بریکنگ نیوز
Home / کالم / جمہوریت اور جمہوریت دشمن!

جمہوریت اور جمہوریت دشمن!


پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے جو ایک بات ابھی تک نہیں سمجھی وہ یہ ہے کہ جمہوریت کا تسلسل قانون سازی اور اس پر عمل درآمد سے گریز کی صورت ممکن نہیں ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے احتجاج سے تیسری قوت آئی تو ذمہ دار نوازشریف ہوں گے‘ ہمارے دھرنے کی آڑ میں فوج کو بدنام کیا جارہا ہے‘ ہمیں فوج یا نان سٹیٹ ایکٹرز کی حمایت حاصل نہیں‘ اگر حکومت نے ہمارے خلاف تشدد یا زور زبردستی کا راستہ اختیار کیا تو نقصان حکومت ہی کا ہوگا۔

حزب اختلاف کے سرکردہ رہنما کی حیثیت سے عمران خان کو بلاشبہ یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ حکومتی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کریں اور نظام کی اصلاح کیلئے بھی آواز بلند کریں‘ اُن کی جانب سے پانامہ لیکس کی بنیاد پر وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں‘ اُن کی بھی لازماً تحقیقات ہونی چاہئیں جن کے درست ثابت ہونے کی صورت میں میاں نوازشریف کا اپنے منصب پر فائز رہنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا تاہم یہ سارے معاملات مجاز فورموں پر ہی لائے جاسکتے ہیں۔ حکومتی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور سسٹم کی اصلاح کے لئے آواز اٹھانے کا مجاز فورم پارلیمنٹ ہے جہاں عوام نے اس مقصد کے تحت ہی انہیں مینڈیٹ دے کر بھجوایا ہے مگر انہوں نے آج تک اس مجاز فورم پر عوامی نمائندگی کا حق ادا کرنا گوارا ہی نہیں کیا۔ موجودہ اسمبلیوں کے ساڑھے تین سال کے عرصہ میں وہ خود صرف پانچ بار قومی اسمبلی میں گئے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب انہیں قومی اسمبلی میں طوفان اٹھانا سوٹ کرتا تھا‘ باقی سارا عرصہ وہ پارلیمنٹ کے باہر دھرنا سیاست کرتے رہے ہیں اور اس سیاست کے دوران ان کے سمیت پی ٹی آئی کے سارے ارکان قومی اسمبلی و پنجاب اسمبلی استعفے بھی دے چکے ہیں جس سے منتخب ایوان کیساتھ ان کی دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے‘ اسی طرح وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ پر لگائے جانیوالے بدعنوانی کے الزامات پر کاروائی کا مجاز فورم عدلیہ ہے جس سے عمران خان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین پہلے ہی رجوع کرچکے ہیں اور سپریم کورٹ ان کی درخواستوں پر وزیراعظم سمیت تمام فریقین سے جواب طلب کرکے کیس کی سماعت کیلئے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کرچکی ہے۔

اصولی‘ اخلاقی اور قانونی طور پر تو عمران خان کو اب ’’بلیم گیم‘‘ کی سیاست والی پٹاری بند کرکے ساری توجہ سپریم کورٹ میں اپنے کیس پر مبذول کرنی چاہئے اور وزیراعظم اور ان کے خاندان کے ارکان کے خلاف انکے پاس جو بھی ثبوت ہیں‘ وہ سپریم کورٹ میں پیش کرکے عدالتی کاروائی کے منطقی نتائج تک پہنچنے میں معاون بننا چاہئے۔ اگر وہ اپنے ووٹروں کے مینڈیٹ کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں بھی نظام کی اصلاح کے لئے کردار ادا کرنے کو تیار نہیں اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے باوجود وہ دس لاکھ افراد کو ساتھ لا کر دھرنے کے ذریعے اسلام آباد کو بند کرنے اور حکومت کو کسی صورت چلنے نہ دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس کیلئے انہوں نے مالاکنڈ میں اپنے پارٹی ورکروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ بھی کیا ہے تو ان کا ایجنڈا حکومتی بے ضابطگیوں کی پکڑ‘ سسٹم کی اصلاح اور بذریعہ عدالتی انصاف وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ کے ارکان کو سزا دلوانے کا نہیں جبکہ اپنے لب و لہجے‘ طرز عمل اور طرز سیاست سے وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں جیسے انہیں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور انتشار والے اس ایجنڈے میں مقتدر حلقوں کی تائید اور سرپرستی حاصل ہے۔ جب ان کی جانب سے باربار اس الزام کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ نواز شریف فوج کو بدنام کررہے ہیں۔

جبکہ فوج دفاع وطن میں مصروف ہے تو اس سے ان کا یہ تاثر دینا ہی مقصود ہوتا ہے کہ فوج ان کے ایجنڈے کیساتھ کھڑی ہے‘ یقیناًاس تاثر کو تقویت پہنچانے کیلئے ہی انہوں نے اسلام آباد دھرنے کیلئے اس وقت کا انتخاب کیا جب آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اپنے منصب سے ریٹائرمنٹ قریب ہے‘ عمران خان نے اگر بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں حکومت کے خلاف اعلان کردہ اپنے دسمبر کے لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ اس وقت تک حکومت ختم ہوچکی ہوگی تو درحقیقت وہ یہی تاثر دینا چاہتے ہیں کہ دھرنے کے نتائج کے حوالے سے ان کا مقتدر حلقوں کے ساتھ مک مکا ہوچکا ہے۔عمران خان نے اپنی گزشتہ دھرنا تحریک کے دوران بھی امپائر کی انگلی اٹھنے کے ذومعنی فقرے ادا کرکے فوج کی حمایت حاصل ہونے کا تاثر دینے کی کوشش کی تھی ‘ اب آرمی چیف کی اپنے منصب سے ریٹائرمنٹ کی تاریخ قریب آنے پر عمران خان سپریم کورٹ میں دائر اپنے کیس کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی دھرنا تحریک کے نتیجہ میں حکومت کے گرنے کے دعوے کئے چلے جارہے ہیں تو درحقیقت وہ اپنی باڈی لینگویج سے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اپنے کندھے تھپتھپائے جاتے ہی دکھانا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں عمران خان کا یہ کہنا بھی معنی خیز ہے کہ ان کی تحریک کے نتیجہ میں تیسری قوت آئی تو اس کے ذمہ دار نوازشریف ہی ہونگے۔ گویا وہ تیسری قوت کو گھسیٹ کر لانے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال کا کسی ایک رخ ہونا ضروری ہے کہ نئے آرمی چیف کے تقرر کے معاملہ میں وزیراعظم کی جانب سے کسی گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہونے کا تاثر پیدا نہ ہونے دیا جائے اور وزیراعظم اپنے آئینی اختیارات کو بروئے کار لا کر عمران خان کی دھرنے کی کال سے پہلے ہی لیفٹیننٹ جنرلز کی سنیارٹی لسٹ میں سے کسی ایک کے بطور آرمی چیف تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کردیں‘ اس سے آرمی چیف کے منصب کی توسیع کے حوالے سے مخصوص مقاصد کے تحت پھیلائی جانے والی قیاس آرائیوں کا سلسلہ بند ہوجائے گا۔