بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پشاور میں پی ایف کیڈٹ کالج کے قیام کی منظوری

پشاور میں پی ایف کیڈٹ کالج کے قیام کی منظوری

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے نوشہرہ میں جی ٹی روڈ کے کنارے پیر پیائی گاؤں کی 400کنال وسیع اراضی پرایئر یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دی ہے جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو مطلوبہ اراضی فوری پاک فضائیہ کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے پاکستان ائیر فورس کی زیر نگرانی نوشہرہ میں کمرشل ائیر کرافٹ مینٹی نینس کالج اور پشاور میں پی ایف کیڈٹ کالج کے قیام کی بھی با ضابطہ منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان کالجوں میں جلد از جلد کلاسز کے اجراء کے لئے خالی عمارات مہیا کرنے اور بعد ازاں طویل المیعاد منصوبہ بندی کے تحت مطلوبہ اراضی کا بندوبست کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ۔

وزیراعلیٰ نے ہوا بازی اور طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال سمیت کئی شعبوں میں پاک فضائیہ کی استعداد کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ان اہم ترین شعبوں میں خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو بھی ہنر اور مہارت کی بلندیوں پر پہنچائے گی جن کی یہاں شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ صوبائی حکومت جامع منصوبہ بندی کے تحت نوشہرہ جی ٹی روڈ پرٹیکنیکل یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں لا رہی ہے جبکہ کمرشل ائر کرافٹ کالج کے لئے پاک فضائیہ کو خالی عمارت کے علاوہ 15لاکھ روپے کی علامتی گرانٹ بھی مہیا کی گئی ہے۔ ہوا بازی کے شعبے میں یہ درسگاہیں پورے ملک میں اپنی نوعیت کے منفرد ادارے ثابت ہوں گی جو خیبر پختونخوا اور فاٹا کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ہوا بازی، طیارہ سازی ، ہوائی جہازوں کی دیکھ بھال، مرمت اور فضائی تحقیق و ایجادات سمیت تمام شعبوں میں عالمی معیار کی مہارت اور تربیتی سہولیات مہیا کریں گی۔

اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں اجلاس ہوا صوبائی وزیر برائے آبنوشی شاہ فرمان ، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ہوابازی و فنی تعلیم ائیر کموڈور محمد امین ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار خان، سیکرٹری آبپاشی، سیکرٹری انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

ان تمام اداروں کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اپنی نوعیت کے منفرد ان جامعات اور کالجوں کے قیام سے نہ صرف صوبے کے تعلیمی شعبے بلکہ معیشت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور یہاں معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا ۔

اسکی بدولت صوبے میں ہوا بازی سمیت فنی تعلیم کے تمام شعبوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے اور نوجوانوں کی مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ اپنے خاص محل و قوع کی وجہ سے نوشہرہ جی ٹی روڈ جدید تعلیمی اداروں کے قیام کے لئے انتہائی موزوں مقام ہے اس علاقے میں پہلے ہی سے کافی تعداد میں تعلیمی ادارے قائم ہو رہے ہیں فنی تعلیم کے فروغ کو وقت کا اہم تقاضا اور صوبے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خاتمے کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان فنی اداروں کے قیام سے صوبے میں فنی تعلیم کو جدید اور سائنسی خطوط پر استوار کیا جا سکے گا جس سے نہ صرف لوگوں خصوصاً نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہو سکیں گے بلکہ اس کی بدولت یہاں پر صنعتی شعبے کو بھی ترقی ملے گی ۔

اُنہوں نے کہا کہ ائیر یونیورسٹی اوردیگر فنی اداروں کونہ صرف تعلیمی بلکہ تحقیقی و تخلیقی اورایجادات کے مراکز بنایاجائے گا یہاں ہر قسم کی فنی تربیت کا انتظام اوربین الاقوامی معیار کے تحقیقی کام بھی ہوں گے جن سے ہماری نوجوان نسل علمی، فنی اور تخلیقی کاموں اور ایجادات کی طرف راغب ہو گی ۔ دونوں کالجوں کے علاوہ ایئر یونیورسٹی میں فضائی اور طیارہ سازی کی ٹیکنالوجی سے متعلق جدید تعلیم و تربیت فراہم کی جائے گی پاک فضائیہ اس مقصد کیلئے درکار مالی اور فنی وسائل فراہم کرے گی ۔

وزیر اعلیٰ نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی ان یونیورسٹیوں اور کالجوں کی پلاننگ ، ڈیزائن اور تعمیراتی کام بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونا چاہیئے ان کے ڈیزائن اور فن تعمیرکیلئے ترقیافتہ ملک سے استفادہ کیا جائے ۔وزیر اعلیٰ نے پاک فضائیہ کو سکولز و کالج، ہسپتالوں،، رہائشی اور عوامی فلاحی سکیموں کے لئے پشاور میں مناسب مقام پر چار تا پانچ ہزار کنال اراضی کا بندوبست کرنے کی ہدایت بھی کی۔ پاک فضائیہ کے حکام نے ان نئی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے قیام کے سلسلے میں صوبائی حکومت کو اپنے ادارے کی طرف سے ہر ممکن پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعاون کا یقین دلایا ۔