بریکنگ نیوز
Home / کالم / احتساب سے بچنے کا طریقہ

احتساب سے بچنے کا طریقہ

اس ملک سے فرار ہونے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی ڈاکٹر یا ہسپتال سے یہ سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیں کہ آپ جس بیماری میں مبتلا ہیں اس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں یہ طریقہ کار کوئی غریب آدمی نہیں اپناتا اسے اپنانے والوں کا تعلق بدمعاشیہ سے ہوتا ہے جو اپنی کرپشن کی وجہ سے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں انہوں نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہوتا ہے کہ اب ان کی خیر نہیں ان کے وکیل ان کیلئے کوئی کارگربہانہ سوجھتے ہیں اور چونکہ علاج کے بہانے غیر ملک نکل جانا سکہ رائج الوقت ہے اسے استعمال میں لایا جاتا ہے اگلے روز ایک جج صاحب نے کیا خوب فرمایا کہ ایسا بھی ہوا کہ مرگی کے مریض کیلئے بعض وکلاء نے یہ میڈیکل سرٹیفیکیٹ حاصل کیاکہ اسے علاج کیلئے باہر جانیکی اجازت دی جائے اس پر ایک وکیل صاحب نے کیا خوب پھبتی کسی کہ مرگی کا مریض تو جوتی سونگھنے سے بھی ٹھیک ہو جاتا ہے اسے علاج کے لئے باہر کیوں بھیجا جائے اس ملک میں اوپن ہارٹ سرجری میں بائی پاس کے سینکڑوں آپریشن نہایت کامیابی سے روزانہ ہو رہے ہیں اسکے باوجودیار لوگ بائی پاس آپریشن یورپ یا امریکہ میں کروانا پسند کرتے ہیں جو کام یہاں چار لاکھ میں ہو سکتا ہے وہ یورپ اور امریکہ جا کر اس پر دس گنا رقم خرچ کر دیتے ہیں معدودے چند ایسے امراض ضرور ہیں کہ جن کا موثر علاج اس ملک کے اندر میسرنہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں ان کیلئے البتہ ملزمان کو اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ باہر جا کر اپنا علاج کروا لیں لیکن وہ بیماریاں کہ جن کا علاج وطن عزیز میں ممکن ہے۔

ان کیلئے عدالتوں کو ذرا سختی کرنا ہو گی اور باہر علاج کرانیکی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی ہوتا یوں ہے کہ بیماری کے بہانے یار لوگ وقتی طور پر پردیس چلے جاتے ہیں ملک کے اندر انکی سیاسی پارٹیوں کے کرتا دھرتا اتھارٹیزسے انکے معاملات طے کر لیتے ہیں بات کبھی کبھی مک مکا پر ختم کر دی جاتی ہے کہ جسے عرف عام میں آپ این آر او بھی کہہ سکتے ہیں جب وہ ملک میں اپنے حالات سازگار پاتے ہیں تو پھر واپس آتے ہیں ہم نے درجنوں اس قسم کے ملزمان کو یہ حربہ کامیابی سے استعمال کرتے دیکھا ہے او ر یقیناًیہ آئندہ بھی استعمال ہو گا اگر عدالتوں نے میڈیکل گراؤنڈز پر مختلف جرائم میں ملوث افراد کیساتھ اس قسم کی نرمی کا برتاؤ جاری رکھا آج کل کوشش کی جا رہی ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کو باہر بھجوانے کیلئے اس قسم کا کوئی حربہ استعمال کیا جائے اس کیلئے سیاسی اور آئینی راہ ہموار کی جا رہی ہے شرجیل میمن یہی حربہ استعمال کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے سے بچ چکے ہیں۔

کمال کی بات یہ ہے کہ اس قسم کے ملزمان بشمول مشرف جب ملک کے اندر ہوتے ہیں تو ان کی کمر میں بھی درد اٹھتا ہے اور دل کاعارضہ بھی انہیں تنگ کرتا ہے کہ اور ان کا بلڈ پریشر بھی نارمل نہیں رہتا لیکن جونہی وہ دبئی میں اپنے ائر کنڈیشنڈ اپارٹمنٹ میں پہنچتے ہیں تو ان کی کمر کا درد بھی ختم ہو جاتا ہے اور بلڈ پریشر بھی نارمل ‘یقیناًپیسے میں بڑی طاقت ہے بڑا زور ہے اور اب تو یار لوگوں نے یہ ٹھانی ہے کہ عوام کو بالکل پتہ نہیں لگنا چاہئے کہ اقتدار کے دوران ان کے ذاتی اثاثوں میں کس قدر اضافہ ہوا ہے چنانچہ پارلیمنٹ کے تمام اراکین عنقریب اس قسم کا ایک قانون لا رہے ہیں کہ جس سے وہ اپنے نجی اثاثے چھپانے میں کامیاب ہو جائیں گے جب ہمارے اراکین پارلیمنٹ کا کوئی ذاتی مفاد ہو تو پھر وہ آپس میں گھل مل جاتے ہیں تنخواہ زیادہ کرنے کا معاملہ ہو یا اپنے لئے مالی مراعات میں اضافہ کرنے کی بات ہو تو وہ فوراً سے پیشتر بل پاس کر دیتے ہیں اب شنید ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے ہاتھ کاٹ رہے ہیں کہ وہ ان سے کبھی بھی یہ مطالبہ نہ کر سکے کہ بھئی ذرااپنی اپنی پراپرٹی کی تفصیل ویب پر ڈسپلے کرو۔