بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حکومت کا جے آئی ٹی رپورٹ چیلنج کرنے کا اعلان

حکومت کا جے آئی ٹی رپورٹ چیلنج کرنے کا اعلان


اسلام آباد۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں و وفاقی وزراء اسحاق ڈار ، خواجہ سعد رفیق اور وزیر اعظم کے مشیر بیرسٹرظفر اللہ نے اعلان کیاہے کہ حکومت جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی اورہم آف شور کمپنی کا جواب سپریم کورٹ میں دیں گے اور دلیل کے ساتھ آئیں گے۔جمہوری نظام کو چلنے دیا جائے ، تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کرینگے ،جے آئی ٹی رپورٹ حتمی نہیں ، صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،جے آئی ٹی کا کام پارٹی بازی اور یکطرفہ فیصلہ نہیں ، کچھ لوگ چہرے کی جھریاں چھپانے کیلئے بوٹو کس استعمال کرتے ہیں مگر میں اسیا کچھ نہیں کرتا ، رپورٹ کی بعض دستاویزات ناقابل اعتبار ہیں ، 1999کے مارشل لاء میں نیب نے میرے گھر سے دستاویزات لیں، رپورٹ میں پکوڑے بیچنے والے کاغذات بھی شامل ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت بڑا خلاء ہے ، ہمارے تمام مالی معاملات کا ریکارڈ موجود ہے ، تمام الزامات ردکرتے ہیں ، جواب سپریم کورٹ میں د ینگے ، جے آئی ٹی نے اپنا کام خود کیا ہوتا تو مجھے بلانے کی ضرورت نہ پڑتی ، پانامہ پیپرز کا معاملہ دو ماہ نہیں بلکہ کئی مہینوں میں تخلیق کیا گیا ، پیپلزپارٹی کو کم از کم کرپشن کی بات زیب نہیں دیتی ، تفتیش کا اصول ہے کہ موجود مواد پر جرح کی جائے ، اتنی جلدی نہ کریں ، تیز فیصلے نہ کریں ، الٹی سیدھی چیزیں اکٹھی کرنے کیلئے بھاگ دوڑ کی گئی ۔ وہ منگل کو یہا ں وزیراعظم کی زیر صدارت(ن) لیگ کے مشاورتی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔

وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سے باہر عدالت لگی ہوئی ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ پیشہ ورانہ طورپر غیر معیاری ہے ، صبرہونا چاہیے ، ہم نے بھی بہت صبر کیا ہے ، دھرنا ون پھر دھرنا ٹو کو برداشت کیا ، ابھی جے آئی ٹی رپورٹ بھی مکمل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نظام کو چلنے دینا چاہیے ، ہم نے رپورٹ کا جائزہ لیا ہے تو اس میں متعدد خامیاں ہیں ۔ رپورٹ کی بعض دستاویزات ناقابل اعتماد ہیں ۔ اس رپورٹ میں پکوڑے بانٹنے والے کاغذات بھی شامل ہیں اور رپورٹ میں بہت سے کاغذات ایسے ہیں جن پر دستخط نہیں ہیں ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ رپورٹ میں بہت سے کاغذات ایسے بھی ہیں جن کو پڑھا بھی نہیں جا سکتا ۔

جے آئی ٹی والیم 10کو منظر عام پرنہ لانے کا کہا ہے مطلب تحقیقات ابھی جاری ہیں ۔ یہ ثابت کرنے کیلئے رپورٹ میں کتنی سچائی ہے میں اپنے متعلق پورشن کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ 1999میں پرویز مشرف کے مارشل لاء کے وقت میرے گھر سے نیب دستاویزات ساتھ لے گئی تھی ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ 3جولائی کو جے آئی ٹی نے مجھ سے ٹیکس ریٹرن سے متعلق پوچھا گیا ، میں نے بتایا کہ مشرف دور میں نیب نی میرا ٹیکس ریکارڈ تحویل میں لے لیا ۔ میں نے 2003سے2008تک اپنی ٹیکس ریٹرن جے آئی ٹی کو مہیاں کیں ، 7جولائی کو میں نے نیب سے بھی اپنا ریکارڈ نکلو کر جے آئی ٹی کو بجھویا جسکی رسید بھی موجود ہے ۔

