بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پانامہ کیس‘ جے آئی ٹی کی رپورٹ

پانامہ کیس‘ جے آئی ٹی کی رپورٹ

پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم مشترکہ ٹیم نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش ہونے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹیم کے ارکان سپریم کورٹ پہنچے تو ان کیساتھ دو باکس بھی تھے جن پر ایوی ڈینس یعنی ثبوت درج تھا‘ ایجنسی کے مطابق رپورٹ کاوالیوم10 پبلک نہ کرنے کا کہا گیا ہے ‘ عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت 17 جولائی تک ملتوی کر دی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے ایس ای سی پی کے چیئرمین کیخلاف کیس درج کرنے کا حکم بھی دیا ہے عدالت نے تصویر لیکس کے معاملے پر کہا ہے کہ حکومت خود تصویر لیک کرنے والے کیخلاف کاروائی کر سکتی ہے اس سب کیساتھ یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ جے آئی ٹی کے کسی رُکن کیخلاف عدالت عظمیٰ کے علم میں لائے بغیر کوئی کاروائی نہ کی جائے۔

‘ پانامہ کیس اہم حیثیت کا حامل مقدمہ ہے اس کیس میں وزیراعظم نے خود اور اپنے خاندان کو تحقیقات کیلئے پیش کیا‘20 اپریل کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں5مئی کو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جس کا پہلا اجلاس8 مئی کو ہوا اس کے ساتھ جوں ہی مشترکہ ٹیم کی کاروائی آگے بڑھتی رہی ہر جانب سے سیاسی بیانات کا سلسلہ بھی تیز ہو تا گیا جو ٹیم کی تحقیقاتی رپورٹ پیش ہونے کے روز بھی جاری رہااس کیس میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنا ہے کیا ہی بہتر ہو کہ اس ضمن میں جارحانہ بیانات سے گریز کیا جائے اس کیساتھ ملک کی معیشت اور عوام کو درپیش مسائل کے حل پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے تجارتی خسارے کے والیوم کو کم کرنا اور توانائی بحران سمیت دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دینا بھی ضروری ہے۔

سی پیک پر کام اور اس کے ثمرات سمیٹنے کیلئے بھی کام کی ضرورت ہے ہمارے ہاں متعدد مواقع پر سیاسی قیادت نے یکجا ہو کر کام کیا ہے اس وقت بھی سینئر قیادت تدبر اور تحمل کیساتھ عدالتی فیصلے کا انتظار کرنے اور عوامی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کیلئے اکٹھی ہو سکتی ہے تاکہ لوگوں کو ریلیف ملے۔

شدید گرمی اور بجلی کی بندش

گرمی کی شدت میں اضافے کیساتھ بجلی کی بندش نے پشاور سمیت خیبر پختونخوا بھر میں شہریوں کو اذیت میں مبتلا کرکے رکھ دیا ہے ‘ بجلی کی بندش صرف لوڈشیڈنگ کا نتیجہ نہیں بعض علاقوں میں بجلی کے صارفین صرف اس وجہ سے اس شدید گرمی میں اندھیرے برداشت کر رہے ہیں کہ ان کے قرب و جوار میں رہنے والے بعض لوگ بجلی کا بل بروقت اد ا نہیں کرتے اور بعض کنڈے ڈال کر بجلی لے رہے ہیں اب اس میں باقاعدگی سے بل جمع کرانے والوں کو سزا دینا کتنا قرین انصاف ہے یہ حکومت کے ذمہ دار محکمہ خود دیکھ سکتے ہیں جن کی ذمہ داری میں بجلی چوری روکنا اور بل بروقت وصول کرنا شامل ہے‘ بجلی کی بندش کی دوسری وجہ ترسیل کا ناقص نظام ہے جسکا بجلی کی پیداوار سے کوئی تعلق نہیں یہ نظام ڈیم بنانے سے درست نہیں ہو گا بلکہ خود ذمہ دار محکمے کو اس کیلئے کریش پروگرام ترتیب دینا ہوگا موسم کی خرابی پر سسٹم میں فالٹ صارفین کیلئے صرف اس لئے مشکل کا ذریعہ بنتا ہے کہ مرمت کیلئے ضرورت کے مطابق عملہ ہوتا ہے نہ ہی وسائل جبکہ ٹپکتے ٹرانسفارمر اور سروں پر جھولتی تاریں ہوا کے دو جھونکے بھی برداشت نہیں کر سکتیں یوں موسم میں خوشگوار تبدیلی مشکل بن کر رہ جاتی ہے حکومت ایک جانب بجلی کی پیداوار بڑھانے پر فوکس کر رہی ہے تو ضرورت اسی طرح ٹرانسمیشن سسٹم میں بہتری پر توجہ کی بھی ہے ۔