بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / سادہ لوح دانائی!

سادہ لوح دانائی!


مسلم لیگ ن نے کم وبیش تیس برس کی سیاست میں یوں تو بہت سے اتارچڑھاؤ جھیلے ہیں لیکن شاید ہی کبھی حالات سے ہار ماننے کے وہ اتنے قریب پہنچی ہو جیسا کہ عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت پانامہ کیس کی صورت دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن جیسے جیسے سماعت آگے بڑھ رہی ہے کہ نواز لیگ کے خلاف عائد الزامات کی فہرست میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بات شروع ہوئی تھی کہ نواز لیگ کی مرکزی قیادت کی مالی حیثیت میں مختلف اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہنے کے دوران اضافہ ہوا۔ ان کے ذرائع آمدن مشکوک اور ان مالی وسائل کا استعمال غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک منتقلی‘ سرمایہ کاری اور خفیہ ناموں سے اثاثے خریدنے کے لئے کیا گیا ان الزامات کی حقیقت کیا ہے‘ اِس بارے چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم نے ’فردجرم تجویز‘ کرتے ہوئے ایک ایسا نکتہ بھی پیش کیا‘ جس میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کردہ ایک دستاویز جعل سازی سے تیار کی گئی اور اس سلسلے میں ٹیکنالوجی ماہرین سے تصدیق اور وہ شواہد کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ انگریزی زبان کے حروف میں مذکورہ دستاویز تحریر کی گئی اس کا نام ’کالیبری (Calibri)‘ ہے اور دستاویز کی تیاری پر جو تاریخ درج کی گئی ہے‘ مذکورہ فانٹ (font) اُس وقت متعارف ہی نہیں ہوا تھا! اس سلسلے میں ’لیوکس فانٹس نامی کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود رسم الخط کا تعارف اور پس منظر میں کہا گیا ہے کہ ’’کیلیبری نامی فانٹ 2002ء میں تیار ہونا شروع ہوا جبکہ مارچ 2004ء میں اس فانٹ کی حتمی کاپی ’مائیکروسافٹ‘ نامی کمپنی کو ارسال کی گئی تاکہ وہ اِسے اپنی آئندہ آنیوالی ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کا حصہ بنائے ویکی پیڈیا کے مطابق کیلیبری فانٹ مائیکروسافٹ کی جانب سے 6جون 2006 کے روز جاری کیا گیا اور اگر یہ امریکی ادارے سچ کہہ رہے ہیں تو مریم نواز جعل سازی کی مرتکب ہوئی ہیں بصورت دیگر یہ بھی ممکن ہے ’لوکس فانٹ‘ اور ’مائیکروسافٹ‘ سے قبل مریم نواز نے یہ فانٹ ایجاد کر لیا ہو یا اسکی کاپی ’چور مارکیٹ‘ سے حاصل کر لی ہو جس کا مستند استعمال ان کے دستخطوں سے ہوا ہے۔

پانامہ کیس کے سلسلے میں تحقیقات کرنے والی چھ رکنی ٹیم نے جن فارنزک ماہرین کی خدمات حاصل کیں اُنہوں نے بھی اپنی رپورٹ میں یہی لکھا ہے کہ مریم نواز کی پیش کردہ دستاویز پر سال 2006ء کی تاریخ درج ہے لیکن جس رسم الخط (فانٹ) میں یہ دستاویز تحریر کی گئی ہے وہ 31 جنوری 2007ء سے پہلے مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھا لیکن مسلم لیگ نواز کے رہنما مریم نواز کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ کیلیبری فانٹ اگست 2004ء سے دستیاب ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی شخص بخوبی جانتا ہے کہ ’کیلیبری فانٹ سے متعلق سچ کیا ہے اور مریم نواز سے لاعلمی میں کتنی بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے محترمہ مریم نواز کی سادہ لوحی کے سبب ٹیکنالوجی کی دنیامیں پاکستان کا نام ایسے حوالے سے لیا جا رہا ہے جو کسی بھی صورت مثبت نہیں۔ ایک ایسا ملک جس کے ذہین طلباء و طالبات نے مائیکروسافٹ اور سیسکو جیسے بڑے اداروں کی تعارفی اسناد حاصل کر رکھی ہوں ۔

جنہوں نے امریکہ برطانیہ اور یورپی ممالک میں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اعزازات حاصل کئے اور جنکے پیش کردہ تصورات سے استفادہ کرتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا ہوئے اسی پاکستان کا آج مذاق اڑایا جا رہا ہے! کیلیبری نامی فانٹ سے متعلق سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر تیرہ جولائی کی دوپہر ایک بجے تک پچیس ہزار سے زائد پیغامات کا تبادلہ ہو چکا تھا اور اِس بارے میں تبصرہ کرنیوالوں کی اکثریت اِس جعلسازی کی مختلف الفاظ میں مذمت کر رہی ہے۔ اگر مریم نواز شریف ٹیکنالوجی کے استعمال میں اپنی عقل اور آئینی مشیروں پر بھروسہ کرنے کے ساتھ کسی ’ٹیکنالوجی آشنا‘ سے بھی مدد لینا اپنی شان کی توہین نہ سمجھتیں تو اُنہیں ایک ایسی رسوائے زمانہ صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا جس میں اُن کی پیش کردہ دستاویز جعلی قرار پائی ہے سوشل میڈیا پر مریم نواز سے متعلق تبصرہ کرنے والوں کی نظر میں ’’ثابت ہوا ہے کہ بدعنوان عناصر ٹیکنالوجی کے بارے بہت کم جانتے ہیں اور ضروری نہیں سمجھتے کہ وہ ٹیکنالوجی کے سے متعلق علوم اور اس کے ارتقائی مراحل میں دلچسپی لیں۔‘‘