بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / شعبۂ تعلیم: سنجیدہ رد عمل!

شعبۂ تعلیم: سنجیدہ رد عمل!


خیبرپختونخوا کے وزیرتعلیم عاطف خان کا ماننا ہے کہ سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم طلباء و طالبات کے امتحانی نتائج اس قدر مایوس کن نہیں جس قدر ذرائع ابلاغ میں بڑھا چڑھا کر پیش کئے جا رہے ہیں یا پھر تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین صوبے کے آٹھ امتحانی بورڈز کے نتائج کو بنیاد بنا کر خیبرپختونخوا کی تعلیمی اصلاحات کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے! محکمہ تعلیم کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کوآٹھ صفحات پر مشتمل دستاویز کی کاپیاں بھی ارسال کی گئی ہیں جس میں ہر امتحانی بورڈ کے مجموعی نتائج کا خلاصہ اور ان سرکاری اداروں کے طلباء وطالبات کی (انگلیوں پر شمار ہونے والی) تعداد (فخریہ طور پر) بیان کی گئی ہے جنہوں نے میٹرک کے حالیہ امتحانات میں سائنس یا آرٹس کے مضامین میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کی ہیں اگر ہم وزیرتعلیم کے اس مؤقف کا جائزہ لیں اور موجودہ دور کا موازنہ ماضی کے امتحانی نتائج سے کریں تو یقیناًبہتری تو آئی ہے اور صرف بہتری نہیں بلکہ غیرمعمولی بہتری آئی ہے لیکن تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے اور صوبے کے کل ترقیاتی بجٹ کا نصف سے زیادہ صحت و تعلیم کیلئے مختص کرنے کے باوجود بھی اگر ہمیں ماضی وحال ہی کا موازنہ کرنا ہے تو یہ قطعی منطقی نہیں۔ ماضی کی کسی بھی حکومت سے زیادہ تعلیم پر خرچ کرنے کے زیادہ بہتر نتائج سامنے آنے چاہئے تھے ۔

لیکن اگر ایسا نہیں ہوسکا تو اس کے لئے کھلے دل اور بناء مصلحت ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے ایسے کسی بھی معلم کی درس و تدریس سے وابستگی نہیں ہونی چاہئے جسے مطالعے کا ذوق و شوق نہ ہو۔ جو قانون شکنی کا مرتکب اور اس کے مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہوں یا وہ سزا یافتہ ہو۔ جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند اور غیرسیاسی اساتذہ ہی تربیت کی ذمہ داری ادا کرسکتے ہیں تو کیا فیصلہ سازوں کے سامنے یہ امور بھی زیرغور ہیں!؟خیبرپختونخوا حکومت کو بہرحال یہ اعزاز حاصل ہے کہ اِس نے نجی اداروں کی جانب سے امتحانی مراکز کی خریدوفروخت کے تاثر کو بڑی حد تک ختم کیا ہے لیکن امکان ابھی دفن نہیں ہوا۔ امتحانات کی نگرانی جس طرح ماضی میں منظورنظر افراد کو دی جاتی تھی‘ اس میں شفافیت لائی گئی ہے جبکہ مزید اصلاحات بھی ممکن ہیں۔ امتحانی ہالز میں ویڈیو کیمروں کی تنصیب اور نگرانی کا تہہ دار عمل متعارف کرانے کے باوجود بھی اگر نجی سکولوں نے اچھی کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے تو یہ اُن کے نظم وضبط اور تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ روئیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

شعبۂ صحت کے فیصلہ ساز اگر عطائیوں اور جعلی لیبارٹریز سے پریشان ہیں تو تعلیمی فیصلہ سازوں کی نیندیں بھی حرام ہونی چاہئیں کیونکہ سکولوں کی صورت صنعتی اداروں کا جال بچھ گیا ہے‘ ٹیوشن و کوچنگ سنٹرز سے استفادہ ضرورت نہیں ناگزیر حد تک مجبوری بن چکی ہے اور امتحانی پرچہ جات لیک ہونے سے لیکر گیس پیپرز جیسے مافیا کا علاج ابھی ہونا باقی ہے۔ تحریک انصاف حکومت نے بہت سا وقت ضائع کیا۔ درس و تدریس کے عمل پر نجی اداروں کی اجارہ داری اس لئے ختم یا کم نہیں کی جاسکی کیونکہ صوبائی کابینہ میں شامل کئی اراکین کے اپنے ذاتی سکول و کالجز ہیں۔ مفادات سے متصادم قانون سازی نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ معلومات تک رسائی جیسے مثالی قانون کے ناخن اور دانت کیوں نکال دیئے گئے؟حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں نجی ادارے پہلے بھی قانون اور قواعد سے خوفزدہ نہیں تھے اور آج بھی وہ کسی نئی قانون سازی یا قوانین کے اطلاق سے مرعوب نہیں چند کمروں میں سکول قائم ہونے کی اجازت کس نے دی ہے؟ امتحانی بورڈز کی ایک ذمہ داری ایسے سکولوں پر نظربھی ہونی چاہئے جہاں سہولیات کا فقدان ہے۔

فی کلاس روم زیادہ سے زیادہ طلبہ کی تعداد کتنی ہونی چاہئے؟اساتذہ کی تعداد‘ تدریسی سہولیات کا معیار اور اِس تناسب سے کسی سکول کا رقبہ کتنا ہونا چاہئے۔کون طے کریگا کہ نجی سکولوں کی درجہ بندی کر کے انہیں زیادہ سے زیادہ فیس لینے کا پابند بنایا جائے اور والدین کیلئے ایسی ’ہیلپ لائن‘ فراہم کی جائے‘ جہاں وہ شکایات درج کرا سکیں صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ حکمت عملی اختیار کرے کیونکہ اختیارات اسکے پاس ہیں اور محض ذرائع ابلاغ پر گرجنے برسنے کی بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے اپنی کارکردگی کے مثبت و منفی پہلوؤں کا نہیں بلکہ اس سے حاصل نتائج کا جائزہ لے اگر شاہانہ مزاج پر ناگوار نہ ہو اور اِس بات کو توہین نہ سمجھا جائے تو درس وتدریس سے متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی گول میز کانفرنس طلب کرکے مشاورتی اجلاس کو اِس خالص نتیجے پر پہنچنے کا مینڈیٹ دیا جا سکتا ہے کہ خیبرپختونخوا کیلئے تعلیمی اصلاحات لیکن ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟‘‘