بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عمران خان کو سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا حکم

عمران خان کو سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا حکم


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کی کرکٹ سے آمدن اور لندن فلیٹ کی ادائیگی کی تفصیلات طلب کر لیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کے کرکٹ سے کمائی گئی رقم کو ثابت کرنا ہوگا ، بتانا ہوگا 1971سے1983تک پیسہ کمایا بھی یا نہیں جس رقم سے فلیٹ خریدا گیا و ہ پیسے کہاں سے آئے؟لندن میں ادائیگی کب اور کیسے کی گئی، تمام ادائیگیوں کی تفصیلات دینا ہوں گی۔

عمران خان کے پاس 1لاکھ17ہزار پاونڈ کہا ں سے آئے،منی ٹریل کے معاملات کی وضاحت عمران خان نے کرنی ہے، ہم نے صرف کمیشن مقرر کرنے پر رائے طلب کی تھی ،کمیشن مقرر کرنا ہے یا نہیں یہ عدالت کی صوابدید ہے،عمران خان عدالت آکر پوزیشن واضح کریں۔منگل کو میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی۔حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے متفرق درخواستوں کے جواب نہیں دیئے۔اسمبلی تقاریر سمیت متعدد درخواستوں کاجواب نہیں دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا عمران خان جواب دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ۔کچھ خلا موجود ہے جنھیں پر کرنا ضروری ہے۔نہیں چاہتے کسی خلاکی وجہ سے سماعت میں رکاوٹ پڑے۔الیکشن کمیشن کے جواب پر جواب الجواب میں تاخیر پرچیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ تاخیر پر عدالت سے معذرت خواہ ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ صرف معذرت کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ججز اپنی چھٹیاں چھوڑ کر کیس سن رہے ہیٖں۔معذرت کے معاملے پر اشفاق احمد نے بہت کچھ لکھا ہے۔انور منصور کے رویے سے بہت مایوس ہوا ہوں۔

انور منصور نے معاملے کو بہت ہلکا لیا۔عمران خان عدالت آکر پوزیشن واضح کریں۔کیس سے متعلق اہم پہلوؤں پر قانونی معاونت درکار ہے۔ چاہتے ہیں وکلاعدالت کی معاونت کریں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کئی معاملات ایسے ہیں جن پر سوالات اُٹھتے ہیں۔ آرٹیکل 62اور63پر قانونی معانت درکار ہے۔چیف جسٹس نے کہا جس رقم سے فلیٹ خریدا گیا و ہ پیسے کہاں سے آئے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ اس کا جواب دے چکے ہیں وہ کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں بچت کتنی تھی اور ڈاکو منٹس کہا ں ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان اس وقت عوامی شخصیت نہیں تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب عمران خان عوامی شخصیت ہیں اور کہہ رہے ہیں چوری پکڑنا ہوگی۔عمران خان کے اپنے لیے یہیاصول ہونا چاہیے ۔ ابراہیم ستی نے کہا کہ ایک پارٹی کے کھاتے کھولے تو 2014سے مشکل میں ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ 20 میں سے ایک کو پکڑ یں گے تو تعصب کا الزام لگے گا۔ آپ کو یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگی ۔ کئی سال تک الیکشن کمیشن سویا رہا ۔ الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے ۔

دیگر جماعتوں کی فارن ایجنٹ کمپنیاں سامنے آگئی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کے پاس 1لاکھ17ہزار پاونڈ کہا ں سے آئے۔منی ٹریل کے معاملات کی وضاحت عمران خان نے کرنی ہے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ جمائمہ کے جانے کے بعد بنی گالہ کی اراضی خریدی گی۔َالیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی مالی تفصیلات جمع کروادی ہیں۔الیکشن کمیشن نے کبھی اکانٹس کی چھان بین نہیں کی۔ہمیشہ تفصیلا ت کو درست مان کر شائع کیا جاتا ہے۔کسی سیاسی جاعت نے غیر ملکی فنڈنگ کو تسلیم نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا جانچ پڑتال کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی نہیں؟ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن معاملہ کی انکوائری نہیں کرنا چاہتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے صرف کمیشن مقرر کرنے پر رائے طلب کی تھی۔کمیشن مقرر کرنا ہے یا نہیں یہ عدالت کی صوابدید ہے۔ عدالت نے عمران خان کی کرکٹ سے آمدن کی تفصیلات طلب کرلیں جبکہ عمران خان کے لندن فلیٹ کی ادائیگی کی تفصیلات بھی طلب کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ کرکٹ سے کمائی گئی رقم کو ثابت کرنا ہوگا۔نعیم بخاری ہی انور منصور سے متعلق آگاہ کریں گے۔عمران خان کا موقف ہے پاکستان سے کوئی رقم باہر نہیں گئی ۔ بتانا ہوگا 1971سے1983تک پیسہ کمایا بھی یا نہیں نعیم بخاری نے کہا کہ اگر میں کیری پیکر کے 75ہزار پاونڈ دیکھا دوں تو؟

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ پی سی بی سے غیر ملکی دورے میں لی گئی رقم ظاہر کرنی ہوگی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ اس وقت کرکٹ میں اتنا پیسہ نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پاس دستاویزات ہی موجود نہیں ۔ لندن میں ادائیگی کب اور کیسے کی گئی۔ تمام ادائیگیوں کی تفصیلات دینا ہوں گی۔نعیم بخاری نے دستاویزات کے لیے دو دن کی مہلت کی استدعا کی۔ عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