1981سے 2002تک میرا ٹیکس ریکارڈ7جولائی کو نیب سے حاصل کر کے جے آئی ٹی کو فراہم کیا ۔انہوں نے کہا کہ سوئی سے لیکر مرسڈیز تک ہر چیز کا ریکارڈ موجود ہے میں ایک ایک پیسے کا حساب دینے کیلئے تیار ہوں ، میں زکوٰۃ اور چیئرٹی کھانے والوں میں سے نہیں دینے والوں میں سے ہوں ۔ سپریم کورٹ میں ساری ٹریل پیش کروں گا اور سپریم کورٹ چاہے دنیا کی کسی بھی فرم سے آڈٹ کروائے ۔ آخری پیسے تک میرے پیسوں کا ریکارڈ موجود ہوگا ، مجھ سے پوچھا گیا نہ جواب مانگا گیا مگر ایک فائنڈنگ لکھ دی گئی ہے ۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ میرے دونوں بیٹے 2003سے خودمختار ہیں ، میں نے اپنے بچوں کو قرض حسنہ دیا اور انہوں نے قانونی طریقے سے واپس کیا ، میں جب تک سیاست کروں گا میرا کوئی بچہ پاکستان میں کاروبار نہیں کرے گا ، یہ پابندی میں نے خود لگائی تاکہ کوئی الزام نہ لگا سکے ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پروفیشنل ہوں مجھے ٹیکس بچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت سے کاغذات خود بنائے گئے میرے بچوں نے جو بھیجا تمام ثبوت میرے پاس موجود ہیں ، بچوں نے کمائی تین یا چار اقساط میں بینکوں سے بھیجی ، بطور مالی مشیر جو سالانہ مشاہدہ ملا اس کا میں نے بتایا ۔انہوں نے سالانہ مشاہدے کو سرمایہ کاری لکھ دیا ہے ، لگتا ہے جے آئی ٹی والے جلدی میں تھے یا معاملہ بالکل ہی پیدل ہے ، مجھے مجبور کردیا گیا ہے اب قوم کے سامنے تمام چیزوں کو کلیئر کروں گا ۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ میں نے 8کروڑ61لاکھ روپے ہجویری ٹرسٹ کو خیرات کئے ، ہجویری ٹرسٹ میں 100یتیم بچے ہیں جنہیں اپنے ہی بچے سمجھتا ہوں ، وصیت میں اپنی آمدن بھی یتیم بچوں کے نام کر چکا ہوں ، ہجویری فاؤنڈیشن کے ذریعے گردوں کے مریضوں کی مدد کی جاتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال رمضان میں 5ہزار خاندانوں کو راشن تقسیم کرتے ہیں ، میرے ساری تنخواہ بھی ہجویری ٹرسٹ کو جاتی ہے،ہجویری فاؤنڈیشن کے نام 20ایکٹر زمین اور آفس ہے ، میں سوات کڈنی اسپتال کیلئے 5کروڑروپے کا عطیہ دیا ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کام کیا ہوتا تو مجھے بلانے کی ضرورت نہ ہوتی ، میرے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں ،اپنے اوپر تمام الزامات کو رد کرتا ہوں اور جواب سپریم کورٹ میں دوں گا ،ا ثاثے ظاہر نہ کرنے کا الزام بے بنیاد ہے ، وزیراعظم کے خلاف بھی کرپشن کا کوئی کیس نہیں ہے سار کیس ان کے والد کے کاروبار کے گردگھومتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 13معزز جج حدیبیہ پیپرز ملز کے معاملے کو نمٹا چکے ہیں ،عدالتی حکم ہے کہ اس کیس کو ری اوپن نہیں کیا جاکستا ، اتنی جلد نہ کریں اتنے تیز فیصلے نہ کریں ،سیاسی تماشے لگانے میں توفیصلہ کر لیں ملک کو کہاں لے جانا ہے ، ملک کو آگے جانے دو تمہاری قسمت میں نہیں ہے تو کچھ نہیں ملتا ۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہ اکہ جے آئی ٹی کے لگائے گئے الزامات کا جواب سپریم کورٹ میں دیں گے ۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں زیادہ تر مواد بغیر پوچھے سوالات پر مبنی ہے ۔ جے آئی ٹی نے جانبداری سے کام لیا اور یکطرفہ ٹریفک چلائی گئی ۔انہوں نے کہا کہ پانامہ پیپرز کے پیچھے چھپے اعتراض ومقاصد ایک روز ضرور بے نقاب ہوں گے ، سازش کے ہدایتکار ملک کے باہر اور اداکار ملک کے اندر ہیں ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ الٹی سیدھی چیزیں جمع کرنے کیلئے دو ماہ نہیں بلکہ ڈیڑھ سال سے تیاری کی جا رہی تھی ، وزیراعظم نوازشریف کی کوئی بھی آف شور کمپنی نہیں ہے ، سازش کرنے والوں میں عمران خان مرکزی کردار نبھا رہے ہیں ۔

ہم ملک کو نہ چلنے دینے والوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کیلئے قربانیاں دیں اور جیلیں بھگتیں ، مہا اداکارہمیں اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں ، مخالفین کو جواب دینا ہمارا حق ہے ۔وزیرریلوے نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو کرپشن کے حوالے سے بات کرنے سے پہلے گریبان میں جھانکنا چاہیے ، ہم آئینی اور عوامی عدالت میں سازشی عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ، جے آئی ٹی نے اپنے کام سے انصاف کی بجائے نئی کہانیاں شروع کردیں ۔

انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کو گالیاں دینے والوں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے ، عمران خان ،شیخ رشید اور ہمنوا سپریم کورٹ کے خودساختہ ترجمان بنے رہے ، میں درخواست کرتا ہوں کہ ان خودساختہ ترجمانوں کے سکرپٹ بھی منگوائے جائیں ۔ وزیراعظم کے مشیر بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ اس طرح کی رپورٹس تو روز آتی رہتی ہیں ، ایک رپورٹ کو فیصلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ رپورٹ میں جے آئی ٹی کی دانش وری نظر آتی ہے ۔اس رپورٹ اور عدالتی فیصلے مین بہت فرق ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مستحق اداروں کو خیرات دینے کے عمل کو ٹیکس چوری کہنا افسوسناک ہے ، جے آئی ٹی کی رپورٹ ان کی اپنی رائے یا خواہشات ہیں ، ہم عدالت میں اپنا بھرپور موقف پیش کریں گے ۔