بریکنگ نیوز
Home / کالم / مسیحا کا انتظار

مسیحا کا انتظار

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی تہذیبوں اور ممالک کی عمر سینکڑوں برسوں پر محیط تھی، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی توانائی میں اضافہ ہوتا چلاگیا وہ اس خطے پر انسانی عمر کی طرح مختصر نہ تھیں سینکڑوں برس تو انہوں نے پنپنے اور قوی ہونے میں ایسے گزار دیئے جیسے ایک صحت مند انسان عنفوان شباب کے برس گزارتا ہے، یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ جو ممالک پاکستان کیساتھ ساتھ آزاد ہوئے یا ہمارے بعد وہ تو ہر لحاظ سے دن بہ دن تروتازہ اور توانا ہو رہے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں، سترواں برس شروع اور اسقام وآلام کا آغاز ہے وطن عزیزکی مثال اس سن رسیدہ انسان کی مانند ہوچلی ہے جسے نسیان کا مرض لاحق ہو چکا ہو جس کا حافظہ گویا ندارد شادضعیف اور جس کے سامعہ اور باصرہ میں حدت کم ہوگئی ہو اس ملک نے ملٹری ڈکٹیٹر شپ بھی دیکھی، یارلوگوں نے صدارتی نظام کا تجربہ کرکے بھی دیکھا اور پارلیمانی نظام کا پاکھنڈ بھی رچایا پر چونکہ جو کچھ بھی آزمایا نیم دلانہ طورپر آزمایا لہٰذا عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے چلے گئے آج اگر اس ملک کا عام آدمی دل برداشتہ ہو کر یہ کہہ رہا ہے کہ بھاڑ میں جائے یہ پارلیمانی جمہوریت، اس نے آخراسے دیا ہی کیا ہے؟ یہ تو اس کے دکھوں اور مسائل کا مداوا نہیں کرسکی تو اس کے پیچھے کئی وجوہ ہیں، بدقسمتی سے اداروں نے ایک دوسرے کے کاموں اور حدود میں اپنی ٹانگ اڑائی اور یہ جو جگہ جگہ آپ اس ملک میں خلفشار کی صورتحال دیکھ رہے ہیں یہ انہی اپنی اپنی حدود سے تجاوزات کا نتیجہ ہے اگر ہمارے حکمرانوں نے انتظامیہ کو اپنے گھر کی لونڈی نہ بنایاہوتا۔

اس میں افراد کی بھرتی صرف اور صرف میرٹ پر کی ہوتی، اسے الیکشن کے دوران اپنے حق میں استعمال نہ کیا ہوتا اور اسکے سر پر سے ملازمت اور پروموشن کے معاملات میں آئینی چھتری نہ ہٹائی ہوتی اور اپنے منظور نظر افراد کو کلیدی اسامیوں پر نہ بٹھایا ہوتا تو کسی پاکستانی کو بھی انتظامیہ اور پولیس سے کبھی گلہ نہ ہوتا اس صورت میں گڈ گورننس بھی ہوتی اور ہر پاکستانی کا انتظامیہ اور پولیس پر اندھا اعتماد بھی ہوتا، مان لیجئے کہ نظریہ ضرورت کے فلسفے کو غلط طورپر استعمال کرکے ماضی میں فوج اور عدلیہ سے بھی ایسی لغزشیں کئی مرتبہ ہوئیں کہ جو جمہوریت کیلئے سم قاتل ثابت ہوئیں۔مقننہ کا بنیادی کام یہ ہے کہ اگر مفاد عامہ کیلئے زندگی کے کسی شعبے میں نئی قانون سازی کی ضرورت ہوتو وہ اسے کرے یا اگر موجودہ قوانین کو بہتر بنانا مقصود ہو تو اس میں ترامیم کرے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اراکین اسمبلی اپنے اس بنیادی کام کی طرف کماحقہ توجہ نہیں دے رہے ہمارے اکثر اراکین اسمبلی عام آدمی کے مفادات کے تحفظ کے بجائے مفاد پرست طبقوں کی نمائندگی کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نیا قانون وہ پاس بھی کرتے ہیں تو وہ عوام دوست کے بجائے خواص دوست ہوتا ہے، خدا لگتی یہ ہے کہ ان میں اکثر شاذ ہی کبھی تاریخ‘ فلسفے‘ معاشیات‘سائنس یا دیگر علوم کی کتابیں پڑھتے ہوں۔

ایک دورتھا کہ جب ہماری اسمبلیوں میں ممتاز دولتانہ‘ حسین شہید سہروردی‘ ذوالفقار علی بھٹو کے پائے کے اراکین بیٹھتے تھے کہ جن کی اپنی ذاتی لائبریریوں میں ہزاروں کتابیں موجود ہوتیں، دنیا میں جو کتاب بھی شائع ہوتی وہ ان کی لائبریری میں سب سے پہلے پہنچا دی جاتی اب تو ہم من حیث القوم بشمول اراکین پارلیمنٹ کتابوں کے دشمن ہیں‘ ہمارے دلوں اور ذہنوں پر تالے پڑچکے ہیں‘ خدا ہی اب تو کوئی مسیحا بھیجے تاکہ اس قوم کی ان لوگوں سے جان چھوٹے کہ جنہوں نے اس ملک کے عام آدمی کے جسم سے خون کا آخری قطرہ بھی چوس لیا ہے، کبھی صدارتی نظام کے ذریعے تو کبھی پارلیمانی نظام کے نام پر۔