیاریاں کی شکل میں چلارہی ہے اورامکان ہے کہ بعض حلقوں پر ایم ایم اے کی عدم بحالی کی صورت میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوجائے ۔

پیپلزپارٹی جسکاوجودخیبرپختونخوااورپنجاب میں تقریباًکمزور ہوتاجارہاہے نے بھی نئے منشورکیساتھ انتخابی دنگل میں اترنے کا فیصلہ کیاہے سابق صدر آصف علی زرداری اورچیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کاحالیہ صوبے کا دورہ بھی انتخابی مہم کاحصہ ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق عام انتخابات 2018ء ماضی کے الیکشن سے مختلف ہونگے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے امیدوار مختلف حلقوں سے کامیاب ہوکر ایوان میں آئیں گے تاہم پی ٹی آئی کیخلاف کرپشن کاتاحال کوئی بڑاسکینڈل سامنے نہیں آیا توقع ہے کہ وہ دیگرجماعتوں کی نسبت زیادہ نشستیں لینے میں کامیاب ہوجائیگی۔