بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / لاہور بغداد نہ تھا

لاہور بغداد نہ تھا

ریمنڈ ڈیوس نے مال روڈ سے مزنگ چوک کی طرف جانے کا ذکر کرتے ہوئے صفحہ چھ پر لکھا ہے’’ لاہور کی سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہوئے میں ٹریفک کی ترتیب (pattern ) اور آس پاس کے ہجوم کا خاص خیال رکھتا تھامیں یہ بھی سوچتا تھا کہ اگر کہیں پھنس گیا تو کیسے نکلوں گا ان دنوں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سخت تناؤ کا شکار تھے آئے روز امریکن ڈپلو میٹک لائسنس پلیٹ والی گاڑیوں کو روکا جاتاتھااور انکی تلاشی لینے کے بعد بھی انہیں جانے نہیں دیا جاتاتھاہم نے عراق میں پولیس کی وردی پہنے ہوئے دہشت گردوں کے ہاتھوں کئی ساتھیوں کی ہلاکت کی خبریں بھی پڑھی تھیں میں پاکستان میں اس ہتھکنڈے کا شکار نہیں ہونا چاہتا تھا ستائیس جنوری کے دن سفید سیڈان کو ڈرائیو کرتا ہوا میں مال روڈ سے جیل روڈ پر آگیا اس بڑی شاہراہ کی تین لینزایک سمت میں اور تین دوسری سمت میں جاتی ہیں انکے درمیان ایک چوڑی پٹی (divider) ہے جس پر گھاس اگی ہوئی ہے میں جیل روڈ سے فیروز پور روڈ پر آگیا جوپہلی دونوں سڑکوں سے زیادہ پر ہجوم تھا پاکستان میں اس قسم کی جگہ کو چوک کہا جاتا ہے یہ مزنگ چوک تھا جو عمارتوں‘ ریسٹورنٹوں‘ بینکوں ‘ دکانوں اور ایک بس سٹیشن میں گھرا ہوا تھامیں جوں جوں اس چوک کے قریب ہوتا جا رہا تھا میری رفتار کم ہوتی جا رہی تھی مزنگ چوک میں جیل روڈ اور فیروز پور روڈ کے علاوہ کئی دوسری چھوٹی سڑکیں بھی شامل ہو جاتی ہیں اس جگہ پر سارادن ٹریفک رینگ رینگ کر چلتی ہے مجھے یہاں نیلی وردی پہنے پولیس کا ایک سپاہی نظر آیا اسکی قابل رحم حالت کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا تھا کہ اس خرابے کو سنبھالنا کسی بھی صورت اسکے بس کی بات نہ تھی مجھے صاف نظر آرہا تھا کہ وہ اس صورتحال کو بدتر بنا رہا تھامیری گاڑی اسوقت درمیانی لین میں تھی اور ٹریفک مکمل طور پر رک چکی تھی میں نے اندازہ لگایا کہ چوک اور میری کار میں دس گاڑیوں کا فاصلہ تھامیرے دائیں بائیں کاریں۔

‘ موٹر سائیکلیں‘ سائیکلیں‘ رکشے ‘ ٹک ٹک جنہیں ہم امریکہ میں moped کہتے ہیں کھڑے تھے ٹک ٹک تین پہیوں پر چلنے والی گاڑی ہوتی ہے میری کار کے ارد گرد اتنی موٹر سائیکلیں تھیں کہ لگ رہا تھا جیسے میں موٹر سائیکل ریس کا تماشہ کر رہا تھااس ہجوم میں آپ ایک موٹر سائیکل پر سات افراد کو بیٹھا ہوا بھی دیکھ سکتے ہیں میں نے ایک موٹر سائیکل پر گاڑی کی ونڈ شیلڈ لدی ہوئی دیکھی ان پر آپ کو عورتیں دو تین بچے سنبھالنے کی کوشش کرتی ہوئی بھی نظر آئیں گی ان موٹر سائیکلوں کیلئے بنا ہوا اکلوتا قانون ہیلمٹ پہننے کا ہے اس سے آگے فری فار آل ہے‘‘۔’’یہاں دو منٹ کیلئے ٹریفک رکی رہی اس دوران میں دائیں بائیں کھڑ ے لوگوں کا جائزہ لیتا رہا یہ میری عادت ہے کہ میں جب اس قسم کے ہجوم میں پھنس جاتا ہوں تو آس پاس کے لوگوں کوبنظر غائر دیکھتا ہوں میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا‘ بائیں طرف دیکھا‘ عقبی شیشے میں دیکھااور میں مطمئن ہو گیا کہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی مگر جوں ہی میں نے اپنی توجہ سامنے کی طرف مرکوز کی تو میں نے دیکھا کہ ایک سیاہ موٹر سائیکل میرے آگے آکر کھڑی ہو گئی ہے اس پر دو آدمی سوار تھے ڈرائیور کا نام جو مجھے بعد میں معلوم ہوا فیضان حیدر تھااسنے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا وہ آگے کی طرف دیکھ رہا تھا اور اسکے ہاتھ ہینڈلز پر تھے دوسرے بندے کا نام محمد فہیم تھاوہ فیضان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھامگر اسکی پشت فیضان سے لگی ہوئی تھی اور وہ مجھے دیکھ رہا تھا میں اسکا پیٹ اور سینہ دیکھ رہا تھا میں نے اسے کمربند سے پستول نکالتے ہوئے دیکھاپاکستان میں ہر قسم کا اسلحہ آسانی سے مل جاتا ہے مگرہر بندوق رکھنے والے کو خطرناک نہیں کہا جا سکتا تاوقتیکہ وہ اسے آپ پر تان نہ دے اس صورت میں equation مکمل طور پر بدل جاتی ہے ایسا شخص فوری طور پر ایک خطرہ بن جاتا ہے جب موت کا خطرہ نظر آرہا ہو تو بہت سے لوگوں کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں اور انکے حواس کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں یہ کیفیت انہیں زیادہ کمزور اور عاجز بنا دیتی ہے اس صورت میں وہ ہلنے جلنے کی سکت بھی کھو بیٹھتے ہیں حتیٰ کہ انکی آنکھیں ٹھیک طرح سے دیکھنے کی استطاعت سے بھی محروم ہو جاتی ہیں۔

