بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اے این پی نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کر لیں

اے این پی نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کر لیں

پشاور ۔ عوامی نیشنل پارٹی نے آئندہ انتخابات کے ٹکٹ کیلئے درخواستیں طلب کر لیں ، امیدواروں کا فیصلہ مرحلہ وار کیاجائے گا، اس بات کا اعلان پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے باچا خان مرکز میں فاٹا اور ایف آرز کے صدور و جنرل سیکرٹریز کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کیا، اس موقع پر انہوں نے اب تک ہونے والے تنطیمی معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ صوبائی تنظیم اب رابطہ عوام مہم میں مزید تیزی لانے کیلئے صوبہ بھر اور فاٹا کا دورہ کرے گی۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پانامہ کے ہنگامے میں ملک کے اہم مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ، جن میں سب سے اہم فاٹا کا مسئلہ ہے ، صوبائی صدر نے کہا کہ مرکزی حکومت فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تمام ضروری لوازمات مکمل کر کے اسے آئینی ترمیم کے ذریعے عملی جامہ پہنائے ،اور 2018کے الیکشن سے قبل فاٹا کو صوبے میں ضم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے ساتھ ساتھ الیکشن ریفارمز، این ایف سی ایوارڈ، خطے کی صورتحال اور پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات بھی انتہائی توجہ طلب مسائل ہیں تاہم حکمرانوں نے جے آئی ٹی کو اولیں ترجیح بنا لیا ہے اور قوم کو جے آئی ٹی کے پیچھے لگا دیا گیا، انہوں نے کہا کہ جلد ہی ہم باقی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے فاٹا کے مسئلے کو آگے لے کر چلیں گے،انہوں نے کہا کہ فاٹا کمیٹی بھی رابطہ عوام مہم کے سلسلے میں کام کر رہی ہے جبکہ ہمیں خواتین کے حوالے سے بھی مزید کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کی اصلاح کیلئے تنقید کرتے ہیں جسے حکمران ذاتیات کی صورت میں لیتے ہیں جو اچھا شگون نہیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کی حالت قوم نے دیکھ لی ہے اور اس کی حقیقت حالیہ میٹرک کے نتائج سے کھل کر سامنے آ گئی ہے،جبکہ ہائیڈرل پاور کے منصوبوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دے کر صوبے کو مالی طور پر نقصان پہنچایا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پانامہ پر اے این پی کا مؤقف واضح ہے اور سپریم کورت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ہمیں منظور ہو گا البتہ جب تک الزام ثابت نہ ہو جائے کسی کو مجرم نہیں ٹہرایا جا سکتا ،انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے جے آئی ٹی کی تشکیل پر سب نے مٹھائیاں تقسیم کیں لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے ، ہم کسی کی وکالت نہین کرتے بلکہ ہم سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ نواز شریف کے خلاف آیا تو اس کے ملک پر گہرے اثرات مرتب ہونگے میں انہوں نے کہا کہ ملک میں مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں،البتہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے خلاف سازش ہو رہی ہے تو کھل کے بات کرے اور بتاےء کہ سازش کون کر رہا ہے۔