بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نوشہرہ کے دور آفتادہ علاقوں میں گیس سپلائی کا افتتاح

نوشہرہ کے دور آفتادہ علاقوں میں گیس سپلائی کا افتتاح


پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا جبکہ تک ا س ملک کو ایماندار قیادت نہیں ملتی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان واحد ایماندار لیڈر ہیں ۔ وہ وزیر اعظم منتخب ہوکر پاکستان کوبہت آگے لے جاسکتے ہیں۔حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف عمران خان نے جو جہاد شروع کیا جے آئی ٹی رپورٹ کی شکل میں وہ حقائق سامنے آچکے ہیں۔

اور جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم نوازشریف کے پورے خاندان کے خلا ف ثبوت اور شواہد سامنے آچکے ہیں۔تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اپنے قائد عمران خان کی رہنمائی میں صوبے کے تمام وسائل غریب عوام پر خرچ کررہی ہے۔ صوبے کے نوے ہزار ملازمین جو این ٹی ایس یا دیگر طریقوں سے بھرتی کیے گئے بہت جلد ان ملازمین کومستقل کیاجائے گا اوران کی اپ گریڈیشن بھی کی جائے گی اورتمام ملازمین بشمول پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ کیاجائے گا۔اے این پی ، پی ایم ایل این ، او رپی پی پی فارغ ہیں۔ وہ تحریک انصاف کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ 2018 کے انتخابات میں نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ چاروں صوبوں اور وفاق میں پی ٹی آئی حکومت بنائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ کے دور افتادہ علاقوں جڑوبہ اور سپن خاک میں ایک ارب روپے کی لاگت سے سوئی گیس سپلائی کے افتتاح اور اسی کروڑ روپے کی لاگت سے جڑوبہ ڈیم کے سنگ بنیاد رکھنے کے بعدجلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے صوبائی وزیر میاں جمشید الدین کاکا خیل،ضلع ناظم لیاقت خٹک، ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک، ایم پی اے و مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میاں خلیق الرحمان، اسحاق خٹک اور تاج محمد شاہ نے بھی خطاب کیا اور صوبے کی ہماگیر ترقی کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر اے این پی کے سرگرم کارکنان رحم جلیل، اسامہ خٹک، محمد نبی، جعفرریاض خٹک، سجاد، مرسلین، حیات ولی، مصطفٰے، حسن اور حیات خٹک نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ترقیاتی کام عوام پر احسان نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کی حیثیت سے ہمارا فرض بنتا ہے۔حیرت ان پر ہے جو منتخب نمائندوں کے حلقوں میں جا کر جعلی ترقیاتی سکیموں کی تختیاں لگاتے ہیں۔ نام نہاد وفاقی وزیر امیر مقام ان میں سر فہرست ہے۔ امیر مقام کرائے کے گوریلے ہیں جو ہر حکومت کو کرائے پر دستیاب ہوتا ہے۔

گیس کی منظوری میں نے اپنے دور ناظم میں کرائی۔ پیسے صوبائی حکومت نے جمع کرائے۔ ہماری منظور کردہ سکیم پر مخالفین کا بغلیں بجانا اور اپنا نام بنانا حیرت انگیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے خاندان کی زندگی عوام کے لئے وقف ہے۔ عوام نے ہمیشہ ہم پر اعتماد کیا اور ہم نے بھی انکے اعتماد کو ٹھیس نہیں بہنچائی۔ انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی صورت میں عوام نے دیکھ لیا کہ کرپٹ حکمرانوں نے مسیحا کے بھیس میں کتنی بے دردی اور بے رحمی سے لوٹ مار کی۔ کرپٹ لوگوں کے ماتھوں پر کرپشن کے آثار نمایاں ہیں۔بے ضمیر حکمرانوں نے صوبے کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا تھا۔ انھوں نے کہاکہ دنیا کی ترقی ایماندار قیادت سے مشروط ہے۔ہم پورے ملک میں حکومت بنا کر قوم کو ایک مضبوط نظام دیں گے۔ووٹ ایک امانت ہے عوام یہ امانت اہل قیادت کے سپرد کریں۔ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی پورے ملک میں حکومت بنائے گی۔ عمران خان وزیر اعظم بن کر ترقی کی نئی جہتیں متعارف کرائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم عوام کے پیسوں سے انکی ترقی و فلاح کے لئے کوشاں ہیں۔