یہاں ریمنڈڈیوس نے خاصی تفصیل سے اس ذہنی کیفیت کا نفسیاتی تجزیہ کر کے لکھا ہے کہ اسکی ملٹری ٹریننگ نے اسے اس قسم کی صورت حال سے نبٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار کیا ہوا تھا ’’ دی کنٹریکٹر‘‘ کے عنوان سے لکھی ہوئی اس کتاب میں آگے چل کر اسنے بتایا ہے کہ فوجی تربیت کے دوران اسے ایک مرتبہ تین ہفتے کیلئے جنگل میں بغیر خوراک کے چھوڑ دیا گیا تھا اس دوران اسے زندہ رہنے کیلئے مردہ جانوروں کا گوشت بھی کھانا پڑا تھاصفحہ آٹھ پر اسنے لکھاہے ’’خوش قسمتی سے مجھے دنیا کے بہترین انسٹرکٹرز نے اس قسم کی خوفناک صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار کیا ہوا تھامیں نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنے ذہنی دباؤ کو کنٹرول کرکے اس سطح پر لے آیا جہاں میں واضح طور پر اپنے سامنے کے منظر کو دیکھ سکتا تھا اس قسم کی صورتحال میں بہت سے لوگ صرف پستول پر توجہ مرکوز کر دیتے ہیں مگرمیں ایک پینسٹھ انچ چوڑی ہائی ڈیفی نیشن ٹیلی ویژن سکرین کو دیکھ رہا تھا اس سکرین کا ہر انچ مجھے صاف نظر آرہا تھامجھے اس لمحے اپنے سامنے کی سب کاریں نظر آ رہیں تھیں میری نگاہ میں دائیں بائیں کے رکشے اور موٹر سائیکلیں بھی تھیں سب کچھ صاف اور شفاف تھا مجھے اپنی ونڈشیلڈ پر پڑی گرد کا ہر ذرہ نظر آرہا تھا ‘ سامنے والی موٹر سائیکل کی بریک لائیٹس بھی نظر آرہی تھیں اور اس پر بیٹھے دو بندے بھی نظر آ رہے تھے۔

انہوں نے کوئی یونیفارم نہیں پہنا ہوا تھا اسلئے ان پر پولیس یا فوج کے اہلکار ہونے کا گمان نہیں کیا جا سکتاتھامیرے اندازے کے مطابق وہ دو عام سے شہری تھےThat is just a couple of guys with a gun ایک پستول لئے ہوئے دو آدمی ‘‘ اگلی سطر میں ریمنڈ نے لکھا ہےThe gun ultimately demanded my full attention ’’گن بہر طور میری پوری توجہ کی مستحق تھی میں نے جب موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے شخص کو اپنے اوپر پستول تانتے ہوئے دیکھا تو اس منظر کا فریم فریز ہو گیامیں نے جب اسے پہلے کمر بند سے پستول نکالتے ہوئے دیکھا تھا تو اسوقت اسکے پستول کی نالی نیچے کی طرف جھکی ہوئی تھی مگر اب وہ اوپراٹھ کر میری گاڑی کے مڈ گارڈ سے ہوتی ہوئی بانٹ پر کچھ دیر رکنے کے بعد میری پیشانی کو نشانے پر لے چکی تھی‘‘ ۔آگے کیا ہوا یہ میں آپ کو آئندہ کالم میں بتاؤں گا۔