بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / حقائق کا جائزہ لینے کی ضرورت

حقائق کا جائزہ لینے کی ضرورت


پشاوربورڈ کے حالیہ میٹرک نتائج کے مطابق سائنس اور آرٹس گروپ کے ٹاپ20 پوزیشن ہولڈرز طلباء طالبات میں سرکاری سکولوں کا ایک بھی طالب علم یا طالبہ شامل نہیں ہے جس سے سرکاری سکولوں کی کارکردگی کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں اور اصلاحات کے بلند بانگ دعوؤں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس بحث اور تنقید کی توپوں کا زیادہ تر ر خ صوبائی حکومت اور اساتذہ کی جانب ہے لیکن حیران کن طور پر اس تنقید اور محاسبے کا اب تک کوئی باقاعدہ جواب اور وضاحت نہ تو حکومت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے سامنے آیا ہے اور نہ ہی اساتذہ کی کسی نمائندہ تنظیم نے اس تنقید کا کوئی جواب دینے کی ضرورت محسوس کی ہے جس سے تنقید کرنے والوں کی تنقیدمیں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔میٹرک کے حالیہ نتائج میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی پر تنقید کی گنجائش بھی ہے اور یہ تنقید ہونی بھی چاہئے لیکن یہ تنقید اخلاقیات کے دائرے اور مثبت سوچ کے تحت ہونی چاہئے کیونکہ مثبت تنقید،خود احتسابی اورخامیوں کی نشاندہی زندہ قوموں کی نشانی ہے ۔ہمارے ہاں سرکاری سکولوں کے نتائج پہلی دفعہ خراب نہیں آئے ہیں بلکہ یہ روگ ہم پچھلی کئی دہائیوں سے پال رہے ہیں خاص کر جب سے ہمارے ہاں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا بھونچال آیا ہے تب سے یہ موازنہ اور بحث جاری ہے۔

بدقسمتی سے چونکہ ہم ایک جذباتی قوم ہیں اس لیئے ہم کام پہلے کرتے ہیں،کسی مسئلے اور ایشو پر اپنی رائے اور ردعمل بھی پہلے دیتے ہیں لیکن ان امور پر بالعموم سوچتے بعد میں ہیں بلکہ اکثر اوقات تو اس کی نوبت یا تو آتی نہیں ہے اور یا پھر کم ہی آتی ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے ہاں کچھ عرصہ پہلے تک جب پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کلچر پروان نہیں چڑھا تھاتوکیا بورڈ اور یونیورسٹیز کے ٹاپ پوزیشن ہولڈرز کا تعلق سرکاری تعلیمی اداروں سے نہیں ہوتا تھا کیا پاکستان کی پہلی،دوسری اور حتیٰ کہ تیسری نسل کی اکثریت بھی سرکاری تعلیمی اداروں کی پڑھی ہوئی نہیں ہے کیاپچھلے پچاس ساٹھ سالوں میں زندگی کے مختلف شعبوں میں گراں مایہ خدمات حتیٰ کہ بعض نمایاں کارنامے انجام دینے والی نابغہ روزگار شخصیات کا تعلق ٹاٹ سکولوں سے نہیں رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب اور عوامل ہیں جن کے باعث سرکاری سکولوں کو ٹاٹ اور چٹائی کی بجائے فرنیچراور قلم ودوات اور تختی کی بجائے کمپیوٹرتومل گئے ہیں لیکن اب ان سکولوں سے کوئی ڈاکٹر عبد القدیر خان‘ڈاکٹر عبدالسلام اور غلام اسحاق خان پیدا نہیں ہو رہے ہیں اس ضمن میں ہمارے بعض ناقدین کا خیال ہے کہ سرکاری سکولوں کی ناقص کارکردگی کے زیادہ ترذمہ دار اساتذہ ہیں۔

،کچھ اس کا ذمہ دار محکمہ تعلیم کوقراردیتے ہیں،بعض کے خیال میں نصاب کا تفاوت اس ناکامی کی وجہ ہے جب کہ کچھ احباب اس کی ذمہ داری پرائیویٹ اداروں اور بورڈز کی ملی بھگت پر ڈال کر گلوخلاصی کرتے ہیں ان تمام باتوں میں یقیناً کچھ نہ کچھ وزن ضرور ہے لیکن کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے ہمیں تصویر کا کوئی ایک رخ دیکھنے کی بجائے مکمل تصویر کو دیکھ اور جانچ کر ایمانداری سے تمام معروضی حالات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ہوگا یہاں دو مزید سوالات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کے ممکنہ جوابات ہی سے ہم کسی متوازن اور قابل عمل نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں پہلا سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری سکول اتنے ہی گئے گزرے اور خراب ہیں تو پھر آخر ان میں تمام تر خرابیوں کے باوجود تل دھرنے کی جگہ کیوں نہیں ہے کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سرکاری سکولوں کے ایک ایک کلاس روم جن میں بمشکل پچا س بچوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے ان میں ستر،اسی اور سو تک بچے بیٹھے ہوتے ہیں۔کیا اتنی بڑی تعداد کوایک استاد کیلئے پڑھانا اور ان بچوں کو پرائیویٹ اداروں کے بچوں کے مقابلے کیلئے تیارکرنا ممکن ہے سرکاری سکولوں کی خراب کارکردگی کی دوسری بڑی وجہ چیک اینڈ بیلنس کے کسی موثر نظام کا نہ ہونا ہے بحیثیت قوم ہم چونکہ ڈنڈے کے نیچے کام کرنے کے عادی ہیں اور ایسی حالت میں ہم بہتر نتائج دیتے ہیں۔

اس لیئے پرائیویٹ سکولوں کے نتائج اچھے آتے ہیں اور سرکاری سکولوں میں اساتذہ اپنی ایک درجن تنظیموں اور سیاسی وابستگیوں کے بل پر اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے نہ تو اپنے آپ کو کسی کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی کسی تنقید اور محاسبے کو خاطر میں لاتے ہیں حرف آخریہ کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو مذید تجربات کی بھینٹ چڑھانے اور اسے نیم حکیموں (بیورو کریسی)کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی بجائے درپیش مسائل وچیلنجز کاکوئی قابل عمل حل تلاش کرنے کیلئے ماہرین تعلیم،اساتذہ اور والدین پر مشتمل کوئی فورم تشکیل دے کر یہ اہم ٹاسک اس کے حوالے کردینا چاہئے ۔