حیرت ان پر ہے جو منتخب نمائندوں کے حلقوں میں جا کر ترقیاتی سکیموں کا افتتاح کرتے ہیں حالانکہ وہ منتخب نمائندے نہیں ہوتے جن میں امیر مقام سر فہرست ہے جو صوبے کے ان علاقوں میں ترقیاتی سکیموں کے لئے پہنچ جاتا ہے جہاں مقامی ایم این اے اور ایم پی اے کے فنڈ سے ترقیاتی کام ہوتے ہیں اور اسے ان نمائندوں کی طرف سے وہاں آنے کی دعوت بھی نہیں دی جاتی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے خاندان کی زندگی عوامی خدمت کے لئے وقف ہے۔ ہم نے عوامی خدمت کے لئے اپنے کاروبار تک چھوڑے ہیں۔ دولت اکھٹی کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ ہم نوشہرہ کے عوام کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں عزت دی اور ہر الیکشن میں ہم پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے بھی کسی مرحلے پر انکے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔ ہم نے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کے بعد اداروں کی مضبوطی پر توجہ دی تاکہ وہ عوام کی خدمت بہتر انداز میں کریں اور ان کا اعتماد بحال ہو۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے تعلیم و صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی لگائی کیونکہ یہ دو شعبے عوام کی خوشحالی کے لئے اہم ترین اور ہماری نظر میں میگا منصوبے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اداروں کی مضبوطی کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اے این پی اور پی پی پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کے حکمران اور سیاست دان در حقیقت عوام کی خدمت نہیں بلکہ دولت کا انبار لگانے کے لئے حکومت میں آتے رہے ہیں۔ وہ خود کو عوام کا ہمدرد کہتے رہے مگر حکومت میں آ کر دونوں ہاتھوں سے خزانہ لوٹتے رہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دنیا کی ترقی ایماندار لیڈروں سے مشروط ہے جس قوم نے ایماندار لیڈر کو جنم دیا وہ ترقی کی معراج پر پہنچی۔ ہم پورے ملک میں حکومت بنا کر قوم کو ایک مضبوط نظام دیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی پیک صوبے کا مستقبل بنائے گا۔ پورے صوبے میں صنعتی زون بنیں گے۔ چین کے چھوٹے اور بڑے سرمایہ کار صوبے کا رخ کر رہے ہیں۔ یہاں میرٹ پر مبنی نظام قائم ہے۔ قابلیت پر لوگ آگے آ رہے ہیں۔ہمارے بنائے گئے سسٹم میں ذاتی پسند و نا پسند کی کوئی گنجائش نہیں۔

