بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پی آئی اے کی حج پروازوں میں صوابدیدی اختیارات ختم

پی آئی اے کی حج پروازوں میں صوابدیدی اختیارات ختم

اسلام آباد۔پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن(پی آئی اے) کی حج پروازں میں بزنس کلاس سیٹوں کے اجرا میں پہلی مرتبہ تمام تر صوابدیدی اختیارات کے خاتمہ کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اے کی حج پروازوں میں بزنس کلاس کی نشستیں صرف بزرگ حجاج کرام کو ہی الاٹ کی جائیں گی ۔اثرورسوخ کے حامل من پسندفرادکی بجائے اب معمرعازمین ہی کسی اضافی خرچہ کے بغیر اعلی سہولیات سے استفادہ کرسکیں گے حج سیزن کے دوران عازمین کی رہنمائی اورشکایات کے بروقت ازالہ کے لئے24گھنٹے کی ہیلپ لائن کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ رواں سال حج کے دوران فلائیٹ آپریشن کے انتظامات کے سلسلہ میں ایک اعلی سطحی اجلاس وزیراعظم کے مشیربرائے ہوابازی سردارمہتاب احمد خان کی صدارت میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں وفاقی سیکرٹری برائے ہوابازی عرفان الہی سمیت سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے اعلی حکام نے شرکت کی۔

اس موقع پر حج پروازوں کے مسافروں کو ائرپورٹس اور دوران پرواز بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے تجاویز پر غور کیا گیا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیرہوابازی سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ ایک کمرشل ادارہ کی حیثیت سے دوران سفرحجاج کرام کو سہولیات کی فراہمی اور ان کی خدمت پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے افسروں اور اہلکاروں کے لئے ایک عظیم سعادت بھی ہے اور تمام اہلکار اسی جذبہ سے اپنے فرائض سرانجام دیں۔سردار مہتاب احمد خان نے پی آئی اے کی حج پروازوں میں بزنس کلاس کی نشستوں کے اجراء میں عملہ کے صوابدیدی اختیارکے مروجہ طریقہ کار کونامناسب قراردیتے ہوئے پی آئی اے کے چیف کمرشل آفیسر(CCO) کو ہدایت کی کہ رواں سال حج سیزن کے دوران ملک بھر کے تمام ایئر پورٹس پرپی آئی اے پروازوں میں بزنس کلاس کی نشستوں کی الاٹمنٹ میں کسی کو بھی کوئی صوابدید ی اختیار حاصل نہیں ہوگا ۔

بلکہ اب یہ نشستیں خالصتا عمر کے لحاظ سے بزرگ حجاج کرام کو الاٹ کی جائیں اور اس ضمن میں کسی بھی اثر کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ مشیرہوابازی نے حج سیزن کے دوران عازمین کی شکایات کے فوری ازالہ اورمناسب رہنمائی کے لئے چیف کمرشل آفیسر (CCO) کی زیر نگرانی تمام ائرپورٹس پر ہیلپ لائن کے قیام کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ ان ہیلپ لائنز میں 24گھنٹے مستعد اہلکار تعینات کئے جائیں اور شکایات اور اس کے ازالہ کے لئے اقدامات کا ریکارڈ رکھا جائے جسے متعلقہ شعبوں کے ذمہ داران چیک کرتے رہیں۔