بریکنگ نیوز
Home / کالم / پیپلز پارٹی کا مستقبل؟

پیپلز پارٹی کا مستقبل؟


عام انتخابات ہی کسی سیاسی جماعت کے زندہ یا مردہ ہونے کی ناقابل تردید دلیل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے سیاسی تنہائی کا شکار ہونے کے باوجود کراچی اور گلگت بلتستان میں دو نشستوں کے ضمنی انتخابات کا معرکہ مارلیا۔ کراچی کے حلقہ ’پی ایس 114‘ میں پیپلزپارٹی کے نامزد اُمیدوار سعید غنی 23ہزار 840ووٹ لے کر ’سندھ اسمبلی‘ کے رکن منتخب ہوئے جو اِس نشست پر پیپلزپارٹی کی تاریخ کی پہلی کامیابی ہے۔ ان کے مدمقابل متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کامران ٹیسوری اٹھارہ ہزار ایک سو چھ ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے جبکہ اس ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ یہ نشست مسلم لیگ (نواز) کے رکن سندھ اسمبلی عرفان اللہ مروت کے نااہل ہونے کے باعث خالی ہوئی تھی جو کراچی میں نواز لیگ کی واحد نشست بھی تھی۔ اب مسلم لیگ نواز اس نشست سے محرومی کے ساتھ سندھ اسمبلی سے آؤٹ ہو گئی۔ قابل ذکر ہے کہ نواز لیگ کا نامزد امیدوار ضمنی انتخاب کے مقابلے میں تیسرے نمبر پر رہا! اسی طرح گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی چار کے ضمنی انتخاب میں بھی پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار جاوید حسین چھ ہزاراٹھاسی ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے‘ جبکہ اُن کے مدمقابل نواز لیگ کے حمایت یافتہ اسلامی تحریک کے آٹھ سو زائد ووٹ ہی حاصل کر سکے۔ یہ نشست اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ پیپلزپارٹی کو بالخصوص کراچی کی نشست کے ضمنی انتخاب میں اپنی کامیابی کا قطعاً یقین نہیں تھا اور اس کے نامزد امیدوار سعید غنی نتائج سامنے آنے سے پہلے تک رینجرز پر جانبداری کا الزام عائد کررہے تھے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف کے امیدوار ایک دوسرے پر انتخابی دھاندلیوں کے الزامات لگاتے نظر آرہے تھے۔

اس انتخابی معرکے میں پیپلزپارٹی کا پہلی بار متذکرہ حلقے میں کامیابی حاصل کرنا بلاشبہ سندھ میں اس پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو ضرور سہارا مہیا کرے گا‘ جبکہ گلگت بلتستان اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کے باوجود پیپلزپارٹی کے امیدوار کی کامیابی سے پیپلزپارٹی کو قومی سیاست میں بھی اپنی بحالی کا موقع ملے گا کراچی اور گلگت بلتستان اسمبلی کی دو نشستوں کے ضمنی انتخاب میں سامنے آنے والے نتائج متعلقہ جماعتوں کے لئے یقیناًدوررس نتائج کے حامل ہیں۔ نواز لیگ کی مستقبل کی سیاست پر تو یہ انتخابی نتائج شاید منفی اثرات مرتب نہیں کر پائیں گے کیونکہ پانامہ کیس کے دباؤ کے باوجود اس پارٹی کی مجموعی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس تناظر میں متذکرہ نشستوں کا انتخاب نواز لیگ کے لئے ٹیسٹ کیس ہرگز نہیں تھا۔ بیشک نواز لیگ ضمنی انتخاب میں کراچی کی نشست سے محروم ہو گئی ہے جس کی وجہ اس انتخابی معرکے میں نواز لیگ کی مرکزی قیادت کی عدم توجہی بھی ہو سکتی ہے البتہ یہ ضمنی انتخاب ہارنا ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے لئے ضرور لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے۔ اس طرح گلگت بلتستان اسمبلی کا ضمنی انتخاب ہارنا نواز لیگ کے لئے لمحۂ فکریہ ضرور ہونا چاہئے‘ ۔

جو اس نشست پر اسلامی تحریک کے امیدوار کے ساتھ کھڑی تھی مگر وہاں اپنی حکومت ہونے کے باوجود یہ نشست نہ جیت پائی جبکہ پیپلزپارٹی کا اس نشست پر کامیاب ہونا درحقیقت گلگت بلتستان میں رجعت پسندی اور انتہاء پسندی پر مبنی سوچ کی شکست ہے جس میں نواز لیگ کے لئے یہ سبق بھی موجود ہے کہ وہ اپنی سیاست پر رجعت پسندانہ اور انتہاء پسندانہ سوچ کا لیبل لگوانے سے بہرصورت گریز کرے بصورت دیگر آئندہ عام انتخابات کے زیادہ بڑے مرحلے میں اس کے لئے مشکل صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اس وقت ملک میں جس شدت کے ساتھ جمہوریت مخالف سوچ پروان چڑھ رہی‘ اسے سسٹم کے استحکام کے لئے ہرگز صحت مند قرار نہیں دیا جا سکتا اس لئے ضروری ہے کہ سسٹم کے استحکام کی خاطر قومی سیاسی جماعتوں کو بھی استحکام کی منزل سے ہمکنار کیا جائے۔ بالخصوص دو جماعتی نظام کو مستحکم کرنا ضروری ہے جو وفاق کی علامت قومی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی کی ٹوٹ پھوٹ سے مخدوش ہوتا نظر آرہا تھا۔ بے شک ٹوٹ پھوٹ میں پیپلزپارٹی کی قیادت کی اپنی طرز سیاست کا ہی عمل دخل ہے جبکہ اس پارٹی کے دور اقتدار میں اس کی قیادت کے ساتھ منسوب ہونے والی مالی بدعنوانی کی داستانوں نے بھی اس پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کے راستے کھولے چنانچہ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات اور پھر بلدیاتی انتخابات میں بھی پیپلزپارٹی کو بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا جس سے یہی محسوس ہورہا تھا کہ اس پارٹی کی سیاست اب قصۂ پارینہ بن گئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی کامیابی نے جہاں اس پارٹی کی سیاست کے احیاء کے راستے کھولے ہیں وہیں دوجماعتی نظام کے استحکام کی اُمید بھی پیدا کر دی ہے‘ جو جمہوریت کے استحکام کے لئے بھی حوصلہ افزأ اشارہ ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: وسیم خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)