انھوں نے کہا کہ رشکئی صنعتی زون میں دو لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ صوبے بھر میں صنعتی ترقی کا آغاز ہو چکا ہے۔ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کو پتھر کے زمانے سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ماضی میں ہر کام پر پیسے مانگے جاتے تھے کرپشن اور کمیشن کلچر عام تھا۔ہم نے مثالی حکمرانی کے ذریعے یہ تمام خرافات ختم کر دیں۔ ہمارے دور میں جو کرپشن کرے گا اسے عبرت کا نشان بنا دیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی کی کرپشن کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ مگر اب پی ٹی آئی کی کرپشن کے خلاف مہم کے نتیجے میں عوام با شعور ہو چکے ہیں۔ انہیں مزید دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انکی حکومت نے ماضی کی کرپٹ حکمرانی کے بر عکس عوامی حکمرانی کا اسلوب متعارف کرایا کیونکہ ہم اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ ہم نے صوبے کو ترقی کی نئی جہت دی، سسٹم ٹھیک کیا یہ بہت خوبصورت ملک ہے مگر بے ضمیر لوگوں نے اسے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا ۔ یہ ملک مزید کرپشن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اب ایماندار لوگوں کو آگے آنا ہے۔ قوم اپنی صفوں میں کرپٹ لوگوں کی نشاندہی کرے۔ہم نے یہ کام اپنے آپ سے شروع کرنا ہے ہم نے کمزوریاں ختم کی ہیں جب خود کرپشن نہیں کرتے تو کسی کو کرنے بھی نہیں دیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نواز شریف نے الیکشن میں دھاندلی کی اسکے خلاف عمران خان نے آواز اٹھائی۔ پانامہ لیکس کی کرپشن اسکے ناشتے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی ہماری صفوں میں کالی بھیڑیں ہیں جو اللہ کے سامنے جوابدہی پر ایمان نہیں رکھتے۔انکو چن چن کر نشان عبرت بنایا جائے۔وزیر اعلیٰ نے عوام سے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے صوبائی حکومت کی مدد کریں کرپشن کے ثبوت اکٹھے کریں اور گواہی کے لئے تیار ہوں کرپشن کے لئے قومی مہم بنائیں۔ اسکے بغیر خوشحالی نہیں آ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جس نئے پاکستان کی بات کرتا ہے وہ ایسا پاکستان ہے جس میں حقدار کو حق حاصل ہو۔ عوام کو تعلیم صحت اور دیگر سہولیات میسر ہوں ۔ عوامی وسائل عوام پر خرچ ہوں۔ لوٹ مار ، زیادتی اور نا انصافی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے نظام کو لوگ اچھی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔تعلیم اور صحت کے شعبوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اساتذہ اور ڈاکٹروں کا مقام بہت بلند ہے۔وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ ایک با شعور قوم بنانے میں ہمارے مدد کریں اس طرح وہ اس دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی سرخرو ہو ں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومیں تعلیم سے بنتی ہیں مگر اس ملک میں غریب کے ساتھ بہت ظلم ہوا۔

دو کمرے دو استاد اور چھ کلاسیں کہا ں کا انصاف ہے۔صوبائی حکومت نے آ کر سرکاری سکولوں کا معیار بلند کیا بنیادی انگلش شروع کی تاکہ غریب اور امیر میں فرق ختم ہو سکے۔ غریب کا بچہ بھی امیر کا مقابلہ کر سکے ہم تعلیم کے ذریعے ہی ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ہم نے اداروں سے سیاسی مداخلت ختم کی اب سسٹم ڈیلیور کر رہا ہے۔ہم تباہی کو راستہ نہیں دیں گے اسکے آگے بند باندھنا ہے۔اے این پی کی دوغلی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسکی سیاست دروغ گوئی ، دھوکہ دہی اور کرپشن کی داستانوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے حیدر ہوتی اور زرداری سے بارہا سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لئے اقدامات کرنے کا کہا مگر انہوں نے کوئی توجہ نہ دی اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عوام کے کتنے خیر خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اے این پی اور نون لیگیوں کی دوغلی سیاست کو ختم کر دیا ہے۔ پورے صوبے میں ترقیاتی عمل جاری ہے۔ صوبے بھر میں چھوٹے ڈیم بنا رہے ہیں ۔ زمین کی آباد کاری ہو رہی ہے۔ کھیت سے منڈیوں تک آسان رسائی کے لئے سڑکیں بن رہی ہیں۔سرکاری ملازمین کی فلاح کا حوالہ دیتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا وعدہ ضرور پورا کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دل جمعی کے ساتھ کام کریں ۔ عوام کی ریلیف دیں اور اداروں کو خوش اسلوبی سے چلائیں۔ انہوں نے اس موقع پر عمران خان کی سیاسی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کو درپیش تمام مسائل معلوم ہیں وہ عوام کا درد رکھنے والا لیڈر ہے وہ ہمیشہ اس سلسلے میں پوچھتے رہتے ہیں یہ عمران خان کا ہی وژن اور منشور ہے جس پر عمل کرکے ہم نے صوبے کی شکل تبدیل کر دی ہے۔