بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سانحہ احمد پور شرقیہ:’شیل‘ متاثرین کو ہرجانہ ادا کرنے کو تیار

سانحہ احمد پور شرقیہ:’شیل‘ متاثرین کو ہرجانہ ادا کرنے کو تیار


آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے قانونی نوٹس کی تنبیہ کے بعد شیل پاکستان لمیٹڈ (ایس پی ایل) نے 25 جون 2017 کو احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر کے حادثے میں جاں بحق افراد کوہرجانہ دینے کی حامی بھر دی۔

یاد رہے کہ احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر کے حادثے کے بعد قریبی علاقے کے سیکڑوں افراد تیل کو حاصل کرنے کے لیے جمع ہوگئے تھے اسی دوران آگ لگنے کے باعث بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

اوگرا نے شیل کو 24 لاکھ ڈالر ادا کرنے یا ہر جاں بحق ہونے والے فرد کے لواحقین کو 9 ہزار 500 ڈالر ادا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بدھ 12 جولائی کی ڈیڈلائن دی تھی۔

ایس پی ایل کا کہنا ہے کہ حادثے کے زخمی افراد اور اپنے پیاروں کو کھونے والے لواحقین کو مناسب طریقے سے مالی تعاون کے معاملے پر متعلقہ حکام سے بات ہورہی تھی۔

تاہم رائل ڈچ شیل کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ متاثرین کو کتنا معاوضہ ادا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ایس پی ایل کی ایک کروڑ کی پنالٹی مسترد

اوگرا نے 25 جون کے حادثے کی ذمہ داری ایس پی ایل پر عائد کرتے ہوئے متاثرین کو ہرجانے کے علاوہ ایک کروڑ کا جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم کمپنی کی جانب سے صرف ہرجانہ جمع کرنے پر اوگرا نے اس کو ادھورا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔

اوگرا نے ایس پی ایل پر واضح کردیا تھا کہ وہ متاثرین کو ہرجانہ ادا کرے ورنہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی کا کہنا تھا کہ ‘یہ حکم کی جزوی تعمیل ہے جس کوہم مسترد کرتے ہیں’۔

ایس پی ایل پر ہلاکتوں کی ذمہ داری عائد

اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی کا کہنا تھا کہ تفتیش میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ کمپنی ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے کیونکہ حادثے کا شکار ٹینکر تیل لے جانے کے قابل نہیں تھا اورڈرائیور کا لائسنس بھی منسوخ شدہ تھا۔

قبل ازیں اوگرا نے احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر کے حادثے کی رپورٹ میں کہا تھا کہ آئل ٹینکر کرایے کا تھا حالانکہ اس کے معیار کو برقرار رکھنا شیل کی ذمہ داری شیل تھی کیونکہ وہ اوگرا کا لائسنس یافتہ ہے۔

اوگرا کی تین رکنی کمیٹی کے مطابق آئیل ٹینکر 50 ہزار لیٹر تیل لے جانے کے ٹیکنیکل معیار پر پورا نہیں اترتا تھا اور یہ اوگرا کے قوانین کے مطابق بھی نہیں تھا جبکہ ٹینکر کا فٹنس سرٹیفیکیٹ بھی جعلی تھا۔

اس کے برعکس ایس پی ایل نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ حادثے کا شکار ٹینکر نمبر ٹی ایل جی-235 کراچی کی ٹرانسپورٹ کمپنی مروت انٹرپرائزز سے حاصل کی گئی تھی جس میں 50 ہزار لیٹر تیل لے جانے کی گنجائش تھی۔