بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی تبدیلی کا موسم!

سیاسی تبدیلی کا موسم!


بچنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کردہ شواہد و حقائق کی روشنی میں کسی برسراقتدار وزیر اعظم کے لئے موجودہ وقت سے زیادہ بدتر الزامات کوئی اور نہیں ہوسکتے۔جے آئی ٹی کی رپورٹ نے شریف خاندان پر جھوٹے بیانات اور جعلی دستاویزات سے لے کر اپنی ذرائع آمدن اور مالی وسائل چھپانے اور اپنے وسائل سے بڑھ کر طرز زندگی گزارنے تک کئی الزامات عائد کئے ہیں گویا الزامات میں اضافہ ہو گیا ہے! متوقع طور پر‘ نواز شریف جھکنے کو تیار نظر نہیں آتے اور آخری دم تک آئینی و سیاسی جنگ لڑنے کے لئے پرعزم ہیں۔ اب یہ تو سپریم کورٹ پر ہے کہ وہ ان کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتی ہے! کوئی نہیں جانتا کہ پانامہ کیس کو ختم ہونے میں ابھی مزید کتنا وقت لگے گا لیکن جو ایک بات یقینی ہے کہ وہ ہے کہ اِس کا انجام کافی مشکلوں سے بھرپور ہوگا ممکن ہے کہ تیسری بار وزیر اعظم بننے والے کو عدالت اقتدار سے ہٹا کر ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلائے۔ ملک میں جنم لینے والی قانونی کشمکش شاید کافی عرصہ اور چلے جو ملک میں موجود سیاسی تقسیم کو مزید تقسیم کرنے کا باعث بھی بنے گی اس تاریخی عدالتی کاروائی کا نتیجہ سیاسی منظرنامے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گا اور ہوسکتا ہے کہ یہ شریف دور کے اختتام کی شروعات بھی ہو۔ نواز شریف کو دوسرا جھٹکا یہ لگا ہے کہ جے آئی ٹی نے ان کی بیٹی مریم نواز‘ جو بظاہر کافی عرصے سے ان کی جانشین کے طور پر نظر آ رہی ہیں۔

‘ پر جھوٹی دستاویزات جمع کروانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یوں اقتدار کو دوسری نسل میں منتقل کرنیکا شریف خاندان کا منصوبہ بھی ناکام ہو گیا ہو یہ تو ظاہر نظر آ رہا ہے کہ شریف خاندان کے بیرونی اثاثوں پر ایسی مفصل تحقیقات نے خود وزیر اعظم کو اچھنبے میں ڈال دیا ہے اگرچہ حکومت بالآخر تحقیقات کی سنجیدگی بھانپ چکی ہے مگر پھر بھی پراعتماد دکھائی دیتی ہے کہ وزیر اعظم اس مشکل صورتحال سے جیسے تیسے نکل ہی آئیں گے۔ بلاشبہ‘ آف شور کمپنیوں غیر ملکی بینکوں‘ اور شریف خاندان کے درمیان رابطوں کے ریکارڈ کی مدد سے اہم نکات حاصل ہوئے ہیں۔ اس تعاون کی تفصیلات بظاہر جے آئی ٹی رپورٹ کی دسویں جلد میں درج ہیں جسے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی نے دستاویزات کے اصلی یا نقلی ہونے کی فارنزک تصدیق کیلئے چند غیر ملکی تحقیقاتی اداروں کی خدمات بھی حاصل کیں ایسی ماہرانہ سہولت ہمارے وطن میں میسر ہی نہ تھی۔ جے آئی ٹی کے ٹھوس شواہد کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے لئے اس مشکل صورتحال سے نکلنا کافی مشکل ہوگا۔ شاید وہ یہ امید باندھے بیٹھے ہوں کہ ایک طویل قانونی اور سیاسی جنگ سے صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا۔ وزیر اعظم کا رضا کارانہ طور پر اقتدار سے دستبرداری کا کوئی اندیشہ نہیں‘ جس وجہ سے ملک کے اندر سیاسی غیر یقینی بھی بڑھ گئی ہے۔ سو پاناما پیپرز کی وجہ سے شروع ہونے والے موجودہ آئینی وسیاسی بحران کو ایک برس گزر جانے کے بعد بھی اس کے جلد اختتام کی کوئی اُمید نظر نہیں آ رہی۔ اگر حکومت معاملے کی پارلیمانی تحقیقات کرنے پر راضی ہو جاتی تو یہ معاملہ کب کا حل ہو گیا ہوتا۔ ان کے غرور و تکبر کی وجہ سے بالآخر اعلیٰ عدالت کو مداخلت کرنی پڑی۔

رواں سال اپریل میں پانچ رکنی بنچ کے حکم نامے کے بعد سے نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ بیچ میں اٹکا ہوا ہے اگرچہ وہ ایک موقع پر نااہل ہوتے ہوتے بچ گئے تھے مگر جے آئی ٹی کی تشکیل نے واضح کر دیا کہ ان پر سے خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ دلچسپ طور پر‘ کئی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے دائر کردہ پٹیشنز سے بھی بڑھ کر جے آئی ٹی کو تحقیقات کے اختیارات دیئے گئے اگرچہ وہ نافرمان ثابت ہو رہے ہیں مگر نواز شریف کے پاس اب آپشنز بھی بہت کم بچے ہیں۔ وہ عدالت کے حکم سنانے تک وزیر اعظم کے عہدے پر تو فائز رہ سکتے ہیں مگر وہ سیاسی اور اخلاقی اختیار بہت پہلے ہی گنوا چکے ہیں۔ کسی قسم کا تنازع نہ صرف موجودہ وفاقی حکومت کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا بلکہ یہ ملک میں سیاسی عمل کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا سنگین داخلی اور خارجی مسائل سے نبردآزما ہماراملک سیاسی عدم اعتماد اور عدم استحکام کی بگڑتی صورتحال اب مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ مسلم لیگ نواز ایک نیا وزیراعظم چن کر اب بھی اپنا اقتدار قائم رکھ سکتی ہے اور اپنے پانچ سال مکمل کر سکتی ہے جبکہ چند ماہ دور آئندہ عام انتخابات کی تیاری شروع کر دے یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کی مدد سے سیاسی عدم اعتماد کی فضا ختم کی جاسکتی ہے جمہوریت ذاتی طاقت و شخصی اقتدار کا نام نہیں بلکہ سب سے زیادہ اہم جمہوری عمل کا تسلسل قائم رکھنا ہے۔ ایک داغدار رہنما ملک میں نہ تو استحکام پیدا کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنی پارٹی کو عام انتخابات میں کامیابی دلوا سکتا ہے۔ فیصلے میں تاخیر سے وہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے اقتدار میں لوٹنے کے مواقع کھو دیں گے۔ وزیر اعظم کو سمجھ لینا چاہئے کہ اب وہ ایک بند گلی میں کھڑے ہیں اور اِس سے نکلنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اَنا کی بجائے دانشمندی سے کام لیں۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: زاہد حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)