بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / وزیراعظم نواز شریف اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے

وزیراعظم نواز شریف اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے


اسلام آباد۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ استعفیٰ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا ، کسی صورت ملک کو پیچھے نہیں جانے دوں گا ،عوام کی خاطر آخری دم تک لڑوں گا،سب ادوار میں اربوں کھربوں کے منصوبے لگائے لیکن رتی برابر بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی ،میرا ضمیر صاف ہے پورا یقین ہے سپریم کورٹ ہماری بات سنے گی ،جے آئی ٹی رپورٹ میں خاندان کے 62 سالہ کاروباری معاملات کو مفروضوں ، سورس رپورٹوں ، بہتانوں اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔مشرف کی آمریت کے سامنے جھکا اور نہ کبھی اصولوں پر سمجھوتہ کیا تیسرے دھرنے کی تیاری کی جارہی ہے ہر سازش اور الزام کا ڈٹ کر آئینی و قانونی دفاع کریں گے ۔ جمعہ کے روز وزیر اعظم کی زیر صدارت مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزراء ‘ سینیٹر ز و دیگر ارکان سمیت ناراض اراکین نے بھی شرکت کی تاہم وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ۔ وزیر اعظم نواز شریف اجلاس کی صدارت کے لئے پہنچے تو وہاں موجود ارکان نے پرزور تالیوں سے اور ڈیسک بجا کر ان کا پرتپاک استقبال کیا ۔وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں ایک لفظ ایسا نہیں کہ نوازشریف کسی کرپشن میں ملوث ہو، صرف حالیہ نہیں اپنے ہردورکی بات کرتا ہوں مجھ پرکبھی کرپشن کا الزام نہیں لگا، ہمارے کسی دورمیں کرپشن سمیت خرد برد کا کوئی کیس ہے تو بتایا جائے جبکہ کوئی ای او بی آئی، نندی پور، رینٹل پاور، نیشنل انشورنس کا کیس ہے توسامنے لائیں۔

نوازشریف نے کہا کہ پاکستان میں حکومتیں ہمیشہ کرپشن اورسکیورٹی رسک پرنکالی گئیں، پاکستان 70 سال سے جس طرح چل رہا ہے یہ واقعہ اس کا نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ مل کرآپریشن کا فیصلہ کیا اوردہشت گردی کی کمرتوڑ دی جب کہ ملک کو روشن کرنے کی کوشش کی سزا دی جا رہی ہے، چارسال میں موٹروے، توانائی کے کھربوں روپے کے منصوبے لگائے، پاکستان میں کسی سیاستدان نے اپنے آپ کو اس طرح احتساب کیلئے پیش نہیں کیا، کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی، کوئی این آراوسائن نہیں کیا، مجھے کہا گیا اس کاغذ پر دستخط کردو، میں نے کبھی عوام کے مینڈیٹ اورجمہوریت پرکمپرومائز نہیں کیا، بے نظیرکے ساتھ میثاق جمہوریت پردستخط کر کے بہت اچھا لگا جب بہت دکھ ہوا جب چند ہفتے بعد بے نظیرنے این آراو سائن کردیا، میری پرویز مشرف سے ملاقات کے لئے بہت کوششیں کی گئیں لیکن میں نے کہا اب اس نصب العین سے نہیں ہٹ سکتا،وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ عدلیہ بحالی کی جنگ لڑی تو آج باتیں کرنے والے چھپ گئے تھے، کسی خطرے کی فکر کئے بغیر جان ہتھیلی پررکھ کرعدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی اورآئین، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں، ہمارے آتے ہی مہم شروع کر دی گئی، دھرنے کا کوئی جوازنہ تھا، آپ کے مینڈیٹ پر وار ہورہا ہے جبکہ یہ تیسرے دھرنے کی تیاری ہے، بڑے واقعات ہوئے جو میں مجمع میں نہیں بتا سکتا، بعض اوقات دل کرتا ہے سب کچھ بتا دوں پرایسا وقت ضرورآئے گا۔نوازشریف نے کہا کہ شرح نمو5.4 فیصد ہوگئی، اگلے سال کا ہدف 6 فیصد ہے، ترقی کے اسی راستے پر چلتے رہے تو بڑے ممالک سے آگے نکل جائیں گے۔

