بریکنگ نیوز
Home / کالم / تعلیمی نتائج

تعلیمی نتائج

میٹرک کے نتائج میں پورے کے پی کے کے سکولوں کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو کے پی کے حکومت کے دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے۔ایک عرصے سے یہ پروپیگنڈا عام تھا کے پی کے حکوت نے جو اقدام اٹھائے ہیں اُس سے حکومت کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا معیار اتنا بلند ہوا ہے کہ ہزاروں طالب علم نجی تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر حکومتی اداروں میں داخلہ لے رہے ہیں۔ اس کا تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے مگر نتائج کو سامنے رکھا جائے تو ننانوے فی صد حکومتی سکولوں کے نتائج بہت ہی خراب ہیں۔ایبٹ آباد بورڈ کے نتائج میں سوائے گونمنٹ ہائی سکول نمبر ۳ ایبٹ آباد کے کسی بھی سکول کا نتیجہ قابل ستائش نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ بورڈ کی ٹاپ بیس پوزیشنز پر پرائیوئٹ سکولوں کے طالب علموں کا قبضہ ہے۔ اسی طرح باقی سکولوں کا بھی حال ہے۔سکولوں میں بہتری اس طرح نہیں آتی کہ آپ ڈنڈا اٹھائے اساتذہ کے پیچھے لگے رہیں جیسا کہ کے پی کے حکومت کر رہی ہے۔ استاد کو اُس کی قابلیت پر چھوڑیں ۔اس کو عزت دیں ،اس کی مجبوریوں کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد اُس سے حساب لیں ۔آپ نے ایک انسپیکشن ٹیم بنا دی ہے جو جگہ جگہ جا کر سکولوں کے اساتذہ کی حاضری کا جائزہ لیتی ہے۔ کوئی استاد اگر چھٹی پر بھی ہے تو اس کی غیرحاضری لگا کر تنخواہ کا ٹ لی جاتی ہے اور اس سے جواب طلبی بھی نہیں کی جاتی کہ وہ اگر سکول میں حاضر نہیں تھا تو کیوں نہیں تھا ۔ استاد ایک ایسا عاجز بندہ ہے کہ جس سے حکومت جو چاہے کام لے سکتی ہے۔الیکشن ہو، شماریات کا کام ہو یا کوئی اور حکومتی کام ہو استاد کو کان سے پکڑ کر اس کام پر لگا دیاجاتا ہے۔ا سکے علاوہ امتحانات میں امتحانی ہال میں نگرانی کا کام بھی استاد ہی کو کرنا ہو تا ہے۔جب ایسی کوئی ڈیوٹی کوئی استاد دے رہا ہوتا ہے تو ظاہر ہے وہ حکومتی کام ہی کر رہا ہوتا ہے‘ ایسے میں یہ ہوا ہے کہ انسپکشن ٹیم نے ایسے اساتذہ کو اپنی لسٹ میں غیر حاضر لکھا ہے او راساتذہ کی تنخواہیں کاٹ لی گئی ہیں۔ جس پہ کافی ہنگامہ بھی ہوا ہے۔اگر آپ استاد کے ساتھ یہ سلوک کریں گے تو اس کے بعد آپ اُس سے کیا توقع کر سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیاہے کہ اگر استاد استحقاقی چھٹی پر بھی ہے تو انسپیکشن ٹیم نے اُسے غیر حاضر دکھایا ہے اور اُسے اس غیر حاضری کی سزا بھی دی گئی ہے۔ ہمارے ہاں ایک محاورہ ہے کہ چلتے بیل کو’’ چکا‘‘ نہیں دینا چاہئے۔ایسا کرنے سے نتائج ہمیشہ الٹے آتے ہیں۔ ہم نے کئی دفعہ اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ اگر کوئی پرنسپل یا ہیڈ ماسٹر اساتذہ پر سختی کرتا ہے تو اس کا نتیجہ ہمیشہ غلط آتا ہے۔ ہمارے دوران سروس جب پرنسپلز نے سختی کی ہے اُن کے عملے نے اس کے غلط نتائج دیئے ہیں اس کے مقابلے میں جس بھی پرنسپل نے پہلے دن ہی میٹنگ میں اساتذہ سے کہا ہے کہ کالج بھی تمہارا ہے اور طلباء بھی تمہارے بچے ہیں ۔ میں تو صرف آپ کے ساتھ گپ شپ کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ تو اس کالج میں اساتذہ نے اپنی پوری دیانت داری سے کا م کیا ہے ۔ اور ایسا بھی ہوا ہے کہ سائنس کے اساتذہ پر پرنسپل گلہ بھی کرتے دکھائی دیئے ہیں کہ کچھ وقت کے لئے اُن کے پاس بھی آ جایا کریں مگر ان اساتذہ کے پاس کبھی وقت ہی نہیں ہوا کہ وہ پرنسپل کے دفتر جا کر ان کو سلا م کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے پرنسپل کے کالجوں کا نتیجہ ہمیشہ بہت اچھا رہا ہے۔اُن کے مقابلے میں جو ہر وقت اساتذہ کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں۔استاد ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنا آپ اور اپنا علم اپنے طلباء کی امانت سمجھتا ہے۔یہ اُس کی حیات کا ایک حصہ ہوتا ہے ، اُس کو یہ سمجھانا نہیں پڑتا یہ شے اُس کے اندر ہوتی ہے۔

کسی بھی محکمے کے ملازم کو دیکھیں تو وہ کام کے بعد کبھی اپنے محکمے کی بات نہیں کرتا۔ مگر استاد واحد ملازم ہے کہ جو دن رات اگر کوئی بات کرتا ہے تو اپنے سکول اور اپنے طلباء کی بات کرتا ہے۔وہ سارا وقت اپنے طلباء کی بہتری کا سوچتا رہتا ہے۔ اب جو استاد نے کام چوری شروع کر رکھی ہے تو یہ اُس عمل کا رد عمل ہے جو معاشرہ اورحکومت اُس کے ساتھ کر رہے ہیں۔استاد کو آپ جتنی عزت دیں گے وہ آپ کو اتنا ہی علم دے گا۔اور جتنا آپ اُس کو ہلکا سمجھیں گے وہ اتنا ہی آپ کو علم سے دور رکھے گا۔وہ معاشرے کبھی ترقی نہیں کر سکتے جن کے ہاں استاد کی قدر نہ ہو۔باہر کے ملکوں میں اگر دیکھا جائے تو معاشرے کا سب سے اعلیٰ شخص استاد ہوتا ہے میرا ایک رشتہ دار سعودی عرب میں ایک سکول میں پڑھاتا ہے۔اُس نے بتایا کہ ایک سفر میں وہ ویگن میں پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ راستے میں چیکنگ ہوئی تو جب سپاہی کو یہ معلوم ہوا کہ ایک استاد ویگن کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہے تو اُس نے ڈرایؤر کو سخت سست کہا اورفرنٹ سیٹ پر بیٹھا شخص نیچے اتر آیا اور مجھے فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیا گیا اور ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے یہ آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