بریکنگ نیوز
Home / کالم / ملکی قوانین سے کوئی بھی بالاتر نہیں

ملکی قوانین سے کوئی بھی بالاتر نہیں


ہم میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے کہ جو محض ویل ڈرائیور ہیں بس گاڑی چلالیتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ اس کو سٹارٹ کرنے سے پہلے اس کی مشینری کی کونسی کونسی چیزوں کو چیک کرنا ضروری ہے کیا بریک آئل موجود ہے ؟ پانی کی کیا پوزیشن ہے ‘ ٹائروں میں ہوا مناسب تعداد میں موجود ہے کہ نہیں موبل آئل صاف ہے یا گندا اس طرح ہم میں سے اکثر گاڑی چلانے والے ٹریفک کے اصولوں سے بالکل نا بلد ہیں باالفاظ دیگر کورے ہیں نہ تو انہوں نے خود ٹریفک رولز سیکھنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی ان کو ڈرائیونگ لائسنس دینے والوں نے لائسنس جاری کرتے وقت ان کو بتلانے کی زحمت کی ہے یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں سڑکوں پر ٹریفک حادثات سے لقمہ اجل ہو جانے والوں کی تعداد دیگر مہلک بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے پھر ڈرائیوروں کی کئی اقسام ہیں ان میں بعض ڈرائیور جن میں خصوصاً سرکاری گاڑیوں کے ڈرائیور بھی شامل ہیں اتنے خود سر ہوتے ہیں اتنے بدتمیز ہوتے ہیں کہ اللہ کی پنا ہ وہ گاڑی چلاتے وقت ہوا کے گھوڑے پر جیسے سوار ہوتے ہیں ٹریفک پولیس تو کیا وہ کسی دوسری گاڑی کے ڈرائیور کو بھی بالکل گھاس نہیں ڈالتے جس طرح بھاری بھر کم ٹرک ڈرائیور سڑک پر چھوٹی گاڑیوں کو خاطر میں نہیں لاتا بالکل اسی طرح سرکاری نمبر پلیٹ والے ڈرائیور اپنے افسر سے اپنے آپ کوزیادہ بڑا افسر سمجھتے ہیں جس ملک میں نادرا کے شناختی کارڈ یعنی جعلی شناختی کارڈ بہ آسانی میسر آ جائیں وہاں جعلی ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا کونسا بڑا کام ہے ہم آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر آپ ڈرائیونگ کر رہے ہیں۔

اور سڑک پر کوئی ٹریفک انسپکٹر آپ کو ہاتھ دے کر روک کر آپ سے آپ کے گاڑی کے کاغذات یا آپ کاڈرائیونگ لائسنس چیک کرنے کا تقاضا کرتا ہے تو اس میں کونسی بری بات ہے اس سے آپ کی عزت میں کیا فرق پڑتا ہے آپ کو تو داد دینی چاہئے اس انسپکٹر کو کہ وہ اپنے فرائض منصبی بخوبی سر انجام دے رہا ہے آپ کے ماتھے پر تھوڑا ہی لکھا ہوتا ہے کہ آپ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے ڈرائیونگ نہیں کر رہے ہونگے یا آپ نے اپنی گاڑی کے کاغذات صحیح حالت میں رکھے ہوں گے اور گاڑی کے استعما ل کی سالانہ فیس جمع کرائی ہو گی ایک مرتبہ ایک سرکاری گاڑی میں خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس جوسرکاری وردی میں نہ تھے پشاور سے اسلام آباد جا رہے تھے اٹک کے پل کے قریب ایک ٹریفک انسپکٹر نے ان کی گاڑی روکی اور ڈرائیور سے گاڑی کے کاغذات دکھلانے کو کہا اس سے پیشتر کہ ڈرائیور اسے بتاتا کہ گاڑی میں آئی جی پیچھے بیٹھے ہیں آئی جی نے ڈرائیور کو کاغذات بتلانے کو کہا اس نے کاغذات کے ملاحظے کے بعد گاڑی کو جانے دیا آئی جی نے دوسرے دن اس ٹریفک انسپکٹر کو اپنے دفتر بلا کر اسے ہزار روپے بطور انعام دیا اور اسے کہا کہ وہ اس کی فرض شناسی سے خوش ہوا۔اس طرح کی مثالیں اگر تمام بااختیار سرکاری افسران اور حکومتی عہدیدار قائم کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ قانون کی حکمرانی اور قانون کی پاسداری کا جذبہ عوام میں پروان چڑھے۔