ڈکٹیٹر کے دورمیں پاکستان ڈیفالٹ کرنے لگا تھا، ملک ناکام ریاست سمجھا جارہا تھا، آج پاکستان کو دوبارہ سے پیچھے کی جانب دھکیلا جارہا ہے لیکن میں انشاء4 اللہ ملک کو پیچھے نہیں جانے دوں گا اور پاکستان کے عوام کی خاطر آخری دم تک لڑوں گا۔وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ استعفا وہ لوگ مانگ رہے ہیں جنہوں نے ہمیں ووٹ بھی نہیں دیا، ان کے سارے ووٹ اکٹھے کرکے بھی مسلم لیگ ن کے ووٹ زیادہ ہیں، منفی پراپیگنڈے کے باوجود آپ کو کھڑے رہنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اتحاد ہی ہمارا اثاثہ اور سب سے بڑی فتح ہے اور آخری وقت تک مقابلہ کریں گے، یقین ہے سپریم کورٹ ہماری بات سنے گی، میراضمیر صاف ہے، استعفا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ نوازشریف نے مزید کہا کہ متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ ہمارے مخالفین کے بے بنیاد الزاما ت کا مجموعہ ہے، رپورٹ میں ہمارے موقف اور ثبوتوں کو جھٹلانے کے لیے کوئی ٹھوس دستاویز پیش نہیں کی گئی، خاندان کے 62 سالہ کاروباری معاملات کو مفروضوں ، سورس رپورٹوں ، بہتانوں اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، رپورٹ کے 4 ہزار صفحات میں کرپشن ، بدعنوانی کا کوئی الزام تک نہیں لگایا جاسکا۔ وزیراعظم نوازشریف نے مزید کہا کہ سیکڑوں ترقیاتی منصوبوں میں کوئی ایک پیسے کی کک بیکس ، کمیشن یا بدعنوانی کا کوئی داغ، کچھ تو بتاؤ تو کہ کسی کنٹریکٹ، کسی ٹھیکے یا کسی منصوبے میں نواز شریف نے رتی بھر بھی بدعنوانی کی ہو۔انہوں نے کہا کہ عوام عوامی مینڈیٹ لے کر حکومت میں آئے لیکن ہمارے آتے ہی مہم شروع کر دی گئی ۔ دھرنوں ‘ دھاندلیوں اور اب پانامہ کو ایشو بنا کر حکومت کو ہٹانے کی سازشیں عروج پر ہیں ۔ اس چالہ سالہ دور میں بڑے واقعات ہوئے جو میں مجمعے میں نہیں بتا سکتا لیکن انشاء اللہ ایک وقت آئے گا جب ساری چیزیں باہر آئیں گی اور عوام جان سکیں گے کہ وہ کون لوگ تھے جو جمہوریت اور ملک کو واپس تاریک دور میں دھکیلنا چاہتے تھے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ مخالفین مجھ سے استعفیٰ مانگنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن یہ تو بتایا جائے کہ آخر میں نے کس سے رشوت لی ہے جس کی بنیاد پر میں مستعفی ہو جاؤں ۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف کرپشن میں ملوث ہے ۔

ماضی کو چھوڑیں تو موجودہ دور میں کوئی کرپشن کیس ہی بتا دیں ان چار سالوں میں توانائی کے بڑے منصوبے بنائے گئے پورے ملک میں ترقیاتی کام ہوئے اور ہو رہے ہیں کوئی تو یہ بتائے کہ آخر ان میں کہاں پر کرپشن کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے ساتھ ہاتھ ملانے کی کوششیں کی گئیں لیکن میں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔ بے نظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت کیا جو ملک کے لئے ضروری تھا کسی آمر کے سامنے سر نہیں جھکا ۔ واحد سیاست دان ہوں جس نے خود کو سب سے زیادہ احتساب کے لئے پیش کیا ۔ عدلیہ بحالی کے لئے جنگ اس وقت لڑی جب مفاد پرست اور مخالفین چھپتے پھر رہے تھے عدلیہ آئین و قانون کی بالادستی کا احترام کرتے ہیں لیکن کسی کو بھی بے جا الزامات کی بنیاد کی بنیاد پر جمہوریت اور جمہوری منتخب حکومت کے خلاف سازش نہیں کرنے دیں گے ۔ میرا دامن صاف اور ضمیر مطمئن ہے لہذا بے جا الزامات پر استعفی دینے کی بجائے عدالت عظمی میں بھرپور قانونی آئینی جنگ لڑیں گے ۔اس موقع پر تمام شرکاء نے بشمول چھ ناراض ارکان جن میں خالد کانجو ‘ ارمغان سبحانی ‘ سکندر بوسن و دیگر نے بھی وزیر اعظم کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ’’ قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